وزارت دفاع

’پنیت ساگر ابھیان‘ کو عالمی شراکت دار  ملا: این سی سی اور یو این ای پی نے  وزیردفاع   جناب راج ناتھ سنگھ کی موجودگی میں مفاہمت نامے پر دستخط کیے تاکہ صاف پانی کے  اداروں کے عالمی ہدف کو حاصل کرنے کی کوششوں کو ہم آہنگ کیا جا سکے

Posted On: 22 SEP 2022 1:13PM by PIB Delhi

نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی) اور اقوام متحدہ کے ماحولیات پروگرام (یو این ای پی) نے 22 ستمبر 2022 کو نئی دہلی میں وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کی موجودگی میں ایک مفاہمت نامہ  (ایم او یو) پر دستخط کیے تاکہ پلاسٹک کی آلودگی کے مسئلے سے نمٹا جاسکے  اور'پنیت ساگر ابھیان' اور 'ٹائیڈ ٹرنرز پلاسٹک چیلنج پروگرام' کے ذریعے صاف پانی کے ذخائر کے عالمی مقصد کوحاصل کیا جاسکے۔ اس مفاہمت نامے پر این سی سی   کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل گربیرپال سنگھ اور اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے ریزیڈنٹ نمائندے مسٹر بشو پاراجولی کے درمیان دستخط کیے گئے۔اس موقع پر دفاع کے وزیر مملکت ،جناب اجے بھٹ، سیکرٹری دفاع ڈاکٹر اجے کمار؛ اس موقع پر وزارت دفاع کے دیگر اعلیٰ حکام اور یو این ای پی کے نمائندے بھی موجود تھے۔

’پنیت ساگر ابھیان‘ کوسب سے بہترین قدم بتاتے ہوئے ، سکریٹری دفاع نے اپنے خطاب میں مہم کو کامیاب بنانے میں این سی سی کی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ 1.5 ملین این سی سی کیڈٹس دنیا بھر کے نوجوانوں کی سوچ کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ وہ اس مہم کو ایک عوامی تحریک بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ڈاکٹر اجے کمار نے مہم کے لیے این سی سی کو تعاون فراہم کرنے کے لیے یو این ای پی کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ "آئندہ نسلوں کو لمبی اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ماحول کی حفاظت کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے"۔

ہندوستان کی موسمیاتی تبدیلی کے عزم کا ستون:

'پنت ساگر ابھیان' وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کو پورا کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے متعدد اقدامات میں سے ایک ہے، جسے انھوں نے ۔ 31 اکتوبر سے 13 نومبر 2021 کے درمیان ساکاٹ لینڈ کے گلاسگو میں منعقدہ 26ویں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس سی او پی 26 کے دوران 'پنچ امرت' کے نام سے موسوم کیا ۔ وزیر اعظم نے پانچ امرت عناصر پیش کئے کیوں کہ ہندوستان کا  آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے میں بے مثال تعاون ہے ۔ یہ ہیں :

  1. ہندوستان 2030 تک اپنی غیر فوسل توانائی کی صلاحیت کو 500 گیگا واٹ تک لے جائے گا۔
  2. ہندوستان 2030 تک اپنی توانائی کی ضروریات کا 50 فیصد قابل تجدید توانائی سے پورا کرے گا۔
  3. ہندوستان اب سے 2030 تک کل متوقع کاربن کے اخراج میں ایک بلین ٹن کمی کرے گا۔
  4. 2030 تک، ہندوستان اپنی معیشت کی کاربن کی شدت کو 45 فیصد سے زیادہ کم کر دے گا۔
  5. 2070 تک ہندوستان نیٹ زیرو کے نشانے کو حاصل کر لے گا۔

اسپریلنگ ڈرائیو:

این سی سی نے 01 دسمبر 2021 کو 'پنیت ساگر ابھیان' کا آغاز کیا تھا،  یہ ایک ملک گیر اہم مہم ہے جوابتدائی طور پر ایک ماہ کے لیے شروع گئی تھی تاکہ ، سمندر کے ساحلوں کو پلاسٹک اور دیگر فضلہ مواد سے صاف کیا جاسکے، اور صفائی کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا  کی جاسکے۔ اس کے بعد اسے دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر کا احاطہ کرنے کے لئے پین انڈیا راؤنڈ دی ایئر مہم کے طور پر وسعت د ی گئی ۔

این سی سی، دنیا کی سب سے بڑی نوجوانوں کی  باوردی تنظیم ہے، نے اپنے کیڈٹس کو پلاسٹک اور دیگر فضلہ جمع کرنے کے لیے متحرک کیا۔ اس مہم نے اپنے آغاز کے بعد زبردست رفتار اور مقبولیت حاصل کی اور اسکے شروع ہونے کے بعد سے لوگ زیادہ سے زیادہ شریک ہوئے۔ مختلف وزارتوں اور تنظیموں نیز ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمہ، ہندوستانی بحریہ، ہندوستانی ساحلی محافظ، سینک اسکول سوسائٹی، آرمی ویلفیئر ایجوکیشن سوسائٹی، بارڈر روڈز تبظیم اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا نے اس عظیم مقصد میں این سی سی کو اپنا تعاون بڑھایا ہے۔

’پنیت ساگر ابھیان‘ کے آغاز کے بعد سے، 12 لاکھ سے زیادہ این سی سی کیڈٹس، سابق طلباء اور رضاکاروں کے ذریعے تقریباً 1,900 مقامات سے 100 ٹن سے زیادہ پلاسٹک کا فضلہ جمع کیا گیا ہے، جس سے 1.5 کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ جمع کیے گئے تقریباً 100 ٹن پلاسٹک کے فضلے میں سے 60 ٹن سے زیادہ ری سائیکلنگ کے لیے حوالے کیے گئے ہیں۔

'پنیت ساگر ابھیان' - ایک اہم موڑنے دینے والی مہم

اس مہم کی بڑھتی ہوئی کامیابی اور حمایت حاصل ہونےکے بعد یو این ای پی  جو  اپنے 'ٹائیڈ ٹرنر چیلنج پروگرام' کے ذریعے اس اقدام میں مصروف ہے این سی سی کے ساتھ ملا نے کافیصلہ کیا اس کامقصدنوجوانوں کی تنظیم کی طاقت سے فائدہ اٹھانا اور اسے بروئےکار لناہے ۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے پاس ماحولیات سے متعلق مختلف مسائل بشمول پلاسٹک کی آلودگی سے نمٹنے کی صلاحیت اور علم کی بنیاد ہے اور اس میں نوجوانوں کو شامل کرنے کا پروگرام ہے۔

این سی سی اور یو این ای پی کے درمیان مفاہمت نامے کا مقصد صاف پانی کے ذخائر  کے فروغ کے لئے نوجوانو ں کو شامل کرنے کے لئے ہم آہنگی پیدا کرنا اور تعاون دینا ہے۔ اس کا مقصد معلومات کو مشترک کر کے اور تربیتی اقدامات کے ذریعے ماحولیاتی پائیداری سے متعلق بیدری اور صلاحیت سازی میں شامل ہونا ہے۔ اس کے علاوہ این سی سی کیڈٹس کے لیے مواقع کو فروغ دینا ہے کہ تاکہ ماحولیات اور آب وہوا میں تبدیلی سے متعلق مناسب قومی اور بین الاقوامی پلیٹ فارموں میں شرکت کی جاسکے  اور ماحول یات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آپسی  ارادے کے مشترکہ اقدامات کو فروغ دیا جاسکے اورا س سے جڑا جاسکے ۔یہ مفاہمت نامہ تین سال کی مدت کے لیے نافذ العمل رہے گا اوراس کا مقصد ماحولیات کے شعبے میں مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے ان کے تعاون اور اثرپذیری کو مضبوط کرنا، اوراسے فروغ دینا ہے ۔

 

*************

 

ش ح۔ ح ا  ۔ ف ر

U- 10555



(Release ID: 1861465) Visitor Counter : 150