وزارت سیاحت

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ’من کی بات‘ کی تازہ ترین کڑی میں ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے روایتی میلوں کی اہمیت پر زور دیا


میلے لوگوں اور دلوں کو جوڑتے ہیں: وزیراعظم

Posted On: 01 AUG 2022 5:59PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 31 جولائی 2022 کو ’من کی بات‘ کے 91ویں کڑی میں، کثرت میں وحدت کے جذبے کو فروغ دینے ’ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘،کے لیے روایتی میلوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ایک بھارت شریشٹھ بھارت کو من کی بات کے مختلف ایڈیشنوں میں قابل فخر مقام ملا ہے۔ ’من کی بات‘ کے 91ویں ایڈیشن میں وزیر اعظم نے کہا کہ اس بار ’من کی بات‘ بہت خاص ہے۔ اس کی وجہ یوم آزادی ہے، جب بھارت اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کرے گا۔

’من کی بات‘ کے دوران، وزیر اعظم نے کہا کہ ’’مجھے ہماچل پردیش سے ’من کی بات‘ کے سننے والے جناب آشیش بہل جی کا ایک خط ملا ہے، انہوں نے اپنے خط میں چمبا کے ’منجر میلے‘ کا ذکر کیا ہے۔ دراصل مکئی کے پودے کے پھول کو منجر کہتے ہیں، جب مکئی پر پھول کھلتے ہیں تو منجر میلہ لگتا ہے اور ملک بھر سے سیاح اس میلے میں شرکت کے لیے آتے ہیں، اتفاق سے اس وقت منجر کا میلہ بھی جاری ہے۔ اگر آپ ہماچل کی سیر کے لیے گئے ہیں تو آپ اس میلے کو دیکھنے کے لیے چمبا جا سکتے ہیں۔ ’’چمبے ایک دن اونا کانے مہینہ رینا‘‘ یعنی جو لوگ چمبا میں ایک دن کے لیے آتے ہیں، وہ ایک ماہ تک اس کی خوبصورتی دیکھ کر یہاں رہتے ہیں۔ ‘‘

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہمارے ملک میں میلوں کی ثقافتی اہمیت بھی ہے۔ میلے لوگوں اور دلوں کو جوڑتے ہیں۔ ستمبر میں ہماچل میں بارش کے بعد جب خریف کی فصل پک جاتی ہے تو شملہ، منڈی، کلو اور سولن میں بھی ساری یا سیر منایا جاتا ہے۔ جگرا بھی ستمبر میں ہی آنے والا ہے۔ جگرا میلوں میں مہاسو دیوتا کو پکارتے ہوئے بسو گانے گائے جاتے ہیں۔ مہاسو دیوتا کا یہ جاگرن ہماچل کے شملہ، کنور اور سرمور میں ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسے اتراکھنڈ میں بھی منایا جاتا ہے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں مختلف ریاستوں میں قبائلی معاشروں کے بہت سے روایتی میلے ہیں۔ ان میلوں میں سے کچھ کا تعلق قبائلی ثقافت سے ہے، جب کہ کچھ قبائلی تاریخ اور ورثے سے متعلق ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کو موقع ملتا ہے، تو آپ کو تلنگانہ کے میدارم میں چار روزہ سمکا -سرلما جاترا میلہ ضرور دیکھنا چاہیے۔ اس میلے کو تلنگانہ کا مہا کمبھ کہا جاتا ہے۔ سرلما جاترا میلہ دو قبائلی خواتین - سمکا اور سرلما کے اعزاز میں منایا جاتا ہے۔ یہ جگہ نہ صرف تلنگانہ بلکہ چھتیس گڑھ، مہاراشٹر اور آندھرا پردیش کی کویا قبائلی برادری کے لیے بھی عقیدت کا ایک عظیم مرکز ہے۔ آندھرا پردیش میں مریدما میلہ بھی قبائلی سماج کے عقائد سے جڑا ایک بڑا میلہ ہے۔ مریدما میلہ جیٹھ اماوسیہ سے اساڑھ اماوسیہ تک چلتا ہے اور یہاں کا قبائلی معاشرہ اسے شکتی پوجا کے ساتھ جوڑتا ہے۔ مشرقی گوداوری میں پیڈاپورم میں ایک مریدما مندر بھی ہے۔ اسی طرح راجستھان میں گراسیا قبیلے کے لوگ بیساکھ شکل چتردشی میں ’سیاوا کا میلہ‘ یا ’منکھن رو میلہ‘ کا اہتمام کرتے ہیں۔

ایک بھارت شریشٹھ بھارت، بھارت سرکار کی ایک منفرد پہل ہے، جس کا مقصد مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لوگوں کے درمیان اشتراک اور تنوع کی سراہنا کرتے ہوئے بات چیت کو بڑھانا ہے، تاکہ ان کے درمیان باہمی مفاہمت کو فروغ دیا جاسکے۔

 

******

ش ح۔ م م۔ م ر

U-NO.8491



(Release ID: 1847144) Visitor Counter : 106