صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدر جمہوریہ ہند نے سمبیوسس انٹرنیشنل کے 21ویں جلسہ تقسیم اسناد میں شرکت کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 SEP 2024 2:47PM by PIB Delhi

صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (3 ستمبر 2024) پونے، مہاراشٹر میں سمبیوسس انٹرنیشنل (ڈیمڈ یونیورسٹی) کے 21ویں جلسہ تقسیم اسناد میں شرکت کی۔

صدر جمہوریہ نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ اس قابل ہو چکے ہیں کہ اپنی شخصیت اور علم سے ملک اور بیرون ملک مثبت تبدیلی لاسکتے ہیں۔ وہ اختراع، مصنوعی ذہانت، اور مشین لرننگ کے ذریعے منیجمنٹ، صحت کی دیکھ بھال، قانون، سماجی علوم اور دیگر شعبوں میں موثر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ انہوں نے  طلبا سے اپیل کی  کہ وہ ملک کی مختلف برادریوں اور خطوں کی ثقافت اور ان کی موجودہ ضروریات کو سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس علم کی بنیاد پر انہیں سافٹ ویئر، ہیلتھ کیئر پروڈکٹس اور مارکیٹنگ کی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے جو ہر کسی کی، خاص طور پر پسماندہ طبقوں کی ترقی میں معاون ہوں اور پائیداری کو بھی فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپ انڈیا، اسکل انڈیا، میک ان انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا جیسے اقدامات سے بھی ان کے مقاصد کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سمبیوسس انٹرنیشنل میں زیر تعلیم تقریباً 33000 طلباء میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد تقریباً برابر ہے، صدر  جمہوریہنے کہا کہ ناری شکتی کی ترقی نہ صرف شہریوں کے لیے باعث فخر ہے، بلکہ یہ ملک کی ترقی کے لیے ایک اہم پیمانہ بھی ہے۔ انہیں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ سمبیوسس ڈیمڈ یونیورسٹی صنفی مساوات کو ترجیح دے رہی ہے اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مناسب ماحول اور سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے تمام تعلیمی اداروں سے اپیل کی  کہ وہ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے حوصلہ افزائی کریں اور ان کے لیے محفوظ اور معاون ماحول پیدا کریں۔

صدر جمہوریہ نے ’سمبیوسس آروگیہ دھام‘ کے قیام کی تعریف کی جو کہ طبی خدمات کو بہتر بنانے کی سمت ایک قدم ہے۔ انہوں نے اس بات پر  خوشی  کا اظہار کیا کہ سمبیوسس ڈیمڈ یونیورسٹی کیمپس کے آس پاس کے گاؤوں  میں موبائل فیملی ہیلتھ کلینک چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی کے ساتھ قدر پر مبنی تعلیم فراہم کرنا تمام تعلیمی اداروں کا مقصد ہونا چاہیے۔

صدر  جمہوریہ نے سمبیوسس یونیورسٹی کے پروفیسرز، فیکلٹی ممبران اور سابق طلباء پر زور دیا کہ وہ تعلیمی نظام میں تحقیق کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ برسوں کی تحقیق نئی ایجادات کا باعث بنتی ہے اور چیلنجز کے نئے حل فراہم کرتی ہے۔ ہندوستان کے ریسرچ اسکالر نہ صرف ملک بلکہ دنیا کے مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قومی تعلیمی پالیسی تحقیق کو فروغ دینے پر بھی زور دیتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر  خوشی  ظاہر کی  کہ یونیورسٹی میں کثیر موضوعاتی تحقیقی مراکز بہت سے موضوعات پر کام کر رہے ہیں جن میں واٹر ریسورس مینجمنٹ، اسٹیم سیل، نینو سائنس اور کلائمیٹ چینج شامل ہیں۔

صدر جمہوریہ نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ ہر کام میں کمال حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے طلبا سے کہا کہ انہوں نے یہ کہاوت ضرور سنی ہو گی - بہترین کارکردگی اور کامیابی کی کوشش کریں۔ لیکن کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ زیادہ پیسہ، بڑا گھر، بڑی گاڑی اور دیگر چیزوں کو کامیابی کی علامت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وہ کامیابی کے حقیقی معنی کو سمجھیں گے اور ایسا کام کریں گے جس سے دوسروں کا معیار زندگی بھی بلند ہو۔

صدرجمہوریہ کی  تقریر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح۔ا گ ۔ن ا۔

U-10481


(ریلیز آئی ڈی: 2051298) وزیٹر کاؤنٹر : 93