شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت

کابینہ نے ،شمال مشرقی خطے کی فروغ کی وزارت کی ، پندرھویں مالیاتی کمیشن کی بقایا مدت  (23-2022 سے 26-2025) کے لیے 12882.2 کروڑ روپئے کی مختص رقم کے ساتھ، اسکیموں کو جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے

Posted On: 05 JAN 2023 4:09PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے زیر صدارت مرکزی کابینہ نے، شمال مشرقی خطے کی فروغ کی وزارت کی ، پندرھویں مالیاتی کمیشن کی بقایا مدت  (23-2022 سے 26-2025) کے لیے 12882.2 کروڑ روپئے کی مختص رقم کے ساتھ، اسکیموں کو جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔

اخراجات کی مالیاتی کمیٹی (ای ایف سی) کی سفارشات پر مبنی، شمال مشرقی خصوصی بنیادی ڈھانچہ جاتی اسکیم (این ای ایس آئی ڈی ایس) کے لیے مختص رقم 8139.5 کروڑ روپئے ہوگی جس میں جاری پروجیکٹوں کی مخصوص ذمے داریاں بھی شامل ہیں۔ ’’این ای سی پی اسکیموں‘‘ کے لیے مختص رقم 3202.7 کروڑ روپئے ہوگی جس میں جاری پروجیکٹوں کی مخصوص ذمے داریاں بھی شامل ہیں۔ آسام میں ،بی ٹی سی، ڈی ایس اے ٹی سی اور کے اے اے ٹی سی کے لیے خصوصی پیکیجیز کی مختص کردہ رقم 1540 کروڑ روپئے ہے۔ (بی ٹی سی – 500 کروڑ روپئے، کے اے اے ٹی سی – 750 کروڑ روپئے اور بی ٹی سی، بی ایچ اے ٹی سی اور کے اے اے ٹی سی کے پرانے پروجیکٹوں کے لیے  - 290 کروڑ روپئے) مرکزی شعبے کی ایک اسکیم این ای ایس آئی ڈی ایس اسکیم، جس میں  100 فیصد مرکزی فنڈنگ ہے، کی تشکیل نو کی گئی ہے اور اس میں دو عناصر شامل کئے گئے ہیں۔ – این ای ایس آئی ڈی ایس (شاہراہیں) اور این ای ایس آئی ڈی  ایس (شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچوں کے علاوہ)۔

شمال مشرقی خطےکے لیے ’’وزیر اعظم کی ترقیاتی پہل – پی ایم ڈیوائن‘‘ نامی وزارت کی نئی اسکیم (6600 کروڑ روپئے کی مختص رقم کے ساتھ) کو علاحدہ سے اکتوبر 2022 میں پہلے ہی منظوری دی جاچکی ہے جس کے تحت بنیادی ڈھانچے، سماجی ترقی اور روزی روٹی کے شعبوں کے تحت  وسیع تر اور زیادہ با اثر تجاویز کو شامل کیا گیا ہے۔

شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کے مقاصد میں ، ایک جانب مختلف مرکزی وزارتوں اور محکموں کی کاوشوں میں معاونت فراہم کرنا جبکہ دوسری جانب شمال مشرقی خطے کی ریاستوں کی مطلوبہ ضروریات کو پورا کرنا ہے، جو غیر احاطہ شدہ ترقیات / بہبودی سرگرمیوں کے لیے ہو۔ شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کی اسکیمیں آٹھ شمال مشرقی ریاستوں کو ان کی مطلوبہ ضروریات کے مطابق  فقدان شدہ مدد فراہم کرتی ہیں۔ جو کہ پروجیکٹوں کو شروع کرکے کی جاتی ہے۔ اس میں کنیکٹی ویٹی کو بہتر بنانے اور سماجی شعبے کے خساروں کے لیے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینا اور خطے میں روزی روٹی کمانے اور روزگار کے مواقعو ں میں اضافہ کرنا ہے۔

پندرھویں مالیاتی کمیشن کی مدت یعنی مالی سال 26-2025 تک کے لیے منظور شدہ اسکیموں کی توسیع درج ذیل کاموں کے لیے ہوگی:

