وزارت خزانہ

حکومت مشن مو ڈ میں روزگار دیے جانے کے قابل مہارتوں اور علم سے آراستہ افرادی قوت تیار کرنے کے لیے پابند عہد ہے


این ای پی پیشہ وارانہ تعلیم اور ہنر مندی ترقیات پر خصوصی توجہ دیتی ہے

وقفے  وقفے سے انجام دیے جانے والے مزدوروں سے متعقل جائزے ، مالی برس 2021 کے مطابق، مالی برس 19 اور مالی برس 20 کے مقابلے میں مالی برس 21 کے دوران نوجوانوں اور کام کاجی آبادی کے درمیان رسمی پیشہ وارانہ / تکنیکی تربیت  میں بہتری رونما ہوئی

پی ایم کے وی وائی 2.0 کے تحت مالی برس 17 اور مالی برس 23 کے درمیان (5 جنوری 2023 تک) تقریباً 1.1 کروڑ افراد کو تربیت فراہم کی گئی: 83 فیصد کو اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ تقریباً 21.4 لاکھ افراد کو ملازمت حاصل ہوئی

کووِڈ کی وجہ سے متاثر ہوئے نقل مکانی کرنے والے 1.3 لاکھ مزدوروں کو پی ایم کے وی وائی کے تحت تربیت فراہم کی گئی

نیشنل اپرینٹس شپ پروموشن اسکیم کے تحت 21.4 لاکھ تربیت حاصل کرنے والے افراد کو 31 دسمبر 2022 تک مختلف صنعتوں کے ذریعہ اپنے اداروں میں شامل کیا گیا

دستکاری تربیتی اسکیم کے تحت 30 اکتوبر 2022 تک 91.7 لاکھ طلبا کو تربیت فراہم کی گئی

Posted On: 31 JAN 2023 1:34PM by PIB Delhi

خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں اقتصادی جائزہ 2022-23 پیش کیا۔ جائزے کے مطابق  مرکزی وزارت کے قیام کے ساتھ، حکومت نے قومی ہنرمندی ترقیات مشن اور ہنرمندی  ترقیات اور صنعت کاری کے لیے قومی پالیسی کا آغاز کیا، اور اس سلسلے میں ہنرمندی سے متعلق ایکو نظام کو بہتر اور سہل بنانے کے لیے کوششوںمیں تیزی لائی گئی۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت بھی، پیشہ وارانہ تعلیم اور ہنرمندی ترقیات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ عام تعلیم کے ساتھ پیشہ وارانہ تعلیم کو مربوط کرنے اور پیشہ وارانہ تعلیم کو قومی دھارے میں لانے  کے عمل کو  ملک کے تعلیمی نظام میں کلیدی اصلاح کے طورپر شناخت کیا گیا ہے۔

وقفہ وقفہ سے کیے جانے والے مزدوروں سے متعلق جائزے (پی ایل ایف ایس) مالی برس 21 کے مطابق مالی برس 19 اور مالی برس 20 کے مقابلے میں مالی برس 21 کے دوران نوجوانوں اور کام کاجی آبادی کے درمیان رسمی پیشہ وارانہ / تکنیکی تربیت  کی فراہمی میں بہتری رونما ہوئی۔ دیہی اور شہری علاقوں، دونوں میں  سکونت پذیر مردو خواتین کی ہنرمندیوں میں بہتری رونما ہوئی  ہے۔

اُن افراد کی تقسیم جنہیں رسمی پیشہ وارانہ / تکنیکی تربیت حاصل ہوئی

9 بڑے شعبوں میں کم از کم 10 کارکنان کو روزگار فراہم کرانے والے اداروں سے متعلق سہ ماہی روزگار جائزے (کیو ای ایس) (مالی برس 2022 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے )کے چوتھے مرحلے کی رپورٹوں کے مطابق، 15.6 فیصد تخمینہ اداروں نے رسمی ہنر مندی سے متعلق تربیت فراہم کی جبکہ 20.5 فیصد نے کام کاج کی جگہوں پر تربیت فراہم کی۔ اس سلسلے میں صحتی شعبے کا فیصد سب سے بہتر رہا ہے۔ اس شعبے میں تخمینہ اداروں نے (24.7 فیصد )رسمی تربیت فراہم کی اور کام کاج کی جگہوں پر (31.6 فیصد)تربیت فراہم کی۔ اس کے بعدمالی خدمات کے شعبے کا نمبر آتا ہے جس کے تحت 20.4 فیصد اداروں نے رسمی تربیت فراہم کی اور 26.4 فیصد نے کام کاج کی جگہوں پر تربیت فراہم کی۔

