زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

ہندوستان کی زیر صدارت جی 20 کی 100ویں ایگریکلچر چیف سائنٹسٹ (ایم اے سی ایس) میٹنگ وارانسی میں کامیابی سے اختتام پذیر ہوئی

Posted On: 19 APR 2023 4:17PM by PIB Delhi

وارانسی میں ’’پائیدار زراعت اور صحت مند افراد اور کرہ ارض کے لئے خوراک کے نظام‘‘ کے موضوع پرجی 20 ممالک کے زراعت کے چیف سائنسدانوں (ایم اے سی ایس) کا اجلاس کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔

 

 

17 اپریل 2023 کو اس پروگرام کا افتتاح شہری ہوا بازی اور سڑک نقل وحمل  اور شاہراہوں کے  مرکزی وزیر مملکت جنرل (ڈاکٹر) (ریٹائرڈ)  وی کے  سنگھ  نے کیا ۔

میٹنگ میں جی20 رکن ممالک کے 80 مندوبین، مدعو مہمان ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور ہندوستان سے خصوصی مدعو افراد نے شرکت کی۔

ڈاکٹر ہمانشو پاٹھک، سکریٹری(ڈی اے آر ای) اور ڈائریکٹر جنرل (آئی سی اےآر) نے تین روزہ (17 سے 19 اپریل 2023) میٹنگ کی کارروائی کی صدارت کی۔

زرعی خوراک کے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے اختراعات اور ٹیکنالوجیز، غذائی تحفظ اور غذائیت کے حصول کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی میں فرنٹیئرز، غذائی قدر میں اضافے کے لیے غذائی فصلوں میں حیاتیاتی قلعہ بندی، غذائیت اور نیلگوں انقلاب کے لیے فراواں سمندری نباتات کی کاشت اوردیگر قدیم اناج سے متعلق بین الاقوامی تحقیقی پہل (مہارشی) ، ایک مربوط اور متحدہ نقطہ نظر کے طور پرون ہیلتھ، مربوط کارروائی کے لیے شراکت داری اور حکمت عملی بنانے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ دیگر موضوعات جیسے کہ - سرحدی کیڑوں اور بیماریاں، پائیدار زرعی خوراک نظام کے لیے تحقیق و ترقی کی ترجیحات، موسمیاتی لچکدار ٹیکنالوجیز اور پائیدار زرعی خوراک کے نظام کے لیے اختراعات، قدرتی کاشتکاری، لچکدار زرعی خوراک کے نظام کی تعمیر کے لیے سائنس اور اختراع، نامیاتی این آئی بی این آئی بی میں جی ایچ ایس کے اخراج کو کم کرنے اور فصلوں کی پیداوار بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مندوبین نے ڈیجیٹل زراعت اور پائیدار زرعی ویلیو چین، زراعت کے تحقیق  و ترقی میں عوامی اور نجی شراکت داری  اور میکس کمیونیک پر تبادلہ خیال کیا۔

 

 

ڈیجیٹل ایگریکلچر اینڈ ٹریس ایبلٹی، خوراک کے ضیاع اور فضلے کو کم کرنے کے لیے ڈیجیٹل تکنیکی حل، ایگری ٹیک اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم، تکثیریتی زرعی توسیع اور مشاورتی خدمات (ای اے ایس): لیب کو زمین تک بہتر بنانے اور آؤٹ ریچ کے لیے شراکت داری، چھوٹے ہولڈر اور فیملی فارمنگ: زرعی تحقیق و ترقی کے لئے جی 20۔عالمی جنوبی تعاون ، عوامی سازو سامان کے لئے پبلک پرائیویٹ  زرعی تحقیق و ترقی : اختراعات کی ایجاد اور اس کو بڑھانے کا تجربہ۔

 

اجلاس میں  زرعی تحقیق میں تعاون ،خوراک کے تحفظ اور غذائیت کافروغ ،  ڈیجیٹل زراعت، لچکدار زرعی خوراک نظام اور زرعی تحقیق و ترقی میں  عوامی نجی شراکت داری  کے لیے زرعی تحقیق اور ترقی میں تعاون کے بڑے شعبے پر توجہ دی گئی۔ ایم اے سی ایس  2023 نے مہارشی کے آغاز کی بھی حمایت کی جس میں یہ عوامل شامل ہوں گے۔

