زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

زراعت میں پی پی پی پروجیکٹوں کو راغب کرنے کے لیے مرکزی وزارت زراعت و کسان بہبود اور ایف آئی سی سی آئی کی مشترکہ پہل کا آغاز


جناب نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ زراعت کے شعبے کو بااختیار بنانا ملک اور معاشرے کے لیے اہم ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے گذشتہ آٹھ برسوں کے دوران 1500 سے زائد غیر ضروری قوانین کو ختم کیا جس سے عام آدمی کی زندگی آسان ہوگئی: جناب تومر

Posted On: 08 SEP 2022 4:54PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 08 ستمبر 2022 :

زراعت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے آج نئی دہلی میں زراعت میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ (پی پی پی) پر پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب تومر نے زراعت کے شعبے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ اس سے دیگر شعبوں کو بھی مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ پی پی پی ماڈل زراعت کے شعبے میں ترقی کے لیے مثالی نمونہ ثابت ہوسکتا ہے اور پی پی پی منصوبوں کو اپنی آمدنی میں اضافے کے ذریعے کسانوں کو فائدہ پہنچانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

جناب تومر نے کہا کہ زراعت کے شعبے کو بااختیار بنانا ملک اور معاشرے کے لیے بہت اہم ہے۔ "اگر صرف حکومت ہی تمام کام کرتی رہے تو یہ کوئی مثالی صورتحال نہیں ہے۔ بہتر کام صرف عوامی شرکت سے ہی کیے جا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی شعبے کی ترقی کے لیے حکومت سب کے تعاون سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001AREY.jpg

 

جناب تومر نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے گذشتہ آٹھ برسوں کے دوران 1500 سے زائد فضول قوانین کو ختم کرکے نظام کو آسان بنایا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی آسان ہوگئی ہے۔ ''آزادی کے امرت مہوتسو کے موقع پر اور وزیر اعظم مودی کے نظریات سے متاثر ہو کر ہمیں سوچنا چاہیے کہ فیکی جیسی تنظیمیں ملک کے مفاد میں مزید کیا کر سکتی ہیں؟ اگر سوچ اور رویہ بدل جائے گا تو پھر تبدیلی آئے گی۔ ہر ایک کا مقصد درست ہے، لیکن اس طرح کے خیالات پر عمل درآمد ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ پی پی پی ایک مثالی ماڈل ہے جس سے سب کو فائدہ ہوتا ہے، متعلقہ شعبے میں پیش رفت ہوتی ہے اور ملک کی مجموعی ترقی ہوتی ہے۔

جناب تومر نے کہا کہ تجارت اور صنعت کا شعبہ مضبوط اور منظم ہے، ان کے پاس تمام ذرائع ہیں، وہ زراعت کے شعبے کو فروغ دے سکتے ہیں۔ حکومت اپنی جانب سے زراعت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کی مالیت کے زراعت کے انفرا اسٹرکچر فنڈ، 10,000 کسان پروڈیوسر تنظیموں (ایف پی او) کی تشکیل اور پردھان منتری فصل بیما اسکیم جیسی مختلف اسکیموں کے ذریعے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کسان تنظیمیں بنانے، انھیں بااختیار بنانے، نئی تکنیک فراہم کرنے، منافع بخش فصلوں کو فروغ دینے اور عالمی معیار کے مساوی پیداوار کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ "کسانوں کی حوصلہ افزائی حکومتی اقدامات سے ہوتی ہے اور اب اس کے نتائج واضح ہیں۔ انھوں نے کہا کہ "یہ اطمینان بخش بات ہے کہ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے وزیر اعظم مودی کا عزم ان تک پہنچا ہے اور ایف آئی سی سی آئی جیسی تنظیمیں اس مقصد کے حصول کے لیے سخت محنت کر رہی ہیں۔"