          پروجیکٹ انتخاب کے ضمن میں اسکیموں کے نفاذ کے لیے بہتر منصوبہ بندی کو فعال کرنا،

          پروجیکٹوں کی منظوری کی فرنٹ لوڈنگ اور

          اسکیم کی مدت کے دوران پروجیکٹ کا نفاذ

سن 26-2025 تک پروجیکٹوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو مکمل کرنے کی کوششیں کی جائیں گی تاکہ اس سال کے بعد سے مخصوص ذمے داریاں کم سے کم ہوسکیں، لہٰذا اسکیموں کے لیے بنیادی طور پر 23-2022 اور 24-2023 میں  نئی ذمے داریاں ہوں گی، جب کہ 25-2024 اور 26-2025 کے دوران اخراجات کئے جاتے رہیں گے۔ جاری منظور شدہ پروجیکٹوں کو مکمل کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

خود کفیل ہندوستان کے لیے آتم نر بھر بھارت ابھیان کے پانچ ستون ہیں: معیشت، بنیادی ڈھانچہ، نظام ، جامع اعداد وشمار اور مطالبہ ، جن پر اسکیموں کے ذریعے زیادہ توجہ دی جائے گی۔

حکومت نے شمال مشرق کی ترقی کو اولین ترجیح دی ہے۔ وزیر اعظم نے گزشتہ 8 سالوں میں شمال مشرقی خطے کا 50 سے زیادہ مرتبہ دورہ کیا ہے، جب کہ 74 وزراء بھی 400 سے زائد بار شمال مشرقی علاقے کا دورہ کر چکے ہیں۔

شمال مشرق پہلے بدامنی، بم دھماکوں، بند وغیرہ کے لیے جانا جاتا تھا لیکن پچھلے آٹھ سالوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں امن قائم ہوا ہے۔

شورش کے واقعات میں 74 فیصد کمی، سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات میں 60 فیصد اور عام شہریوں کی ہلاکتوں میں 89 فیصد کمی آئی ہے۔ تقریباً 8,000 نوجوانوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور اپنے اور اپنے خاندانوں کے بہتر مستقبل کا خیرمقدم کرتے ہوئے مرکزی دھارے میں شامل ہو گئے ہیں۔

اس کے علاوہ، 2019 میں تریپورہ کے قومی آزادی کے محاذ کے ساتھ معاہدہ، 2020 میں بی آر یو اور بوڈو معاہدہ، اور 2021 میں کاربی معاہدے پر اتفاق کیا گیا۔ آسام-میگھالیہ اور آسام-اروناچل سرحدی تنازعات بھی تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور امن کی بحالی کے ساتھ ہی شمال مشرقی خطہ ،ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے۔

سن 2014 کے بعد سے، ہم نے خطے کے لیے بجٹ کی مختص رقم میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھا ہے۔ 2014 سے اب تک اس خطے کے لیے 4 لاکھ کروڑ سے زیادہ مختص کیے گئے ہیں۔

شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کی اسکیموں کے تحت پچھلے 04 سالوں میں اصل اخراجات 7534.46 کروڑ روپے تھے۔ جبکہ 2025-26 تک اگلے چار سالوں میں اخراجات کے لیے دستیاب فنڈ 19482.20 کروڑ روپے ہے (تقریباً 2.60 گنا)

خطے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں کی گئی ہیں۔ کنیکٹوٹی کو بہتر بنانا اولین فوکس رہا ہے۔

ریلوے کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کے لیے 2014 سے اب تک 51,019 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ 19 نئے پروجیکٹوں کے لئے 77,930 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔

سن 14-2009 کے دوران اوسط سالانہ بجٹ 2,122 کروڑ روپے مختص روپے کے مقابلے میں ، پچھلے 8 سالوں میں، اوسط سالانہ بجٹ مختص میں 370 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 9,970 کروڑ کل روپے ہے۔

سڑک کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کے لیے 375 پراجیکٹس جن کی مالیت(1.05 لاکھ کروڑ روپے ہے) جاری ہیں۔ اگلے تین سالوں میں حکومت 209 منصوبوں کے تحت 9,476 کلومیٹر سڑکیں بنائے گی۔ اس کے لیے مرکزی حکومت 1,06,004 کروڑ  روپے خرچ کر رہی ہے۔

فضائی رابطے میں بھی بڑے پیمانے پر بہتری آئی ہے۔ 68 سالوں میں شمال مشرق میں صرف 9 ہوائی اڈے تھے، جو آٹھ سال کے مختصر عرصے میں 17 تک پہنچ گئے۔

