وزارت اطلاعات ونشریات
azadi ka amrit mahotsav

میڈیا اور تفریحی سیکٹر کو 2030 تک 100بلین ڈالر سے زیادہ ہوجانا چاہئے:فکی فریمس فاسٹ ٹریک 2022 میں سیکریٹری برائے مرکزی اطلاعاعت و نشریات


فلم شعبے میں زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لئے انویسٹ انڈیا کے تعاون سے فلم سہولت مرکز کو نئی شکل دی جائے گی

گھٹتے تھیٹر کے رویے کو بہتر کرنے کے لئے سرکار تھیٹروں کے لئے ماڈل تھیٹر پالیسی اور سنگل –وِنڈو کلیئرینس لے کر آئے گی

پی پی پی موڈ میں اے وی جی سی کے لئے قومی اعلیٰ کارکردگی مرکز قائم کیا جائے گا

’’بغیر ڈاٹا کی کھپت کے موبائل فون پر اعلیٰ کوالٹی والا ڈیجیٹل مواد لانے کے لئے ڈائریکٹ-ٹو-موبائل نشریات کی جدید ترین تکنیک کا پتہ لگایا جارہا ہے‘‘

سنیماٹوگراف ایکٹ میں ترمیم پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کئے جانے کی تجویز ہے:اطلاعات و نشریات کے سیکریٹری

Posted On: 27 SEP 2022 2:24PM by PIB Delhi

مرکزی اطلاعات و نشریات کے سیکریٹری اپوروا چندرا نے میڈیا اور تفریحی صنعت پر زور دیا کہ سال 2030تک اس صنعت کو 100بلین ڈالر سے بھی زیادہ تک بڑھانے کا ہدف مقرر کریں۔ آج 27ستمبر 2022 کو ممبئی میں فکی فریمس فاسٹ ٹریک 2022 کے افتتاحی سیشن کو خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری محترم نے کہا’’ہندوستان اگلے 10 سالوں میں 10ٹریلین ڈالر کی معیشت ہوگا، ایسے میں ہمیں یہ ہدف طے کرنا چاہئے کہ میڈیا اور تفریحی سیکٹر 2030 تک 100بلین ڈالر سے زیادہ کا ہوجائے۔اطلاعات و نشریات کی وزارت میڈیا اور تفریحی سیکٹر کو تعاون دینے اور اس کے فروغ میں مدد کرنے کے لئے جو بھی ممکن ہو کرے گی۔‘‘

 

02.jpg

 

جناب چندرا نے اعلان کیا کہ ہندوستان میں فلم سیکٹر میں زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لئے انویسٹ انڈیا کا فائدہ اٹھایاجائے گا۔ انہوں نے کہا ’’وزارت نے مختلف فلم اِکائیوں کا ایک کے تحت انضمام کردیا ہے۔ممبئی میں واقع این ایف ڈی سی سرکار کی سنیمائی شاخ کا مرکز بننے جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم فلم سہولت دفتر کو نئی شکل دینا چاہتے ہیں۔ ہم اسے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں سرکار کے ذریعے تشکیل دی گئی بنیادی سرمایہ کاری شاخ انویسٹ انڈیا کو سونپنے جارہے ہیں، تاکہ فلمی صنعتوں کو ہندوستان کی طرف متوجہ کیا جاسکے۔ اس سال ہندوستان میں 100ارب ڈالر سے زیادہ کی ایف ڈی آئی آرہی ہے۔ہم غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لئے انویسٹ انڈیا کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ہم غیر ملکی فلم سازوں تک پہنچیں گے ، تاکہ وہ ہندوستان آسکیں۔‘‘

سیکٹری محترم نے بتایا کہ ہندوستان میں فلم شوٹنگ کو بڑھاوا دینے کے لئے سرکار ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’حال ہی میں کان فلم فیسٹول میں ہم نے ہندوستان میں غیر ملکی فلموں کی شوٹنگ کے لئے حوصلہ افزائی اسکیم اور آڈیو-ویزوئل مشترک –تعمیر کے لئے حوصلہ افزائی والی اسکیم کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے ذریعے دی گئی حوصلہ افزائی کے ساتھ یہ فلم سازوں کے لئے ایک فائدہ مند اور پرکشش پیکیج بن جاتا ہے۔‘‘

