زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

مرکزی وزیر زراعت کا کہنا ہے کہ باغبانی کلسٹر ڈیولپمنٹ پروگرام سے کسانوں کو فائدہ ہوگا


کسی بھی اسکیم کے مرکز میں کسانوں کا مفاد سب سے زیادہ ہونا چاہئے – جناب تومر

Posted On: 30 NOV 2022 4:23PM by PIB Delhi

نئی دہلی،30نومبر، 2022/زراعت اور کسانوں کی بہبود کی مرکزی وزارت نے باغبانی کے کلسٹر کے فروغ کا پروگرام (سی ڈی پی) تیار کیا ہے، جس کے کے لیے زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر کی صدارت میں اس کے مناسب نفاظ کےلیے ایک میٹنگ منعقد کی گئی ۔ وزیر مملکت جناب کیلاش چودھری نے میٹنگ میں ورچوئل طور پر شرکت کی۔ میٹنگ میں جناب تومر نے متعلقہ افسران سے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد ملک میں زراعت کے شعبے کو فروغ دینا اور کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت دے کر ان کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے، اس لیے کسی بھی پروگرام / اسکیم کے مرکز میں کسانوں کا مفاد سب سے اہم ہونا چاہئے۔

مرکزی وزیر جناب تومر نے کہا کہ کلسٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے نفاذ کی مدد سے ملک میں باغبانی کی مجموعی ترقی پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور اس بات پر زور دیا جائے گا کہ کسانوں کو اس پروگرام سے فائدہ پہنچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش، آسام، مغربی بنگال، منی پور، میزورم، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ وغیرہ کو بھی 55 کلسٹروں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے، جن کی نشاندہی ان کی توجہ/ اہم فصلوں کے ساتھ کی گئی ہے۔ جناب تومر نے کہا کہ زرعی تحقیق کی بھارتی کونسل (آئی سی اے آر) سے منسلک اداروں کے پاس دستیاب زمین کو اس پروگرام کے نفاذ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے فصلوں کے تنوع پر بھی زور دیا اور اس حوصلہ افزا پروگرام کو پیداوار کی فروخت اور صلاحیت کی تعمیر کے لیے مارکیٹ سے جوڑنے پر بھی زور دیا۔

وزیر مملکت جناب چودھری نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی جیو ٹیگنگ، کھیتوں میں لاگو کی جانے والی سرگرمیوں کا پتہ لگانے، نگرانی کے مقصد وغیرہ کی ضرورت ہے۔

میٹنگ و مطلع کیا  گیا کہ کلسٹر ڈیولپمنٹ پروگرام باغبانی کی پیداوار کی موثر اور بروقت نقل و حمل اور نقل و حمل کے لیے کثیر ماڈل والےٹرانسپورٹ کے استعمال کے ساتھ آخری میل تک کنیکٹوٹی پیدا کرکے پورے باغبانی کے ماحولیاتی نظام کو تبدیل کرنے کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔ سی ڈی پی معیشت میں مدد کرتے ہوئے کلسٹر کے لیے  مخصوص برانڈز بھی تشکیل دیگا تاکہ انہیں قومی اور عالمی ویلیو چینز  سے مربوط کیا جا سکے اور اس طرح کسانوں کے لیے زیادہ معاوضہ فراہم کیا جاسکے ۔ سی ڈی پی سے تقریباً 10 لاکھ کسانوں اور ویلیو چین کے ساتھ ساتھ متعلقہ فریقوں کو فائدہ پہنچے گا۔ سی ڈی پی کا مقصد ہدف شدہ فصلوں کی برآمدات میں تقریباً 20 فیصد کا اضافہ کرنا اور کلسٹر فصلوں کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے کلسٹر مخصوص برانڈ تشکیل دینا ہے۔ سی ڈی پی کے ذریعے باغبانی کے شعبے میں بھی کافی سرمایہ کاری راغب ہوگی ۔

میٹنگ کے دوران، جناب تومر نے کلسٹر وار 12 بروشر جاری کیے جن میں متعلقہ سرکاری اسکیموں /پروگراموں کے ذریعے مالی امداد حاصل کرنے کے مواقع کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ بروشرز فوکس کراپ، ممکنہ ویلیو ایڈیشن اور برآمدی مقامات کے بارے میں بھی مختصر معلومات فراہم کرتے ہیں۔

مرکزی زراعت کے سکریٹری جناب منوج آہوجا، جوائنٹ سکریٹری جناب پریہ رنجن، باغبانی کمشنر جناب پربھات کمار کے ساتھ وزارت زراعت اور قومی باغبانی بورڈ (این ایچ بی) کے افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔

 ۔۔۔

ش ح ۔ و ا۔ ع ا ۔                                                

U 13134



(Release ID: 1880105) Visitor Counter : 130