قانون اور انصاف کی وزارت
سال 2022 کےدوران 9 ستمبر تک، حکومت نے مختلف ہائی کورٹوں میں ریکارڈ 165 ججوں کی تقرری کی، جو کہ ایک کلنڈر سال میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے
प्रविष्टि तिथि:
15 DEC 2022 2:23PM by PIB Delhi
قانون و انصاف کے وزیر جناب کرن رجیجو نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ اطلاع فراہم کی کہ حکومت نے ہائی کورٹ کے ججوں کے طور پر تقرری کے لیے حال ہی میں تجویز کیے گئے 20 ناموں کو سپریم کورٹ کالجیم کو واپس بھیج دیا ہے۔09 دسمبر 2022 تک 1108 ججوں کی منظورشدہ تعداد میں سے 777 جج ہائی کورٹ میں مصروف عمل ہیں، اور اس طرح ججوں کی 331 اسامیاں (30 فیصد) پر کی جانی ہیں ۔ 331 اسامیوں میں سے فی الحال ہائی کورٹوں سے موصول شدہ 147 تجاویز حکومت اور سپریم کورٹ کالجیم کے درمیان عمل کے مختلف مراحل میں ہیں۔ ہائی کورٹ میں 184 اسامیوں کے لیے ہائی کورٹ کالجیم سے مزید تجاویز موصول ہونا باقی ہیں۔ سال 2022 میں 09 دسمبر 2022 تک، حکومت مختلف ہائی کورٹوں میں ریکارڈ 165 ججوں کی تقرری انجام دے چکی ہے، جو کہ ایک کلنڈر سال میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
آئین (99ویں ترمیم) ایکٹ 2014 اور قومی عدالتی تقرری کمیشن ایکٹ، 2014، جو کہ 13 اپریل 2015 سے نافذ العمل، کو 16 دسمبر 2015 کے فیصلے کے ذریعہ غیر آئینی اور کالعدم قراردے دیا گیا تھا۔کالجیم نظام جو کہ آئین (99ویں ترمیم)ایکٹ، 2014 کے نافذالعمل ہونے سے قبل سے ہی وجود میں ہے ، کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، اور اعلیٰ عدلیہ میں تمام تر موجودہ تقرریاں فی الحال موجودہ ایم او پی کے مطابق انجام دی جا رہی ہیں۔
******
ش ح۔ا ب ن۔ م ف
U-NO.13868
(रिलीज़ आईडी: 1883861)
आगंतुक पटल : 121