وزارت خزانہ

بہتر قرض گارنٹی اسکیم کے لئے ایم ایس ایم ایز کو 9000 کروڑ روپے


ایم ایس ایم ایز کو 2 لاکھ کروڑ  روپے کا غیر ضمانتی  قرض

وِواد سے وِشواس 1 اور وِواد سے وِشواد 2 اسکیموں کے تحت ایم ایس ایم ایز کے لئے تجویز کردہ راحت

کاروبار میں آسانی فراہم کر کے ایم ایس ایم ایز ، اسٹارٹ اپس اور پیشہ ور افراد کیلئےراحت

قومی  مالیاتی معلوماتی رجسٹری تیار کی جائے گی

گفٹ آئی ایف ایس سی میں کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے  متعدد  اقدامات

مالیاتی سیکٹر کے ضابطوں کو بہتر بنانے کے لئے  عوامی مشاورت

Posted On: 01 FEB 2023 1:07PM by PIB Delhi

آج یہاں پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 24-2023 پیش کرتے ہوئے خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے مالیاتی شعبے میں اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے اختراعی استعمال کو جاری رکھنے کی تجویز پیش کی ،جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مالیاتی شمولیت، بہتر اور تیز تر خدمات کی فراہمی، قرض تک رسائی میں آسانی اور مالیاتی منڈیوں میں شرکت  ممکن ہوئی ہے۔

ایم ایس ایم ایز کیلئے قرض گارنٹی

محترمہ سیتا رمن نے اعلان کیا کہ بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کے لئے نئے سرے سے قرض  گارنٹی اسکیم، جو پچھلے بجٹ میں تجویز کی گئی تھی، یکم اپریل 2023 سے 9000 کروڑ روپے کےاصل سرمایہ کے ساتھ نافذ ہوگی۔  انہوں نے کہا کہ ‘‘یہ 2 لاکھ کروڑ روپےکے ضمانت سے پاک  اضافی ضمانتی قرض کو قابل بنائے گا۔ مزید براں، قرض کی لاگت تقریباً 1% کم ہو جائے گی۔ ’’

1.jpg

وِواد سے وِشواس 1 کے تحت ایم ایس ایم ایز کے لئے راحت

ایم ایس ایم ایز کو اہم راحت دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے تجویز پیش کی کہ ایم ایس ایم ایز کی جانب سے کووِڈ کی مدت کے دوران معاہدوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکامی کی صورت میں نیزبولی یا کارکردگی کی حفاظت سے متعلق ضبط شدہ رقم کا 95 فیصد، حکومت اور حکومتی اداروں کے ذریعے انہیں واپس کر دیا جائے گا۔

وِواد سے وِشواس IIکے تحت ٹھیکے کے تنازعات کو حل کرنا

حکومت اور سرکاری اداروں کے ٹھیکے کے تنازعات کو حل کرنے کے لئے، جہاں ثالثی کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کے تحت ہے، معیاری شرائط کے ساتھ رضاکارانہ تصفیہ کی اسکیم متعارف کرائی جائے گی۔ یہ تنازعہ کی التوا کی سطح کے لحاظ سے درجہ بندی کی تصفیہ کی شرائط پیش کرکے کیا جائے گا۔

ایم ایس ایم ایز اور پیشہ ور افراد

یہ بتاتے ہوئے کہ ایم ایس ایم ایز ہماری معیشت کے نمو کے انجن ہیں، وزیر خزانہ نے کہا کہ2کروڑ  روپے تک کے کاروبار والے بہت چھوٹی صنعتیں اور 50 لاکھ تک کے کاروبار والے کچھ پیشہ ور افراد ممکنہ ٹیکس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے ان ٹیکس دہندگان کو جن کی نقد رسیدیں 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہیں، بالترتیب 3 کروڑ روپے اور 75 لاکھ روپے کی اضافی حد فراہم کرنے کی تجویز پیش کی۔ مزید برآں، ادائیگیوں کی بروقت وصولی میں ایم ایس ایم ایز کی مدد کرنے کے لئے، محترمہ سیتا رمن نے مزید تجویز پیش کی کہ ان کو کی جانے والی ادائیگیوں پر ہونے والے اخراجات میں کٹوتی کی اجازت صرف اس صورت میں دی جائے جب اصل میں ادائیگی کی جائے۔