آج، شمال مشرق میں ہوائی ٹریفک کی نقل و حرکت میں 2014 (سال بہ سال) سے 113فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فضائی رابطے کو مزید فروغ دینے کے لیے، شمال مشرقی خطے میں شہری ہوا بازی  کے شعبے میں 2000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

ٹیلی کام کنیکٹیوٹی کو بہتر بنانے کے لیے، 2014 سے، 10فیصد جی بی ایس  کے تحت 3466 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ کابینہ نے این ای آر کے 4,525 گاؤں میں جی4 کنیکٹیویٹی کو بھی منظوری دی ہے۔ مرکزی حکومت نے 2023 کے آخر تک خطے میں مکمل ٹیلی کام رابطہ فراہم کرنے کے لیے 500 دنوں کا ہدف مقرر کیا ہے۔

آبی گزرگاہیں، شمال مشرق کی زندگی اور ثقافت کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ پی ایم مودی کی حکومت ،خطے میں اس اہم شعبے کو ترقی دینے کے لیے تمام کوششیں کر رہی ہے۔ 2014 سے پہلے این ای آر میں صرف 1 قومی آبی گزرگاہ تھی۔ اب این ای آر میں 18 قومی آبی گزرگاہیں ہیں۔ حال ہی میں  نیشنل واٹر وے 2 اور نیشنل واٹر وے 16 کی ترقی کے لیے 6000 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔

تقریباً روپے 2014 اور 2021 کے درمیان این ای آر میں ہنر مندی کی ترقی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے اور موجودہ سرکاری اداروں کو ماڈل انسٹی ٹیوٹ میں اپ گریڈ کرنے کے لیے 190 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ 193 نئے اسکل ڈیولپمنٹ ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ روپے ہنر مندی کے لیے 81.83 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ مختلف اسکیموں کے تحت کل 16,05,801 افراد کو ہنر مند بنایا گیا ہے۔

ایم ایس ایم ایز  کو مختلف اسکیموں کے تحت فروغ دیا گیا ہے تاکہ کاروباری ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ 645.07 کروڑ روپے 978 یونٹس کو معاونت فراہم کرنے/ سیٹ اپ کرنے کے لیے خرچ کیے گئے ہیں۔ ڈی پی آئی آئی ٹی کے مطابق شمال مشرق سے 3,865 اسٹارٹ اپ رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔

گزشتہ آٹھ سالوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ایک کلیدی توجہ رہا ہے۔ حکومت نے اربوں روپے خرچ کیے ہیں۔ صحت کے شعبے میں15-2014 سے اب تک 31,793.86 کروڑ روپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔

19 ریاستی کینسر انسٹی ٹیوٹ اور 20 ٹرٹیری کیئر کینسر سینٹرز کو کینسر اسکیم کی علاقائی دیکھ بھال کو مضبوط بنانے کے تحت منظوری دی گئی ہے۔

پچھلے اسی برسوں کے دوران خطے میں تعلیمی بنیادی ڈھانچہ کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی گئی ہیں۔

سن 2014 سے اب تک حکومت نے شمال مشرق میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کے لیے 14,009 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے 191 نئے ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ 2014 سے اب تک قائم ہونے والی یونیورسٹیوں کی تعداد میں 39 فیصد اضافہ ہوا ہے۔15-2014 سے قائم ہونے والے اعلیٰ تعلیم کے مرکزی اداروں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

نتیجتاً، اعلیٰ تعلیم میں طلباء کے کل داخلہ میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

خطے میں ترقی کو ہوا دینے کے لیے پاور انفراسٹرکچر کو مضبوط کیا گیا ہے۔15-2014 سے، حکومت نے 37,092 کروڑ روپے منظور کیے ہیں جن میں سے اب تک 10,003 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

نارتھ ایسٹ گیس گرڈ (این ای جی جی) پراجیکٹ۔ 9,265 کروڑ کا کام جاری ہے اور یہ این ای آر میں معیشت کو بہتر کرے گا۔

وزیراعظم نے اربوں روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔ اروناچل پردیش کے سرحدی گاؤں کو روشن کرنے کے لیے 550 کروڑ روپے۔

پہلی بار ضلعی سطح پر ایس ڈی جی انڈیکس قائم کیا گیا ہے۔ایس ڈی جی عدد اشاریہ کا دوسرا ورژن تیار ہے اور جلد ہی ریلیز ہونے والا ہے۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

ش ح۔ اع ۔ را

U. No. 141



(Release ID: 1888920) Visitor Counter : 112