صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

ڈاکٹر منسکھ مانڈویا نے رکت دان امرت مہوتسو کے حصے کے طور پر خون کے عطیے  کے کیمپ کا افتتاح کیا


انہوں نے خون کا عطیہ دیا اور سبھی سے زور دے کر کہا کہ وہ سیوا اور سہیوگ کے جذبے اور مالا مال روایت پر عمل کرتے ہوئے خون کا رضاکارنہ طور پر عطیہ دینے کی ملک گیر مہم کا احصہ بنیں

’’جدید ترین ٹکنالوجی موجود ہونے کے باوجود خون کا کوئی متبادل نہیں ہے، ایک یونٹ خون سے تین زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں‘‘

ہر دو سیکنڈ میں ، بھارت میں ایک شخص کو خون کی ضرورت ہوتی ہے ؛ زندگی میں تین افراد میں سے ایک کو کبھی نہ کبھی خون کی ضرورت ہوتی ہے: ڈاکٹر منسکھ مانڈویا

Posted On: 17 SEP 2022 12:18PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 17ستمبر، 2022/ ’’خون کا عطیہ ایک عظیم مقصد ہے اور سیوا اور سہیوگ کی ہماری مالا مال ثقافت اور روایت کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں سبھی شہریوں سے زور دے کر کہتا ہوں اور اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں  اور خون کا عطیہ دینے کی رضاکارانہ ملک گیر مہم رکت دان امرت مہوتسو کے حصے کے طور پر خون کا عطیہ دیں۔ خون کے عطیے سے نہ صرف ملک کی ضرورت پوری ہوتی ہے بلکہ سماج اور انسانیت کے تئیں ایک عظیم خدمت بھی ہے۔ ‘‘ یہ بات صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویا نے آج نئی دلی کے صفدرجنگ استعمال میں خون کے عطیے کےکیمپ میں ، خون کا عطیہ کرتے ہوئے کہی۔

 

 

صحت کے مرکزی وزیر نے خون کے رضاکارانہ عطیے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، ’’رکت دان امرت مہوتسو آزادی کے امرت مہوتسو کی بڑی تقریبات کا حصہ ہے۔ اس مہم کا مقصد بغیر پیسہ لیےخون کے رضاکارانہ لگاتار عطیے کے بارے میں بیداری میں اضافہ کرنا  اور یقین دہانی کرانا کہ خون یا اس کے اجزاء (پورا خون / پیکیٹ والے لا خون کے خلیے / پلازما / پلیٹلیٹس) دستیاب  ، قابل رسائی اور محفوظ ہیں۔ ‘‘2021 کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی سالانہ ضرورت تقریباً 1.5 کروڑ یونٹ ہیں۔  انہوں نے کہا بھارت میں ہر دو سیکنڈ میں کسی نہ کسی کو خون کی ضرورت ہوتی ہے، ہم میں سے تین میں سےکسی ایک کو زندگی میں کبھی نہ کبھی خون کی ضرورت ہوتی۔  ڈاکٹر مانڈویا نےکہا ’’جدید ترین ٹکنالوجی موجود ہونے کے باوجود ، خون کا ابھی تک کوئی متبادل نہیں ہے اور ایک یونٹ خون سے تین زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ ‘‘

ڈاکٹر مانڈویا نے خون کے عطیے کے کیمپ میں عطیہ دینے والوں سے ملاقات کی اور خون عطیہ کرنے کے اس بے لوث کام پر ان کی تعریف کی۔ خون کے عطیے کے بارے میں کہاوتوں کو رد کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویا نے کہا کہ ایک شخص کو اس کی زندگی میں پانچ سے چھ لیٹر خون درکار ہوتا ہے اور وہ ہر نوے دن  (تین مہینے) میں خون کا عطیہ دیا جاسکتا ہے۔‘‘ ہمارا جسم بہت جلدی خون کو بحال کر لیتا ہے؛ خون کے پلازمے کا ہضم 24 سے 48 گھنٹے ، خون کے لال خلیے تقریباً تین ہفتےمیں اور پلیٹ ، سفید خون کے خلیے چند منٹ میں۔

ملک گیر مہم کو بلڈ بینک کے مینجمنٹ سے متعلق اطلاعاتی نظام کے ذریعے مدد دی جاتی ہے جسے ای – رکت کوش پورٹل کہا جاتا ہے جو خون کا عطیہ دینے والوں کی ایک قومی ریپوزیٹری ہے۔ اس سے خون کا عطیہ دینے والوں کےایک بڑے ریکارڈ کی یقین دہانی ہوگی اور جب کبھی ضرورت ہو تو خون جلد از جلد دستیاب کرایا جا سکے۔

ای- رکت کوش پورٹل کے لیے رابطہ :

https://www.eraktkosh.in/BLDAHIMS/bloodbank/transactions/bbpublicindex.html

ڈاکٹر مانڈویا نےدور حاضر کے نقش قدم کتاب کا اجرا بھی کیا جس میں صفدرجنگ اسپتال کے بھارت کےحفظان صحت کےلیے کیے گئے تعاون کی جھلک پیش کی گئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح ۔ اس۔ ت ح ۔                                              

U - 10365

 



(Release ID: 1860083) Visitor Counter : 157