جناب تومر نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہر فرد زراعت کے شعبے میں ترقی کے حصول کے لیے کوششیں کرے گا اور اسے کسانوں کے لیے زیادہ فائدہ مند بنائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر زراعت مضبوط ہے تو پھر ملک نامساعد حالات کا بھی مقابلہ کر سکتا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002IX90.jpg

 

‏اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سکریٹری (اے ایف ڈبلیو) جناب منوج آہوجا نے کہا کہ حکومت کو زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے میں معاون کردار ادا کرنا چاہیے۔ نجی شعبے اور غیر سرکاری تنظیموں کو زراعت کے منصوبوں پر حکومت کے ساتھ مل کر شراکت داری کرنی چاہیے جس کا مفید اثر ہوگا۔ ‏

‏فیکی کے سینئر نائب صدر جناب شبراکانت پانڈا نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آج زراعت میں پی پی پی کے لیے شروع کردہ پی ایم یو پہل سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زراعت میں بڑے پیمانے پر پی پی پی منصوبوں میں تیزی آئے گی اور سرکاری اسکیموں اور سبسڈیوں میں ہم آہنگی آئے گی۔ ‏

‏اس موقع پر ایڈیشنل سکریٹری (اے ایف ڈبلیو) جناب ابھیلکش لیکھی اور ڈی اے ایف ڈبلیو اور ایف آئی سی سی آئی کے دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ ریاستوں اور صنعت کے نمائندوں نے آن لائن شمولیت اختیار کی۔ ‏

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003VMZC.jpg

 

زراعت کی سرمایہ کاری اور زراعت میں مجموعی سرمائے کی تشکیل میں اضافہ زراعت کے شعبے کو جدید بنانے کی کلید ہے۔ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے ساتھ زراعت میں مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے مختلف اقدامات کی شکل میں عوامی سرمایہ کاری کو ملانا زراعت کے شعبے کے لیے ایک ضربی اثر ثابت ہوسکتا ہے۔ حکومت پیداوار کو بہتر بنانے، نقصانات کو کم کرنے اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے زراعت کے شعبے میں پی پی پی کے اقدامات کو فروغ دینے کی خواہش مند ہے۔ پی پی پی کے اقدامات زراعت میں نجی سرمائے میں بڑھیں گے، عوامی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھائیں گے اور مرکزی اور ریاستی حکومتوں، نجی شعبے اور کسانوں کو اس شعبے میں متحرک اور قدر افزودہ ترقی کے مشترکہ وژن سے ہم آہنگ کریں گے۔ پی پی پی کے اقدامات کسانوں کو فائدہ پہنچانے اور ان کے اثرات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اسکیموں کے مربوط ہونے کا باعث بھی بنیں گے۔

پی پی پی کی اس پہل کا بنیادی مقصد اضافی قدر پیدا کرنا، معیاری معلومات کی فراہمی، ٹیکنالوجی میں توسیع سے لے کر مارکیٹ لنکجز تک اور قدر افزودگی کرکے چھوٹے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ توقع ہے کہ پی پی پی کے اقدامات سے زراعت کے طریقوں کو جدید بنانے، آب و ہوا سے لچکدار فصلوں میں تحقیق کو فروغ دینے، زراعت اور دیہی بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور زرعی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ ایک خاص مقصد ریاستوں کو اپنے متعلقہ زرعی آب و ہوا کے علاقوں کی مکمل صلاحیت کو کھولنے اور مختلف قسم کی زرعی پیداوار کو کھولنے میں مدد دینا اور پیداوار کنندگان کو گھریلو اور برآمدی منڈیوں کے ساتھ بہتر طور پر مربوط کرنے میں مدد دینا ہے۔

اس پس منظر میں محکمہ زراعت و کسانوں کی فلاح و بہبود اور ایف آئی سی سی آئی نے زراعت میں پی پی پی کے اقدامات کو فروغ دینے کے لیے اس مشترکہ پہل کا اعلان کیا ہے۔

***

(ش ح – ع ا – ع ر)

U. No. 10053

 



(Release ID: 1857855) Visitor Counter : 109