 

02.jpg

 

اپوروا چندرا نے اعلان کیا کہ حکومت ہند ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور ایک ماڈل تھیٹر پالیسی تیار کرے گی۔ انہوں نے بتایا ’’ پچھلے 6-5سالوں میں سنیما گھروں کی تعداد میں گراوٹ آئی ہے۔ ہمیں اس رویے کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ہم فلم سہولت دفتر کو انویسٹ انڈیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ذمہ دیں گے، تاکہ تھیٹر کھولنے کے لئے سنگل- وِنڈو پورٹل بنایا جاسکے۔زیادہ سے زیادہ تھیٹر بن سکیں اور عوام کو سنیما گھروں میں فلموں کا جادو دیکھنے کے زیادہ موقع مل سکے۔ ہم ریاستوں کے ساتھ مل کر ایک ماڈل تھیٹر پالیسی بھی بنائیں گے، تاکہ ریاستیں اسے اپنا سکیں اور اس پر کام کرسکے۔‘‘

کووڈ-19وباء کے سبب لوگوں کی دیکھنے سے متعلق عادتیں بھی بدل گئی ہیں۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سیکریٹری محترم نے کہا کہ جب تین دن پہلے ٹکٹوں کی قیمتیں 75روپے کردی گئیں تو تمام شو ہاؤس فل گئے۔ انہوں نے کہا کہ’’ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر قیمتیں صحیح ہوں تو لوگ تھیٹر کا خرچ اٹھا سکتے ہیں۔ لوگوں میں سنیماگھر جانے کی للک اب بھی ہے۔ اس لئے ہمیں اس نکتے پر کام کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم لوگوں کو سنیما گھروں میں واپس کیسے لاسکتے ہیں۔‘‘

سیکریٹری محترم نے صنعتی دنیا کو بتایا کہ سنیما ٹوگراف ایکٹ میں مجوزہ ترمیمات پر کل فلم صنعت کے کچھ اہم لوگوں کے ساتھ ان کی ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ’’ تمام اسٹیک ہولڈرز نے یو اے زمرے کے ساتھ عمر کی درجہ بندی اور اینٹی پائریسی التزامات کو لانے سے متعلق مجوزہ ترمیمات کی حمایت کی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ فلم صنعت کی حمایت سے ہم پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں ترمیم شدہ بل پیش کرنے کی امید کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اطلاعات و نشریات کی وزارت کے ذریعے تشکیل شدہ اینی میشن، ویزوئل اِفیکٹس، گیمنگ اینڈ کومکس(اے وی جی سی) پر وموشن ٹاسک فورس آئندہ پندرہ دنوں کے اندر اپنی رپورٹ سونپ دے گی۔ اے وی جی سی کو مستقبل بتاتے ہوئے سیکریٹری محترم نے صنعتی دنیا سے کہا کہ ہم سب ٹاسک فورس کی رپورٹ جمع کررہے ہیں، اس کے بعد ہم سفارشات جمع کریں گے اور رپورٹ کو اپنانے کے عمل سے گزریں گے۔ہالی ووڈ کی اعلیٰ ترین فلمیں اب بنگلورو اور دیگر مقامات پر بن رہی ہیں۔ اے وی جی سی اب آنے والا انقلاب ہے۔ جیسا کہ 20 سال قبل آئی ٹی انقلاب آیا تھا۔

سیکریٹری محترم نے بتایا کہ نجی سیکٹر کے تعاون سے اے وی جی سی کے لئے اعلیٰ کارکردگی کے مرکز قائم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا’’مجھے آپ کو یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ ہم نے نجی سیکٹر کے تعاون سے اے وی جی سی سینٹر آف ایکسی لینس قائم کرنے کا اصولی فیصلہ لیا ہے۔ ہمیں اطلاعات و نشریات کی وزارت کے لئے 48فیصد حصے داری، فکی کے لئے 26 فیصد اور سی آئی آئی کے لئے 26فیصد حصے داری کی تجویز کررہے ہیں، تاکہ سرکار کے بجائے نجی سیکٹر اے وی جی سی سے جڑی تبدیلی کی قیادت کرے۔ ہمیں امید ہے کہ اطلاعات و نشریات کی وزارت میڈیا اور تفریحی صنعت میں اُچھال کے لئے ایک تحریک کی شکل میں کام کرے گی۔‘‘

