وزارت خزانہ

بھارت، کرناٹک کے شہر بنگلورو میں جی 20 انڈیا کی صدارت کے تحت پہلی جی 20 مالیات اور مرکزی بینک کے نائبین (ایف سی بی ڈی) اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے


بھارتی صدارت کے تحت 160 سے زیادہ مندوبین نے ایف سی بی ڈی میٹنگ میں شرکت کی اور اسی کے ساتھ جی 20 مالی ٹریک کا  آغاز ہو گیا

دو روزہ ایف سی بی ڈی میٹنگ سات مذاکراتی اجلاس کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی ، ان اجلاس میں عالمی معیشت، بین الاقوامی مالیاتی تانا بانا، بنیادی ڈھانچہ، دیرپا مالیات ،بین الاقوامی ٹیکسیشن، عالمی صحت،مالی شعبہ اور مالی شمولیت کے موضوعات پر منعقد کیے گئے

اس موقعے پر ’21ویں صدی کے مشترکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایم ڈی بی کو مضبوط بنانا‘ اور ’’ماحولیاتی خطرات کے انتظام اور گرین فنانسنگ میں مرکزی بینکوں کا کردار‘‘ پر بات چیت بھی ہوئی

Posted On: 14 DEC 2022 6:34PM by PIB Delhi

نئی دلی،14 دسمبر، 2022/ بھارت کی صدارت کے تحت جی 20 فائنانس اور سینٹرل بینک کے نائبین کی پہلی میٹنگ، کرنا کرناٹک کے شہر بنگلورو، کرناٹک میں، 14-13 دسمبر، 2022 کو منعقد ہوئی ۔ یہ میٹنگ اقتصادی امور کے سکریٹری ، جناب اجے سیٹھ اور بھاریت ریزرو بینک کے نائب گورنر ڈاکٹر مائیکل پاترا کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوئی۔

اسی کے ساتھ، میٹنگ میں 160 سے زیادہ غیر ملکی مندوبین نے پرجوش طریقے سے شرکت کی جس میں جی 20 رکن ملکوں کے نائبین، مدعو ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے مندوبین نے شرکت کی۔ بھارتی صدارت کے تحت جی 20 مالی ٹریک کا آغاز ہو گیا ہے۔

دو دن کے دوران سات مذاکراتی اجلاس اور اجلاس سے الگ دو تقریبات منعقد کی گئیں۔ مندوبین کو مختلف انداز کے فنون کے ذریعے کرناٹک کی جدید ثقافت اور روایت کی جھلک پیش کی گئی ۔

اس میٹنگ کا ایجنڈا وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتی صدرت کے جی 20  موضوع کے عین مطابق تیار کیا گیا تھا۔

اس میٹنگ کا اختتام اس مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا گیا کہ مختلف سرگرمیوں میں 2023 کے لیے بھارت کی جی 20 مالی  ٹریک ترجیحات پر جی 20 اراکین کو پیش نظر رکھا جائے۔ ’21ویں صدی کے مشترکہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایم ڈی بی کو تقویت دینے پر ‘ ایک تقریب منعقد کی گئی ، جو نائبین کی میٹنگ سے الگ تھی۔

اس تقریب کی نظامت نیتی آیوگ کے وی سی جناب سمن بیری نے کی جس میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی کہ سرحدوں کےپار کے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے میں ایم ڈی بی سے  کس طرح مدد مل سکتی ہے ۔امریکہ کے فائنانس ڈپٹی، جناب اینڈی باؤکول اور سعودی عربیہ کے فائنانس ڈپٹی جناب ریاض الخاریف نے اے ڈی بی کے ڈائریکٹر جنرل جناب ٹومویوکی کیمورا نیز جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر دیویش کپور نے ماہرین کی حیثیت سے شرکت کی اور اس موضوع پر اپنے نظریات کا اظہار کیا۔ آب و ہوا سے متعلق خطرے سے نمٹنا اور گرین فنانسنگ پر بھی ایک الگ میٹنگ منعقد کی گئی۔

جی 20 کے زیادہ تر مندوبین مدعوین اور بین الاقوامی تنظیموں کا موقعے پر موجود ہونا اس بات کا اظہار ہے کہ بھارت کی جی 20 صدارت کی حمایت کا عزم عالمی سطح پر پایا جاتا ہے خاص طور پر عالمی اقتصادی ماحول میں درپیش چیلنجوں کے دوران ۔