  • تحقیقی نتائج کی تشہیر کو بڑھانے اور تحقیقی خلا اور ضروریات کی نشاندہی کرنے کے لیے شناخت شدہ اناج کی فصلوں پر کام کرنے والے محققین اور اداروں کو مربوط کرنے کے لیے میکانزم کاقیام۔
  • تحقیق اور معلومات کے اشتراک کی حوصلہ افزائی کے لیے محققین کو مربوط کرنے، ڈیٹا کا تبادلہ کرنے، مواصلاتی مصنوعات اور موضوعاتی بریفس کا اشتراک کرنے کے لیے ویب پلیٹ فارم کا قیام۔
  • صلاحیت سازی کی سرگرمیوں اور بین الاقوامی ورکشاپس اور کانفرنسوں کا اہتمام ۔
  • سائنسدانوں کی کارکردگی کی شناخت اور پہچان

مہارشی سکریٹریٹ کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ملٹس ریسرچ (آئی آئی ایم آر)، حیدرآباد میں آئی سی آر آئی ایس اے ٹی ، ایک سی جی آئی اے آر سینٹرز اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی تکنیکی مدد کے ساتھ قائم کیا جائے گا۔

جی20 ایم اے سی ایس کے موقع پر، فرانس، برطانیہ، ارجنٹائن اور جرمنی کے ساتھ زرعی تحقیق میں مستقبل میں تعاون کے لیے دوطرفہ میٹنگیں ہوئیں۔

دو طرفہ میٹنگ خوراک اور زرعی ادارے، روم، اٹلی کے ساتھ بھی ہوئی۔ میٹنگ میں ڈاکٹر پاٹھک نے اس بات پر زور دیا کہ ایف اے او اور آئی سی اے آر ۔ کے وی کیز کے ذریعے توسیعی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی تعاون کر سکتے ہیں۔ ایف اے او کے چیف سائنسداں، اشمہانے ایلوفی نے بھی توسیعی خدمات میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ایف اے او  میں زراعت  کے سینئر افسر ڈاکٹر سیلواراجو راماسامی بھی میٹنگ میں شامل ہوئے۔

ہند-جرمن دوطرفہ میٹنگ میں سارک خطے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے خوراک کے ضیاع اور فضلہ کی روک تھام کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔

حکومت نے وارانسی پہنچنے والے غیر ملکی مندوبین کو ہندوستان کے بھرپور ثقافتی اور روحانی ورثے کے منفرد تجربے سے لطف اندوز ہونے کے انتظامات کیے ہیں۔ ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ نے مندوبین کی نقل و حرکت کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک سے وارانسی پہنچنے والے مندوبین کو ثقافتی ورثے اور مقامی لوگوں کی نمائش کے لیے ایک بہت ہی جامع اور شاندار انتظامات کیے ہیں۔

میٹنگ کے دوران، مندوبین کو کروز کی سواری پر لے جایا گیا تاکہ گنگا آرتی کے دلکش نظارے کا دیدار کرسکیں اور اس کے بعد تاج گنگے پر ایک استقبالیہ عشائیہ اور ثقافتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ مندوبین کو سارناتھ بھی لے جایا گیا۔ انہیں اے ایس آئی میوزیم اور بدھ اسٹوپا کا گائیڈڈ ٹور کرایا گیا اور لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو دکھایا گیا۔ اس کے بعد بدھ تھیم پارک کے پرسکون ماحول میں مندوبین کے لیے ثقافتی پرفارمنس کا اہتمام کیا گیا۔

مندوبین نے 19 اپریل 2023 کو تجارتی سہولت مرکز کا دورہ کیا اور شہر کی ٹیکسٹائل تاریخ کی جھلک کے ساتھ ساتھ مقامی کاریگروں کے اپنی مصنوعات بنانے کے لائیو مظاہرے بھی دیکھے۔ ٹی ایف سی میں انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) اور ریاستی محکمہ زراعت، آئی آر آر آئی-ایس اے آر سی سمیت دیگر تنظیموں جیسے این ڈی ڈی بی، اے پی ای ڈی اے کے سرکردہ اداروں کی ایک چھوٹی سی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔ مندوبین کو پنڈال میں باجرے کے پکوان کی لائیو تیاریاں دکھائی گئیں۔ اس کے بعد الوداعی عشائیہ اور ثقافتی پرفارمنس کا اہتمام کیا گیا۔

 

 

ایم اے سی ایس  کے صدر ڈاکٹر ہمانشو پاٹھک نے تمام مندوبین کی شرکت اور تعاون کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا اور ایم اے سی ایس  کی صدارت برازیل کے حوالےکیا۔

 

 

**********

 

 

ش ح۔ ع ح ۔ ف ر

 

U. No.4310



(Release ID: 1918190) Visitor Counter : 149