 

03.jpg

 

ہندوستانی شہری جلد ہی اپنے موبائل فون پر اعلیٰ کوالٹی والی فلمیں اور تفریحی مواد دیکھ سکیں گے اور وہ بھی ڈاٹا کھپت کے بغیر۔ سیکٹری جناب چندرا نے بتایا ’’ہندوستان میں ہم ڈاٹا لاگت کے بارے میں کبھی نہیں سوچتے، کیونکہ ڈاٹا دیگر ملکوں کے مقابلے یہاں بہت سستا ہے۔ یہ میڈیا اور تفریحی صنعت کو ایک بڑا موقع دیتا ہے۔ ف5جی آنے کے بعد ڈائریکٹ –ٹو-موبائل نشریے کے لئے ایک اور موقع ہے۔ آئی آئی ٹی کانپور کے تعاون سے پرسار بھارتی ایک پروف-آف-کنسیپٹ لے کر آیا ہے، جہاں 200 سے زیادہ چینل دیکھے جاسکتے ہیں اور اعلیٰ کوالٹی والی فلمیں موبائل فون پر بغیر کسی ڈاٹا کا استعمال کئے ڈائریکٹ –ٹو-موبائل نشریے کا استعمال کرکے دیکھی جاسکتی ہے۔‘‘ انہوں نے یقین دلایا کہ یہ تبدیلی اگلے 4-3سالوں کے اندر ہوجائے گی۔

اطلاعاعت و نشریات کے سیکریٹری نے اس سیکٹر میں زیادہ روزگار پیدا کرنے میں میڈیا اور تفریحی ہنر مندی کونسل کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔  انہوں نے کہا’’کئی لوگ اب او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر مواد دیکھ رہے ہیں، لیکن کنٹینٹ (مواد)کرئیشن کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے، جس سے زیادہ لوگوں کو نوکریاں مل رہی ہیں۔ اس میں میڈیا اور تفریحی ہنرمندی کونسل کا بڑا رول ہے، کیونکہ زیادہ نوکریاں پیدا کرنے کا سب سے اہم حصہ ہے ہنرمندی سے لیس کرنا۔‘‘

 

04.jpg

 

اس افتتاحی تقریب میں فلم ساز سِپی، برطانیہ کے ویسٹ  یارک شائر کی میئر ٹریسی بریبن، مشہور فلمی شخصیت رنویر سنگھ، پُنر یُگ کے بانی اور فکی اے وی جی سی فورم کے صدر آشیش کُلکرنی، مواصلات اور آئی ٹی پر اسٹینڈنگ کمیٹی کی ممبر، ممبرپارلیمنٹ سُم لتا امبریش ، ٹرانسپورٹ، سیاحت اور ثقافت پر اسٹینڈ نگ کمیٹی کی ممبر ، ممبرپارلیمنٹ پرینکا چترویدی، مواصلات اور آئی ٹی پر اسٹینڈنگ کمیٹی کی ممبر، ممبرپارلیمنٹ سنجے سیٹھ اور فکی کے ڈائریکٹر جنرل ارون چاولہ موجود تھے۔

فکی فریمس فاسٹ ٹریک میں فلم ، نشریہ(ٹی وی اور ریڈیو)، ڈیجیٹل تفریح، اینی میشن، گیمنگ اور ویزوئل اِفیکٹس  جیسے میڈیا  اور تفریحی سیکٹر کے مختلف پہلوؤں کو شامل کرنے والے ایشوز ؍موضوعات پر ورکشاپ اور ماسٹر کلاس کے ساتھ ساتھ مکمل اور یکساں سیشن ہوں گے۔ اس صنعت کے اسٹیک ہولڈرز جیسے میڈیا اور تفریحی کمپنیوں کے سی ای او ،  فلم ساز، ہدایت کار  اور صنعت کے دیگر کاروباری اور تخلیقی صلاحیتیں، مرکز اور ریاستی سرکاروں کے سینئر نمائندوں کے ساتھ ہر سال اس پروگرام لیتے ہیں۔

 

05.jpeg

 

 

 

*************                                                                        

 

ش ح-ج ق–ن ع

U. No.10715



(Release ID: 1862649) Visitor Counter : 79