اسٹارٹ -اَپس

مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے، مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ‘‘کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کے لئے انٹرپرینیورشپ بہت ضروری ہے۔ ہم نے اسٹارٹ اپس کے لئے بہت سے اقدامات کیے ہیں اور ان کے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ بھارت دنیا بھر میں اب اسٹارٹ اپس کے لئے  تیسرا سب سے بڑا ماحولیاتی نظام اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں اختراعی معیار  میں دوسرے مقام پر ہے۔ میں سٹارٹ اپس کو انکم ٹیکس کے فوائد کے لیے شامل کرنے کی تاریخ 31 مارچ 2023 سے 31 مارچ 2024 تک بڑھانے کی تجویز پیش کرتی ہوں۔  مزید براں میں اسٹارٹ اپس کے حصص کی تبدیلی پر نقصانات کو آگے لے جانے کا فائدہ  سات سال سے دس سال تک  فراہم کرنے کی تجویز پیش کرتی ہوں۔ ’’

2.jpg

قومی مالیاتی معلوماتی رجسٹری

وزیر خزانہ نے مالیاتی اور ذیلی معلومات کے مرکزی خزینہ  کے طور پر کام کرنے کے لیے ایک قومی مالیاتی معلوماتی رجسٹری کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘یہ قرض کی مؤثر  آمد میں سہولت فراہم کرے گا، مالی شمولیت کو فروغ دے گا، اور مالیاتی استحکام میں اضافہ کرےگا۔’’

محترمہ سیتا رمن نے مزید کہا کہ ایک نیا قانونی لائحہ عمل اس کریڈٹ پبلک انفراسٹرکچر کو کنٹرول کرے گااور اسے ریزرو بینک آف انڈیا کے ساتھ مشاورت سے ڈیزائن کیا جائے گا۔

گِفٹ-آئی ایف ایس سی

گفٹ۔آئی ایف ایس سی میں کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے بجٹ  24-2023 میں متعدد اقدامات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ان اقدامات میں ایس ای زیڈ  ایکٹ کے تحت اختیارات آئی ایف ایس سی اے کو تفویض کرنا دوہری ریگولیشن سے بچنے کے لیے، رجسٹریشن اور ریگولیٹری منظوری کے لیے واحد نظام والے آئی ٹی سسٹم، غیر ملکی بینکوں کے آئی ایف ایس سی بینکنگ یونٹس کے ذریعے مالیاتی  حصول کی اجازت، تجارت کی دوبارہ مالی اعانت کے لیے ایگزم بینک کا ذیلی ادارہ قائم کرنا، آف شوراخذ کردہ آلات کو مجاز ٹھیکوں کے طور پر تسلیم کرنا شامل ہیں۔

3.jpg

مالیاتی شعبے کے ضوابط

امرت کال کی ضروریات کو پورا کرنے اور مالیاتی شعبے میں زیادہ سے زیادہ ضابطے کی سہولت فراہم کرنے کے لئے وزیر خزانہ نے ضابطہ سازی اور ذیلی ہدایات جاری کرنے کے عمل میں عوامی مشاورت کو جیسا کہ ضروری اور ممکن ہو، شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔

محترمہ سیتا رمن نے مزید کہا کہ مالیاتی شعبے کے ریگولیٹرز سے درخواست کی جائے گی کہ وہ عمل آوری  کی لاگت کو آسان، سہل اور کم کرنے کے لئے موجودہ ضوابط کا جامع جائزہ لیں۔  انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘اس کے لیے، وہ عوامی اور باضابطہ اداروں کی تجاویز پر غور کریں گے۔ مختلف ضوابط کے تحت درخواستوں کا فیصلہ کرنے کے لیے وقت کی حدیں بھی مقرر کی جائیں گی۔’’

***

ش ح۔ م ع۔ ک ا

U No. : 1073



(Release ID: 1895378) Visitor Counter : 220