قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی حکومت ضلع اور ماتحت عدالتوں میں بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کی ترقی کے لیے مرکزی اسپانسر شدہ اسکیم کو نافذ کر رہی ہے


عدالتی بنیادی ڈھانچے پر اخراجات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 AUG 2024 4:40PM by PIB Delhi

قانون اور انصاف کی وزارت  کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور پارلیمانی امور کی وزارت میں وزیر مملکت جناب ارجن رام میگھوال نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ مرکزی حکومت ضلع اور ماتحت عدالتوں میں بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کی ترقی کے لیے ایک مرکزی اسپانسر شدہ اسکیم (سی ایس ایس) کو نافذ کر رہی ہے۔اس اسکیم کے تحت ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کو مقررہ فنڈ شیئرنگ پیٹرن میں مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت نے اس سی ایس ایس کو مزید 5 سال کے لیے 01.04.2021 سے 31.03.2026 تک جاری رکھنے کی منظوری دےدی ہے، جس میں 5307 کروڑ روپے کا مرکزی حصہ بھی شامل ہے۔

22-2021 سے آج تک، مرکزی حکومت نے اس اسکیم کے تحت ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 2986.80 کروڑ روپے کی رقم جاری کی ہے، جس میں سے مہاراشٹر کو 267.64 کروڑ جاری کیے گئے ہیں۔22-2021 سے فنڈز کے ریاست کے لحاظ سے اخراجات ضمیمہ-I میں ہیں۔

94-1993 میں اس اسکیم کے آغاز سے لے کر آج تک ڈسٹرکٹ اور ماتحت عدالتوں میں 20,371 جوڈیشل افسران کی افرادی قوت کے مقابلے میں 23,074 عدالتی ہال اور 20,889 رہائشی یونٹس تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ ریاست مہاراشٹر کے معاملے میں، آج تک اس اسکیم کے تحت 3,683 کورٹ ہال اور 3,597 رہائشی یونٹ تعمیر کیے گئے ہیں۔ کورٹ ہالز اور رہائشی یونٹس کے ساتھ کورٹ ہالز اور زیر تعمیر رہائشی یونٹس کی ریاستی سطح پر دستیابی ضمیمہ II میں پیش کی گئی ہے۔

اس اسکیم کا مقصد ماتحت عدالتوں کے فزیکل بنیادی ڈھانچےکو بتدریج بہتر بنانا ہے اور ملک میں ضلعی اور ماتحت عدالتوں کے عدالتی افسران کی رہائش کی ضروریات کو بھی پورا کرنا ہے، تاکہ انصاف کی فراہمی کو بہتر بنایا جاسکے۔ 2021 تک، اس اسکیم کے تحت صرف دو اجزاء کا احاطہ کیا گیا تھا، جوڈیشل یعنی عدالتی افسران کے لیے کورٹ ہال اور رہائشی یونٹس کی تعمیرکی گئی ہے۔ البتہ2021 میں اسکیم کو توسیع دیتے ہوئے، اسکیم میں تین اضافی اجزاء شامل کیے گئے،ان میں  (i) وکلاء کے ہالز کی تعمیر، (ii) بیت الخلاء کمپلیکس اور (iii) وکلاء اور مدعیان کی سہولت کے لیے ڈیجیٹل کمپیوٹر روم شامل ہیں۔

 

ضمیمہ-I

 

نمبرشمار

ریاست کانام

(22-2021 سے آج تک) منظورشدہ /مختص کردہ فنڈز (کروڑ روپئے میں )

(22-2021 سے آج تک ) استعمال شدہ فنڈ

(کروڑ روپئے میں )

 

1

آندھرا پردیش

72.32

47.92

 

2

بہار

106.44

85.74

 

3

چھتیس گڑھ

83.87

79.39

 

4

گوا

33.25

29.73

 

5

گجرات

101.84

74.08

 

6

ہریانہ

20.10

9.85

 

7

ہماچل پردیش

11.62

5.69

 

8

جھارکھنڈ

63.32

56.26

 

9

کرناٹک

242.18

232.17

 

10

کیرالہ

72.89

55.30

 

11

مدھیہ پردیش

320.40

284.74

 