’’واسودھیو کٹمبکم‘‘ اور ’’ایک کرۂ ارض، ایک کنبہ، ایک مستقبل‘‘ کے موضوع کی عکاسی کرتے ہوئے، مذاکرات میں عالمی معیشت، خطرات باہمی ترقیاتی بینکوں کو مستحکم بنانا، عالمی قرض کی کمزوریاں ، آب و ہوا سے متعلق کارروائی کےلیے رقوم فراہم کرنا  اور دیرپا ترقیاتی نشانوں سے متعلق معاملات پر توجہ مرکوز کی گئی۔

عالمی معیشت اور فریم ورک پر کام کرنے والے گروپوں کی ترجیحات کے بارے میں پہلے جلسے کے دوران  جی 20 ارکان نے  عالمی اقتصادی چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا، جس میں عالمی افراط زر، خوراک اور توانائی کا عدم تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلی کے میکرو اکنامک مضمرات شامل ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی آرکیٹیکچر کے سیشن میں، مندوبین نے کثیر ملکی ترقیاتی بینکوں (ایم ڈی بی) کو مضبوط بنانے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور عالمی قرضوں کی پریشانی، سرمائے کے آمد اور عالمی مالیاتی تحفظ کے نیٹ ورک سمیت اہم موضوعات پر 2023 میں شروع کیے جانے والے کام پر تبادلہ خیال کیا۔

بنیادی ڈھانچے سے متعلق سیشن میں، انفراسٹرکچر ورکنگ گروپ 2023 کے لیے بھارت کی ترجیحات پر بات چیت ہوئی جس میں ’’کل کے شہروں کی مالی اعانت شامل ہے: جامع، لچکدار اور پائیدار‘‘۔

پائیدار مالیاتی امور پر، اراکین نے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے لیے فنانسنگ کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کیا، جس میں ایک پائیدار اور لچکدار عالمی معیشت کی ترقی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے موسمیاتی کارروائی بھی شامل ہے۔

2023 کے لیے ترجیحی شعبوں پر بین الاقوامی ٹیکس لگانے کے سیشن کے دوران اہم بات چیت کی گئی، جس میں او ای سی ڈی جی 20 جامع فریم ورک کے تحت تیار کیے جانے والے دو ستون والے ٹیکس پیکج کی پیش رفت کی نگرانی، ٹیکس کی شفافیت کو بڑھانا اور ٹیکس لگانے پر کثیر الجہتی صلاحیت کی تعمیر شامل ہے۔

گلوبل ہیلتھ سیشن میں، جی 20 کے نمائندوں نے مالیاتی اور صحت کی وزارتوں کے درمیان وبائی امراض سے بچاؤ کی تیاری اور رسپانس (پی پی آر) کے درمیان رابطہ کاری کے انتظامات کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا، جس میں اہم علاقائی تنظیموں کو بحث میں مدعو کرکے کم آمدنی والے ممالک کی آواز کو وسعت دینا بھی شامل ہے۔

میٹنگ کے آخری سیشن میں مالیاتی شعبے اور مالیاتی شمولیت کے مسائل پر غور کیا گیا۔ بات چیت میں مالیاتی شعبے کی پیش رفت اور لوگوں پر مرکوز وژن کے ذریعے مالیاتی شمولیت کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ مندوبین نے مناسب مالیاتی ضوابط اور مشترکہ نقطہ نظر کے ذریعے مالی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ترجیحات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

مجموعی طور پر، میٹنگ میں 2023 کے لیے بھارت کے جی 20 فنانس ٹریک ایجنڈا کی مجوزہ ترجیحات پر وسیع حمایت حاصل ہوئی۔ بھارت جی 20 صدارت کے دوران ایجنڈا آئٹمز کی مزید ترقی کو مالیات اور مرکزی بینک کے نمائندوں کی طرف سے پیش کردہ خیالات سے تقویت ملے گی جو وسیع تناظر کی نمائندگی کرتے ہیں۔

یہ بات چیت پہلی جی 20 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنروں کی میٹنگ کے لیے راہ ہموار کرے گی جو 23 سے 25فروری کو کرناٹک کے شہر بنگلورو میں منعقد ہوگی۔

 ۔۔۔

ش ح ۔ اس ۔ ت ح                                               

U 13823



(Release ID: 1883613) Visitor Counter : 236


Read this release in: English , Marathi , Telugu , Kannada