بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جناب سربانند سونووال کا کہنا ہے کہ 2030 کے لیے ڈی کاربنائزیشن کے اہداف کے ساتھ ساتھ 2070 کے لیے خالص صفر کے اہداف کو پورا کرنے پر مضبوطی سے توجہ مرکوز کرتے ہوئے جہاز رانی کے شعبے کو سرسبز بنانے کے لیے روڈ میپ تیار کرنا بہت ضروری ہے

Posted On: 23 FEB 2023 1:09PM by PIB Delhi

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے کہا ہے کہ ہندوستان میں جہاز رانی کے شعبے کو سرسبز بنانے، آلودگی کی شدت کو کم کرنے اور جہاز رانی کے شعبے میں قابل تجدید توانائی اور گرین ہائیڈروجن کو متعارف کرانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنا بہت ضروری ہے۔ آج نئی دہلی میں عالمی پائدار ترقی سے متعلق اجلاس 2023 میں جامع سبز نمو  کے لئے آلات اور قیادت  کے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چند روز قبل پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے مرکزی بجٹ میں 'گرین گروتھ' کو ترجیحی میدان ہونے کے ساتھ، پوری توجہ 2030 کے لیے ڈی کاربونائی زیشن کے اہداف کے ساتھ ساتھ 2070 کے لیے خالص صفر کے اہداف  کے حصول پر مرکوز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جہاز رانی کے شعبے  پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ نے عملداری خلا  فنڈنگ کے ساتھ  پی پی پی موڈ کے ذریعے مسافروں اور مال برداری دونوں کے لیے  موثر توانائی  اور کم لاگت کے نقل و حمل کے موڈ کے طور پر ساحلی جہاز رانی کو فروغ دینے کی ضرورت کو بھی پیش کیا ہے۔

image0017SFT.jpg

جناب سونووال نے کہا کہ ہندوستان نے اس سال جی 20 کی صدارت سنبھالنے کے ساتھ اور ورکنگ گروپس کے صاف توانائی   اور سبز منتقلی  پر غور و خوض کرتے ہوئے، ہم اپنی ترقیاتی حکمت عملی کے طور پر جامع سبز ترقی کی اہمیت پر دوبارہ زور دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ترقی کو قابل بنانے کے لیے ہمیں ٹیکنالوجی کی منتقلی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو کہ سبز منتقلی  کے لیے بالکل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبز منتقلی  پالیسیوں کو مرکزی دھارے میں لانے کے ساتھ ساتھ ابھرتی ہوئی توانائی اور ایندھن کے انتخاب کا مناسب جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔

وزیر موصوف  نے کہا کہ انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ (ٹی ای آر آئی ) کے سالانہ اہم  پروگرام –  عالمی پائدار ترقی سے متعلق اجلاس  کا حصہ بننا ان کے لیے بہت خوشی کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک تحقیقی ادارے کے طور پر جو  ثابت قدمی سے ایسے حل تلاش کرنے کے لیے کام کر رہا  ہے  جو کرہ ارض کو زیادہ پائیدار بنائے، نہ صرف پالیسی پر اپنے کام کے ذریعے، بلکہ ٹیکنالوجی کے اقدامات  کے ذریعے بھی جو سبز تبدیلیوں کے قابل بنائے گی، ٹی ای آر آئی  سبز ترقی کے ماحولیاتی نظام میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔

جناب سونووال نے کہا کہ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت (ایم او پی ایس ڈبلیو) نے حال ہی میں گوال پہاڑی میں ادارے کے فیلڈ اسٹیشن پر گرین پورٹ اور شپنگ میں ملک کا پہلا قومی مرکز برائے عمدگی  قائم کرنے کے لیے ٹی ای آر آئی  کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قومی مرکز برائے عمدگی  دین دیال پورٹ اتھارٹی، پردیپ پورٹ اتھارٹی، وی او چدمبرنار پورٹ اتھارٹی اور کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ اور ٹی ای آر آئی کی مہارت کو اکٹھا کرتا ہے اور بھارت میں گرین شپنگ کے لیے ریگولیٹری فریم ورک اور متبادل ٹیکنالوجی کو اپنانے کے روڈ میپ کو تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