12

مہاراشٹر

267.64

267.64

 

13

اوڈیشہ

96.05

78.03

 

14

پنجاب

47.42

39.02

 

15

راجستھان

222.75

194.13

 

16

تمل ناڈو

169.51

134.70

 

17

تلنگانہ

26.61

16.21

 

18

اتر پردیش

396.08

318.88

 

19

اتراکھنڈ

109.89

101.63

 

20

مغربی بنگال

40.22

21.27

 

میزان (اے)

2,504.40

2,132.38

1

اروناچل پردیش

36.47

16.02

 

2

آسام

105.41

91.71

 

3

منی پور

14.56

12.67

 

4

میگھالیہ

120.53

112.76

 

5

میزورم

18.36

18.36

 

6

ناگالینڈ

17.66

14.96

 

7

سکم

4.96

1.88

 

8

تریپورہ

40.48

24.83

 

میزان (بی)

358.43

293.19

1

انڈمان اور نکوبار جزائر

0.95

0.95

 

2

چندی گڑھ

0.00

0.00

 

3

دادرا اور این ایچ

0.00

0.00

 

4

دمن اور دیو

0.00

0.00

 

5

لکشدیپ

0.00

0.00

 

6

لداخ

2.40

2.40

 

میزان (سی)

3.35

3.35

1

دہلی

46.50

29.84

 

2

پڈوچیری

9.55

3.01

 

3

جموں و کشمیر

64.60

43.78

 

میزان (ڈی)

120.65

76.63

کل میزان (اے + بی + سی + ڈی)

2,986.83

2,505.55

 

 

 

 

 

 

 

اس میں آج تک منظورشدہ / مختص کردہ اور استعمال شدہ فنڈز کی تفصیل فراہم کی گئیں ہیں

ضمیمہ- II

آج تک دستیاب عدالتی بنیادی ڈھانچے کے بارے میں ریاست کے لحاظ سے تفصیل

نمبر شمار

ریاستیں اورمرکز کے  زیر انتظام علاقے

کل عدالتی ہالس

زیرتعمیر کل عدالتی ہالس

کل رہائشی یونٹس

زیرتعمیر کل رہا ئشی یونٹس

1

انڈمان اور نکوبار

15

0

11

0

2

آندھرا پردیش

648

90

600

13

3

اروناچل پردیش

34

5

32

2

4

آسام

421

72

385

19

5

بہار

1541

184

1202

308

6

چندی گڑھ

29

1

29

0

7

چھتیس گڑھ

495

58

453

837

8

داد و نگر حویلی

3

0

3

0

9

دمن اور دیو

5

3

5

0

10

دہلی

699

0

348

70

11

گوا

47

32

20

0

12

گجرات

1509

97

1360

65

13

ہریانہ

575

75

558

65

14

ہماچل پردیش

178

10

155

7

15

جموں و کشمیر

202

46

138

8

16

جھارکھنڈ

650

12

583

0

17

کرناٹک

1230

166

1185

47

18

کیرالہ

571

67

555

30

19

لداخ

11

0

4

0

20

لکشدیپ

3

0

3

0

21

مدھیہ پردیش

1602

392

1769

154

22

مہاراشٹر

3683

531

3597

144

23

منی پور

42

8

16

6

24

میگھالیہ

70

25

69

90

25

میزورم

47

32

38

8

26

ناگالینڈ

30

4

39

0

27

اوڈیشہ

836

156

736

97

28

پڈوچیری

34

0

27

0

29

پنجاب

610

21

624

33

30

راجستھان

1385

350

1175

157

31

سکم

20

6

15

1

32

تمل ناڈو

1242

40

1363

7

33

تلنگانہ

549

21

472

5

34

تریپورہ

83

27

80

33

35

اتر پردیش

2835

329

2555

258

36

اتراکھنڈ

253

66

212

3

37

مغربی بنگال

887

96

473

26

میزان

23074

3022

20889

2493

*نیائے وکاس پورٹل کے مطابق

 

 

 

 

 

********

ش ح۔ ع م ۔ف ر

 (U: 9181)


(ریلیز آئی ڈی: 2040559) وزیٹر کاؤنٹر : 95