اسکل انڈین مشن

اسکل انڈین مشن مختصر مدتی اور طویل مدتی تربیتی پروگراموں کے توسط سے ہنرمندی ، ازسر نو ہنر مندی اور ہنر مندی میں اضافہ پر توجہ مرکوز کرتا ہے ۔ مشن کے تحت، حکومت 20 سے زائد مرکزی وزارتوں/ محکموں کے ذریعہ ملک بھر میں ہنرمندی ترقیات سے متعلق مختلف اسکیمیں نافذ کر رہی ہے۔ ان پروگراموں کی حمایت پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور ریاستی حکومتوں کی مہمات کے ذریعہ کی جارہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ علاقوں کو ہنر مندی سے متعلق ایکو نظام میں پھیلے فریم ورک سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ مکمل ہنر مندی ایکونظام میں حکومت کے ہنرمندی پروگراموں کے نتائج یکساں ہوں۔

ان میں سے چند اسکیموں کی پیش رفت کی تفصیلات باکس میں دی گئی ہیں:

 

اسکل انڈیا مشن کی پیش رفت

ہنرمندی ترقیات اسکیم

پیش رفت

پی ایم کے وی وائی پہلی مرتبہ 2015 میں لانچ کی گئی تھی۔ جنوری 2021 سے فی الوقت ملک بھر میں پی ایم کے وی وائی کا تیسرا مرحلہ یعنی پی ایم کے وی وائی 3.0 نافذ کیا جا رہا ہے ۔

 

پی ایم کے وی وائی کے 2 تربیتی عناصر ہیں۔ ایک،  مختصر مدتی تربیت (ایس ٹی ٹی) اور دوسری، پیشگی تعلیم کی شناخت (آر پی ایل)

 

ضلعی سطح پر قائم کیے گئے پردھان منتری کوشل کیندر کو جدید، واضح اور امنگوں والے ماڈل تربیتی مراکز خیال کیا جاتا ہے۔

  • مالی برس 17 اور مالی برس 23 کے دوران (5 جنوری 2023 تک) پی ایم کے وی وائی 2.0 کے تحت 1.1 کروڑ افراد کو تربیت فراہم کی گئی: 83 فیصد کو اسناد فراہم کی گئی جبکہ تقریباً 21.4 لاکھ افراد کو ملازمت حاصل ہوئی۔ پی ایم کے وی وائی 3.0 کے تحت، مالی برس 21 اور مالی برس 23 کے دوران (5 جنوری 2023 تک) 7.4 لاکھ افراد کو تربیت فراہم کی گئی، 66 فیصد کو اسناد فراہم کی گئیں  اور 41437 کو مختلف اداروں میں ملازمت حاصل ہوئی۔
  •  
  • پی ایم کے وی وائی نے کووِڈ۔19 سے متاثرہ مزدوروں (نقل مکانی کرنے والے مزدوروں) کو تربیت فراہم کی۔ اسکیم کے اس عنصر نے 6 ریاستوں – آسام، بہار، مدھیہ پردیش، اُڈیشا، راجستھان، اور اترپردیش کے 116 اضلاع پر احاطہ کیا۔ نقل مکانی کرنے والے 1.3 لاکھ مزدوروں کو ، 31 اکتوبر 2022 تک تربیت  فراہم کی گئی (ایس ٹی ٹی میں 0.88 لاکھ اور آر پی ایل میں 0.38 لاکھ )۔

جن شکشن سنستھان اسکیم جن شکشن سنستھانوں (این جی اوز) کو ناخواندہ، کم عمر ناخواندہ، ابتدائی سطح کی تعلیم کے حامل افراد اور 15 سے 45 برس کی عمر کے گروپ میں بارہویں جماعت تک اسکول چھوڑ دینے والوں کو ہنرمندی تربیت کے لیے یکمشت  سالانہ امداد فراہم کرتی ہے۔  ان میں خواتین، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور سماج کے دیگر پسماندہ طبقات ترجیحی گروپ ہیں۔

  • مالی برس 20 سے مالی برس 23 تک (5 جنوری 2023 تک) 16.0 لاکھ مستفیدین کو تربیت فراہم کی گئی، جن میں سے 28.4 فیصد کا تعلق شہری علاقوں سے ہے اور 69.0 فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے، اس کے علاوہ 2.7 فیصد کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہے۔ قابل غور ہے کہ تربیت حاصل کرنے والے ان لوگوں میں 81 فیصد خواتین ہیں۔

