سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ بھدروا، بھارت میں لوینڈر کے مرکز اور زرعی اسٹارٹ اپ کی منزل کے طور پر ابھرا ہے


سی ایس آئی آر- آئی آئی آئی ایم نے ایک ہفتہ ایک تجربہ گاہ مہم کا اہتمام کیا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے ذریعہ لیونڈر میلے کی پہلے دن کی تقریبات کا آغاز کیا گیا

Posted On: 04 JUN 2023 4:15PM by PIB Delhi

یہ ہمارے لیے لمحہ فخریہ ہے۔۔۔ بھدروا، بھارت  میں لوینڈر  کے مرکز اور زرعی اسٹارٹ اپ کی منزل کے طور پر ابھرا ہے۔

یہ بات آج مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جموں خطے کے بھدروا میں دو روزہ لوینڈر میلے کا آغاز کرتے ہوئے کہی۔

سی ایس آئی آر- انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹیو میڈیسن، جموں نے  اس تقریب کا اہتمام اپنی ایک ہفتہ ایک تجربہ گاہ مہم کے حصے کے طور پر کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھدروا کو بھارت کے جامنی انقلاب کی جائے پیدائش اور زرعی اسٹارٹ اپ اداروں کی منزل قرار دیا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ وادیٔ بھدروا مرکز کی موجودہ ترقی پسند حکومت کی ترقی کی بہترین مثال ہے ، جس کا جشن بہت پہلے منایا جانا چاہئے تھا۔ بھدروا، زمین اور آب و ہوا کے لحاظ سے لیونڈر کی کاشت کے لیے بہترین مقام ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے خطے میں لیونڈر کی کاشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لیونڈر روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تحقیق کا ایک وسیلہ ہے جو ترقی کے متعدد راستے کھولتا ہے۔

لیونڈر کی کاشت نے متعدد کاشتکاروں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے اور یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے من کی بات کے 99ویں ایپی سوڈ میں سی ایس آئی آر – ایروما مشن کے تحت جموں و کشمیر کے ڈوڈہ ضلع میں واقع بھدروا میں لیونڈر کی کھیتی میں کاشتکاروں کو حمایت فراہم کرنے کے لیے کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریئل ریسرچ – انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹیو میڈیسن (سی ایس آئی آر- آئی آئی ایم)کی ستائش کی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’ کاشتکار کئی دہائیوں سے مکئی کی روایتی کاشت میں مصروف تھے، لیکن چند کاشتکاروں نے کچھ مختلف کرنے کا سوچا۔ انہوں نے پھولوں کی کاشت کی جانب رخ کیا۔ آج یہاں تقریباً ڈھائی ہزار کاشتکار لیوینڈر کی کاشت کر رہے ہیں۔ انہیں مرکزی حکومت کے ایروما مشن کے ذریعے بھی تعاون فراہم کیا گیا ہے۔ اس نئی کاشت سے کاشتکاروں کی آمدنی میں کافی اضافہ رونما ہوا ہے۔ ‘‘

سی ایس آئی آر- ایروما مشن سی ایس آئی آر کا ایک فلیگ شپ پروجیکٹ ہے جس کے تحت لیونڈر کی کاشت کو جموں و کشمیر کے معتدل خطے میں فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد چھوٹے اور حاشیے پر موجود کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ کرنا، اور زراعت پر مبنی اسٹارٹ اپ اداروں کو ترقی دینا ہے۔ اس پروجیکٹ کی نگرانی سائنس اور تکنالوجی کی وزارت کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) محترم ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے ذریعہ کی جا رہی ہے۔ ان کی ہدایت میں، سی ایس آئی آر-آئی آئی ایم بھدروا اور جموں کشمیر کے دیگر حصوں میں لیونڈر کی کاشت  کو فروغ دے رہا ہے۔

اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ سائنٹفک پہل قدمیوں کی کئی دہائیوں کے بعد، سی ایس آئی آر-آئی آئی ایم نے لیونڈر کی اعلیٰ قسم (آر آر ایل-12) اور زرعی تکنالوجی تیار کی ہے۔ لیونڈرکی قسم بھارت کے بارانی معتدل خطوں میں کھیتی کے لیے ازحد موزوں ہے۔ سی ایس آئی آر – ایروما مشن کے تحت، سی ایس آئی آر-آئی آئی ایم نے لیونڈر کو متعارف کرایا اور جموں وکشمیر کے مختلف اضلاع کے کاشتکاروں کو لیونڈر کے 30 لاکھ سے زائد پودے مفت فراہم کیے۔ کاشتکاروں کو لیونڈر کی کاشت، پروسیسنگ، قدر و قیمت میں اضافے، اور مارکیٹنگ کے لیے اینڈ ٹو اینڈ تکنالوجی پیکج  بھی فراہم کرایا گیا۔ کاشتکاروں کو ان کی مصنوعات کی ڈبہ بندی  میں مدد فراہم کرنے کے لیے سی ایس آئی آر – آئی آئی ایم نے جموں و کشمیر کے مختلف مقامات پر عرق نکالنے کی 50 اکائیاں (45 فکسڈ اور 5 موبائل)قائم کیں۔

