عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

فروری 2025 کے لیے’سیکریٹریٹ اصلاحات ’پر ماہانہ رپورٹ کا 19واں ایڈیشن جاری


سال 2025-2021تک صفائی مہم میں اسکریپ کی فروخت سے کل حاصل ہونے والی آمدنی 2666 کروڑ روپے ہے

دسمبر 2024 سے فروری 2025 کے درمیان سکریپ سے 301.98 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی گئی۔

فروری 2025 کے دوران 5825 دفاتر میں صفائی مہم کے تحت 1.05 لاکھ فائلوں کو نمٹایاگیا

Posted On: 28 MAR 2025 1:22PM by PIB Delhi

پرسنل، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت کے تحت انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات کا محکمہ( ڈی اے آر پی جی) نے فروری 2025 کے لیے اپنی ماہانہسیکریٹریٹ اصلاحات رپورٹ کا 19واں ایڈیشن جاری کیا ہے۔ رپورٹ میں (i) صفائی اور زیر التوا معاملات کو کم سے کم سطح تک لے جانے، (ii) فیصلے کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے، (iii) ای-آفس کے نفاذ اور تجزیے کے ذریعے حکمرانی اور انتظامیہ کو تبدیل کرنے کے مقصد سے جاری اقدامات کا جامع تجزیہ فراہم کیا گیا ہے۔

1.jpg

اس ایڈیشن میں درج ذیل بھی شامل ہیں:

  • شہری مرکزیت پر مبنی بہترین طریقے
  • توجہ کا مرکز: وزارت خارجہ( ایم ای اے)
  • ای-آفس کے نفاذ  کے لیےکابینہ سکریٹریٹ کی ہدایات ۔

فروری 2025 کی رپورٹ کی اہم خصوصیات:

  1. صفائی اور زیر التوا معاملوں میں کمی:
  • ملک بھر میں 5,825 صفائی مہمات کامیابی کے ساتھ چلائی گئیں۔
  • دفاتر میں تقریباً 3.47 لاکھ مربع فٹ جگہ خالی کی گئی، جس میں کوئلہ کی وزارت (1,41,721 مربع فٹ) اور ریلوے کی وزارت (51,928 مربع فٹ) کا سب سے زیادہ تعاون رہا۔
  • اسکریپ کے ذریعہ 156.41 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی، جس میں ریلویز، بھاری صنعت اور کوئلہ جیسے وزارتوں کا اہم کردار رہا۔
  • مؤثر ریکارڈ مینجمنٹ کے تحت 1,74,565 فزیکل فائلوں کا جائزہ لیا گیا ہے، 1,05,818 فائلوں کو ختم کیا گیا، ہے ساتھ ہی 67,457 ای-فائلوں کا  بھی جائزہ لیا گیا اور ان میں سے 38,451 کو بند کر دیا گیا ہے۔
  • 762 پارلیمنٹ کے اراکین کے حوالاجات اور 291 ریاستی حکومت کے حوالاجات کے ساتھ ساتھ4,80,422 عوامی شکایات کا تصفیہ کیا گیا (91.21؍فیصد شکایات کا تصفیہ)۔

 

پیمانہ؍ مد

ایس سی  1.04.0

دسمبر-24-فروری25

کل

رینو حاصل ہوئے(روپے میں)

2364.07

301.98

2666.02

  •  

2.بہترین طرز عمل: شہری-مرکزی اقدامات:

  • وزارتوں اور محکموں نے شہری مرکزیت پر مبنی جدید طریقوں کو نافذ کیا، جس سے شفافیت اور عوامی رسائی میں اضافہ ہوا۔ اس کی مثالیں درج ذیل ہیں:
  • الیکٹرانکس نکیتن، وزارت برائے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آر ٹی آئی اور عوامی شکایات کا دفتر۔
  • بی ای ایل بریج وِہار کالونی، غازی آباد، وزارت دفاع میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری۔
  • وزارت خزانہ کے محکمہ عوامی اداروں میں سہولتوں میں بہتری۔
  • کولکاتا میں آیکر بھون، سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز میں محفوظ ذخیرہ کے لیے چھت کی دوبارہ ترتیب۔

3.فیصلہ سازی اور ای-آفس کے نفاذ اور تجزیات  کارکردگی میں اضافہ:

  • کام میں تیزی کے اقدامات کو اپنانے سے فعال فائلوں کے لیے اوسطاً مختلف ٹرانزیکشن کی سطحوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جو 2021 میں 7.19 تھی اور فروری 2025 تک یہ 4.24 ہو گئی ہے۔
  • فروری 2025 میں بنائی گئی فائلوں میں سے 92.70؍فیصد ای-فائلز تھیں، جو جنوری 2025 میں 92.56؍فیصد سے بہتر ہیں۔
  • 94.55 فیصد رسیدوں کی پروسیسنگ ای-رسیدوں کے ذریعے کی گئی، جس میں 37 وزارتوں/محکموں نے شاندار سطح پر 100؍فیصد ای-فائلز اپنانے میں کامیابی حاصل کی۔ فروری 2025 کے لیے 19 وزارتوں/محکموں نے ای-رسیدوں میں 100؍فیصد حصہ حاصل کیا۔
  • وزارتوں کے درمیان فائلوں کی منتقلی میں نمایاں کمی آئی ہے، جو جنوری 2025 میں 3,238 فائلوں کی نسبت 2,959 فائلوں تک محدود ہو گئی ہے، جو انتظامی عمل کی بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔

 

یہ اقدامات، انتظامی عمدگی اور جوابدہ عوامی انتظامیہ کے وسیع تر مقصد کے ساتھ ہم آہنگ، حکومتِ ہند کی ڈیجیٹل طور پر فعال، شفاف، مؤثر اور شہری مرکوز حکمرانی کے لیے مسلسل عزم کو اجاگر کرتے ہیں۔

* * * ** * * *

ش ح۔م ع ن-ا ک م

U-NO: 9110


(Release ID: 2116155) Visitor Counter : 28