نیشنل اپرینٹس شپ پروموشن اسکیم ، اپرینٹسیز ایکٹ 1961 کے تحت اپرینٹس شپ پروگراموں کو نافذ کرنے والے صنعتی اداروں کے لیے مالی امداد فراہم کرتی ہے۔

  • 2016 میں اسکیم کے آغاز سے لے کر، 31 دسمبر 2022 تک،تربیت حاصل کرنے والے  21.4  لاکھ افراد کو مختلف صنعتوں کے ذریعہ اپنے اداروں میں شامل کیا گیا۔

دستکاری تربیتی اسکیم ملک بھر میں 14938 صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئی) کے توسط سے 149 تجارتوں میں طویل المدت تربیت فراہم کرتی ہے۔

  • 2015 سے 30 اکتوبر 2022 تک، 91.7 لاکھ طلبا کو تربیت فراہم کی گئی۔

کرافٹ انسٹرکٹر ٹریننگ اسکیم تربیت فراہم کار کو ہنرمندیوں اور تربیت کے طریقہ سے متعلق جامع تربیت فراہم کرتی  تاکہ صنعت کے لیے ہنرمند افرادی قوت کو تربیت فراہم کرنے کے لیے ان تربیت فراہم کاروں کو تدریس کے طریقہ کار اور عملی تجربات کے ساتھ ہنر مندی کی تکنیکوں سے آگاہ کیا جا سکے۔

  • مالی برس 2022 کے دوران ، مجموعی طور پر 8847 زیر تربیت افراد کو مختلف قومی ہنرمندی تربیتی اداروں اور تربیت فراہم کاروں کی تربیت کے اداروں میں تربیت فراہم کی گئی۔

بھارت کو دنیا کی ہنرمندی کا مرکز بنانا

بھارت کو ہنرمندی کا مرکز بنانے اور ہنر مند افرادی قوت  کی نقل و حرکت میں بہتری لانے کے لیے قومی ہنرمندی ترقیاتی کارپوریشن (این ایس ڈی سی)  قائم کیا گیا، جس کا مقصد بھارت بھر میں اداروں کا نیٹ ورک قائم کرنا ہے۔ اداروں کے اس نیٹ ورک کو اسکل انڈیا انٹرنیشنل (ایس آئی آئی) نیٹ ورک کہا جائے گا۔ یہ نیٹ ورک جدید سرکاری اور نجی اداروں کو پینل میں شامل کرکے قائم کیا جائے گا۔

  • ایم ایس ڈی ای نے ہنرمندی ترقیات اور پیشہ وارانہ تعلیمی تربیت کے شعبے میں 11 ممالک – آسٹریلیا، بیلاروس، چین، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، جاپان، قطر، سوئٹزر لینڈ، متحدہ عرب امارات، اور برطانیہ- کے ساتھ مفاہمتی عرضداشتوں  پر دستخط بھی کیے ہیں ۔
  •  
  • این ایس ڈی سی نے آسٹریلیا، کناڈا، جرمنی، جاپان، ملیشیا، مملکت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، وغیرہ جیسے ممالک کے ساتھ 18 بی 2 بی مفاہمتی عرضداشتوں پر دستخط کیے ۔

روزگار کے فروغ کے لیے ہنرمندی کی حصولیابی اور علم سے متعلق بیداری (ایس اے این کے اے ایل پی )2018 میں عالمی بینک سے قرض کی مدد سے شروع کیا گیا ایک پروگرام  ہے جس کا مقصد  ہنرمندی سے متعلق پہل قدمیوں کو غیر مرکزی بنانا اور ہنرمندی ترقیاتی پروگراموں کو مقامی مطالبات اور نوجوانوں کی امنگوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

  • سنکلپ کے قومی عنصر اور ریاستی عناصر کے تحت، بالترتیب 64 اور 700 پروجیکٹوں کو ہنرمندی اور صنعت کاری ترقیات کے شعبوں  میں اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نافذ کیا گیا ہے ۔
  • 724 ضلعی ہنر مندی کمیٹیاں (ڈی ایس سی ) تشکیل دی گئیں، جن کا کام ضلعی سطح پر ہنرمندی سے متعلق سرگرمیوں کی منصوبہ بندی، انتظام کاری اور نگرانی  کرنا ہے۔

 

******

ش ح۔م ن ۔ ا ب ن

U-NO.1031



(Release ID: 1895045) Visitor Counter : 164