جموں ڈویژن کے معتدل علاقوں میں مکئی کے بہت سے چھوٹے اور حاشیے پر موجود کاشتکاروں نے لیوینڈر کو کامیابی کے ساتھ اپنایا ہے۔ لیوینڈر کی کاشت نے جموں و کشمیر کے جغرافیائی طور پر دور دراز واقع علاقوں میں بڑی تعداد میں کسانوں اور نوجوان کاروباریوں کو ملازمت فراہم کی ہے۔سی ایس آئی آر-آئی آئی ایم کی دخل اندازی کی وجہ سے،  خطے میں لیونڈر کی کھیتی  سے متعلق ایک نئی صنعت تیار ہو گئی ہے۔ 2500 سے زائد کاشتکار جموں و کشمیر کے مختلف حصوں میں لیونڈر کی کھیتی کر رہے ہیں۔ پھولوں کی فصل کاٹنے اور پروسیسنگ  کے لیے لیونڈر کے کھیتوں میں خصوصی طور پر خواتین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، جس سے خطے میں خواتین کی آمدنی میں اضافہ رونما ہوا ہے۔ متعدد نوجوان صنعت کاروں نے  لیونڈر کے تیل ، ہائیڈروسول اور پھولوں کی قدرو قیمت میں اضافے کے ذریعہ چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کیے ہیں۔ سی ایس آئی آر- آئی آئی ایم نے لیونڈر کی کاشت، ڈبہ بندی، قدر و قیمت میں اضافے اور مارکیٹنگ کے لیے ہنرمندی ترقیات سے متعلق متعدد پروگراموں کا اہتمام کرکے جموں و کشمیر کے 2500 سے زائد کاشتکاروں اور نوجوان صنعت کاروں کو تربیت فراہم کی ہے۔

مکئی کی کھیتی کو چھوڑکر لیونڈر کی کھیتی کو اپنانے والے کاشتکاروں کی سالانہ آمدنی میں کئی گنا اضافہ رونما ہوا ہے اور یہ تقریباً 40000 روپئے سے 60000 روپئے فی ہیکٹیئر سے بڑھ کر 350000 روپئے سے 600000 لاکھ روپئے فی ہیکٹیئر ہوگئی ہے۔ بھدروا، ڈوڈہ ضلع کے کاشتکاروں نے سال 2019، 2020، 2021 اور 2022 میں بالترتیب 300 ، 500، 800 اور 1500 لیٹر کے بقدر لیونڈر تیل پیدا کیا ۔ انہوں نے  خشک پھولوں، لوینڈر کے پودوں اور لیونڈر کے تیل کو فروخت کرکے 2018-2022 کے دوران 5 کروڑ روپئے سے زائد کمائے۔ ایروما مشن کے تحت سی ایس آئی آر-آئی آئی ایم، جموں کے ذریعہ جموں و کشمیر کے کاشتکاروں کو لیونڈر کی کاشت کے لیے اینڈ ٹو اینڈ تکنالوجی کی کامیاب منتقلی  سے متعلق خبر کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ اہمیت دی گئی۔میڈیا نے سی ایس آئی آر-آئی آئی ایم  کی اس پہل قدمی کو ’’جامنی انقلاب‘‘ کے طور پر تسلیم کیا۔ سی ایس آئی آر-آئی آئی ایم نے جموں وکشمیر میں جامنی انقلاب کے سلسلے میں دیہی ترقی کے لیے ایس اینڈ ٹی اختراع کا سی ایس آئی ایوارڈ (سی اے آئی آر ڈی-2020)حاصل کیا۔

اس موقع پر  سی ایس آئی آر-آئی آئی سی ٹی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ڈی سری نواس ریڈی، سی ایس آئی آر-آئی آئی ایم، جموں کے ڈائرکٹر ڈاکٹر زبیر احمد، ڈی ڈی سی چیئرمین، ڈوڈہ، دھانیتر سنگھ، ڈی ڈی سی کی نائب چیئرمین، ڈوڈہ، سنگیتا رانی بھگت، ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ، وشیش پال مہاجن جیسی سرکردہ شخصیات بھی موجود تھیں۔

**********

 

(ش ح –ا ب ن۔ م ف)

U.No:5807



(Release ID: 1929754) Visitor Counter : 99