صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

مرکزی وزارت صحت نے چین میں لوگوں کی صحتی صورتحال کے مدنظر سانس کی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے تیاریوں سے متعلق اقدامات کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے


ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی صحت عامہ اور ہسپتالوں کی تیاری سے متعلق اقدامات کا فوری طور پر جائزہ لینے کی صلاح دی

تمام ریاستیں/ مرکز کے زیر انتظام علاقے ’کووِڈ۔19 سے متعلق نظرثانی شدہ نگرانی کی حکمت عملی کے لیے آپریشنل رہنما خطوط جاری کریں گے‘

ضلع اور ریاست کی نگرانی کے ذریعہ آئی ایل آئی / ایس اے آر آئی کے رجحانات پر باریکی سے نظر رکھی جائے گی

خصوصاً انفلوینزا، مائیکوپلازما نمونیا، سارس – کوو-2 جیسی عام وجوہات سے سانس کی بیماری میں اضافہ

وزارت صحت اس صورتحال پر باریکی سے نظر رکھے ہوئے ہے؛ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے

Posted On: 26 NOV 2023 2:04PM by PIB Delhi

مرکزی وزارت صحت نے حالیہ ہفتوں میں شمالی چین میں بچوں میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ کا اشارہ دینے والی حالیہ رپورٹوں کے مدنظر خاصی احتیاط  برتنے کے مقصد سے، سانس کی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کے سلسلے میں کیے جا رہے  اقدامات کا تفصیلی طور پر جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ موجودہ انفلوینزا اور سردی کے موسم کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، جس کے نتیجے میں سانس کی بیماری میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت ہند اس پر باریکی سے نظر رکھ رہی ہے۔ حکومت ہند نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

مرکزی وزیر صحت کے ذریعہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تحریر کیے گئے ایک مراسلے میں، انہیں صحت عامہ اور ہسپتال کی تیاریوں کا فوری  طور پر جائزہ لینے کی صلاح دی گئی ہے۔ انسانی وسائل، ہسپتال میں فلو کے لیے ادویات اور ٹیکے، میڈیکل آکسیجن، اینٹی بایوٹک ادویات، نجی تحفظ کے آلات، ٹیسٹنگ کٹ اور ریجنٹ ، آکسیجن پلانٹ اور وینٹی لیٹر کی وافر دستیابی، صحتی خدمات میں انفیکشن کی روک تھام کے وافر اقدامات ان میں شامل ہیں۔

تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ’کووِڈ19 سے متعلق نظرثانی شدہ نگرانی کی حکمت عملی، آپریشنل رہنما خطوط‘ نافذ کرنے کی صلاح دی گئی ہے، جسے اس سال کے آغاز میں جاری کیا گیا تھا اور جو انفلوینزا جیسی بیماری (آئی ایل آئی) اور سانس کی سنگین بیماری (ایس اے آر آئی) کے معاملات کے طور پر پیش ہونے والے سانس کے پیتھوجنز کی مربوط نگرانی فراہم کرتا ہے۔ انہیں اس امر کو یقینی بنانے کے لیے بھی کہا گیا ہے کہ مربوط بیماری نگرانی  پروجیکٹ (آئی ڈی ایس پی) کی ضلعی اور ریاستی نگرانی اکائیوں کے ذریعہ خصوصی طور پر بچوں اور نوزائیدہ  میں آئی ایل آئی / ایس اے آر آئی کے رجحانات کی باریکی سے نگرانی کی جانی چاہئے۔ خصوصاً میڈیکل کالج کے ہسپتالوں سمیت صحت عامہ کے اداروں سے حاصل ہونے والے آئی ایل آئی/ ایس اے آر آئی کے ڈاٹا کو آئی ڈی ایس پی – آئی ایچ آئی پی پورٹل پر اپلوڈ کرنا ضروری ہے۔ ریاستوں نے سانس کی جانچ کے لیے ریاستوں میں موجود وائرس ریسرچ اینڈ ڈائیگناسٹک لیباریٹریز (وی آر ڈی ایل) کو ایس اے آر آئی والے مریضوں، خصوصاً بچوں اور نوزائیدہ کے ناک اور گلے کے سویب نمونے بھیجنے کے لیے کہا ہے۔ ان احتیاطی اور جامع اقدامات کے نتیجے میں کسی بھی ممکنہ صورتحال کا مقابلہ کرنے اور شہریوں کی سلامتی اور فلاح و بہبود کی توقع کی جاتی ہے۔

حال ہی میں، عالمی صحتی تنظیم کے ذریعہ ساجھا کی گئی جانکاری سے چین کے شمالی حصوں میں سانس کی بیماری میں اضافہ کا اشارہ ملا ہے۔ خصوصاً انفلوینزا، مائیکوپلازما نمونیا، سارس – کوو-2 وغیرہ کی عام وجوہات کو اس کے لیے ذمہ دار بتایا گیا ہے۔ عالمی صحتی تنظیم کے مطابق، سردی کے موسم کی شروعات کے ساتھ مائیکوپلازما نمونیا جیسی سانس کی بیماریوں کا پھیلنا اور کووِڈ19 سے متعلق پابندیوں کا ہٹایا جانا بھی اس میں اضافے کا سبب بنا ہے۔ جبکہ عالمی صحتی تنظیم نے چین کے افسران سے مزید معلومات طلب کی ہیں، اس بات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ فی الحال گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

***

 

 (ش ح –ا ب ن۔ م ف)

U.No:1436



(Release ID: 1979956) Visitor Counter : 86