جناب سونووال نے کہا کہ چونکہ جامع سبز ترقی تیزی سے وہ بنیاد بنتی ہے جس پر مستقبل میں ترقی ہونی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایسی پالیسیاں، فریم ورک اور نظام کو اپنی جگہ پر لایا جائے جو اس منتقلی کو وجود بخشے گا۔

وزیر  موصوف نے کہا کہ جہاز رانی کا شعبہ توانائی اور وسائل دونوں پر مشتمل ہے اور اسے توانائی اور وسائل کی غیرجانبداری کے حصول کے لیے ایک  نافذالعمل روڈ میپ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ این سی او ای جی پی ایس جیسے اقدامات قومی اور ذیلی قومی سطح پر فیصلہ سازوں کو کاربن غیرجانبداری کے اقدامات کو نافذ کرنے اور پیرس معاہدے کے تحت ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے طریقہ کار اور فریم ورک فراہم کریں گے۔

جناب سونووال نے کہا کہ اس وقت ساحلی جہاز رانی کے شعبے سے توانائی کی طلب کا تقریباً 99فیصد فوسل فیول، فیول آئل اور میرین گیس آئل (ایم جی او) سے پورا کیا جاتا ہے۔ آئی ایم او کے مطابق، ایک غیر چیک شدہ اقدام 2008 کے اخراج کی سطح کے مقابلے میں 2050 تک شپنگ سیکٹر سے وابستہ جی ایچ جی کے اخراج کو 50فیصد اور 250 فیصد کے درمیان لے جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں اپنایا گیا آئی ایم او کا مجموعی وژن اس صدی میں صنعت سے جلد از جلد گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو ختم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم او کے مقصد کے مطابق ایم او پی ایس ڈبلیو نے 2030 تک ہندوستانی شپنگ سیکٹر میں جی ایچ جی کے اخراج کو 30 فیصد تک کم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

وزیر موصوف  نے کہا کہ بندرگاہ کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے بڑے فضائی آلودگیوں میں کاربن مونو آکسائیڈ (سی او)، غیر مستحکم نامیاتی مرکبات (وی او سیز)، نائٹروجن آکسائیڈز (این او ایکس)، سلفر آکسائیڈز (ایس او ایکس)، اور ذرات (پی ایم) شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بڑی بندرگاہوں کے ذریعہ آلودگی میں کمی کے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں جیسے خشک بلک ہینڈلنگ کے میکانائزڈ موڈ کو اپنانا، گرین بیلٹ کوریج میں اضافہ، ڈیزل آر ٹی جی سیز کو ای / ہائی برڈ آر ٹی جی سیز  میں تبدیل کرنا اور کئی دیگر۔ اس کے علاوہ، این سی او ای جی پی ایس  کا کردار ویژن 2030 آلودگی میں کمی کے اہداف کو حاصل کرنے میں انقلابی  تبدیلی کا باعث ہوگا۔

جناب سونووال نے کہا کہ سبز جہاز رانی کا شعبہ پائیدار نیلی معیشت کے ارتقا میں سب سے اہم عنصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فروغ پزیر نیلی معیشت کو جہاز رانی کے شعبے کی ضرورت ہے جو اخراج کو کم کرے اور سبز ایندھن کا انتخاب کرے، ہمارے متعدد اقدامات کے ساتھ وزارت ان شعبوں کو ڈیکاربنائز کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ 2030 اور 2070 کے اہداف حاصل کیے جاسکیں۔

*************

( ش ح ۔  اک ۔ ر ب(

U. No.1998


(Release ID: 1901674) Visitor Counter : 164