عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیرڈاکٹر جتیندرسنگھ نے کہا  ہےکہ وزیراعظم جناب نریندرمودی نےبھارت میں کام کاج کا ایک ایسا طریقہ متعارف کرایاہے جہاں غریب نواز اورعوامی فلاح وبہبود سے متعلق اسکیموں کو اس طریقے سے وضع  کیاگیاہے کہ وہ ذات ، نسل ، مذہب اورووٹوں کالحاظ کئے بغیر  قطار میں سب سے آخرمیں کھڑے سب سے ضرورت مند شخص تک بھی پہنچ سکیں


بھارت  کے ابھرتے ہوئے عصری منظرنامہ کے مدنظر، وزیراعظم مودی نے مسلسل ان اسٹارٹ اپس کو فروغ دیاہے ،جو  خود اپنا ذریعہ معاش حاصل کرنے  کی صلاحیت رکھتے ہیں

اترپردیش کے شہرمرادآباد  میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرجتیندرسنگھ نے کہاکہ آٹھ سال کی مختصر مدت کےدوران ، مرکز بہت سی اسکیموں کو صد فی صد تک مکمل کرنے کے قریب پہنچاہے

غریب کلیان انّ یوجنا ، جن دھن ، اجوّلا ، شوچالیہ ، پی ایم آواس ، ہرگھرجل ، ہرگھربجلی اور آیوشمان جیسی یکسر تبدیلیاں لانے والے اسکیموں نے نریندرمودی کو غریبوں اورمحروم طبقات  کی پیروی کرنے والی شخصیت  بنادیاہے :ڈاکٹرجتیندرسنگھ   

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 JUL 2022 5:36PM by PIB Delhi

سائنس اورٹیکنولوجی کے آزادانہ چارج کے ساتھ مرکزی وزیر مملکت ، ارضیاتی علوم کے آزادانہ چارج کے ساتھ وزیر مملکت ، وزیراعظم  کے دفتر پی ایم او،کے وزیرمملکت ، عملے ، عوامی شکایات ، پنشن ، ایٹمی توانائی اورخلاء سے متعلق محکموں کے وزیر مملکت  ڈاکٹرجتیندرسنگھ  نے آج یہاں کہاکہ بھارت میں کام کاج سے متعلق ایک نیا طریقہ رائج کرانے کا سہرا ہمیشہ وزیراعظم جناب نریندرمودی کے سرجائے گا ۔ جہاں غریب نواز اورعوامی فلاح وبہبود سے متعلق  سبھی سکیموں کو اس طریقے سے وضع  کیاگیاہے کہ وہ ذات ، نسل ، مذہب اورووٹوں کالحاظ کئے بغیر  قطار میں سب سے آخرمیں کھڑے سب سے ضرورت مند شخص تک بھی پہنچ سکیں۔اسی طرح بھارت  کے ابھرتے ہوئے عصری منظرنامہ کے مدنظر، وزیراعظم مودی نے مسلسل ان اسٹارٹ اپس کو فروغ دیاہے ،جو  خود اپنا ذریعہ معاش حاصل کرنے  کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001F93W.jpg

اترپردیش کے شہرمرادآباد میں آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرجتیندرسنگھ نے کہاکہ ماضی میں جہاں ضروریات پوری نہیں ہوسکتی تھیں اورماضی میں جہاں کہیں بھی انصاف فراہم نہیں کیا جاسکا تھا وہاں ضروریات کو پوراکرنے کی غرض سے خالصتاًمعروضی پیمانوں پر عمل کیاگیاہے ۔

انھوں نے کہا ایسا ماضی کی کانگریس اور اس کی اتحادی حکومتوں کے طورپر طریقوں کو بالکل  ترک کرکے کیاگیاہے ۔ جہاں ووٹ بینک کی سیاست کی بدولت ، سرکاری فوائد کی چنندہ منتقلی کے بارے میں پہلے سے فیصلہ کرلیاجاتاتھا ۔ جناب نریندرمودی نے سبھی کے لئے انصاف کو اصول پرمبنی ، ووٹوں کا لحاظ کئے بغیر ، سرکاری نظام  تقسیم کے معیار  کو کامیابی سے بلند کیاہے اور پھراس بارے میں فیصلہ کرناعوام  پرچھوڑدیاہے کہ وہ کسے ووٹ دنیا چاہتے ہیں اورعوام نے بھی مودی حکومت کو  دوسری مدت کے لئے گذشتہ انتخابات کے مقابلے ، بہت زیادہ ووٹوں سے واپس لاکر اپنے اس موقف کی توثیق کردی ہے ۔

ایک مثال پیش کرتے ہوئے ، مرکزی وزیرنے کہاکہ عوام پرمرکوز اسکیمیں جیسے پی ایم آواس یوجنا ، اجوّلا یوجنا، شوچالیہ وغیرہ ہرایسے کنبے تک پہنچی ہیں ، جہاں ان سہولتوں کی کمی تھی ۔ اس کے علاوہ حکام نے ان سے کبھی ان سے نہیں پوچھا کہ  ان کاخاندان کس مذہب  یاذات سے تعلق رکھتاہے ۔ یا گذشتہ انتخابات میں انھوں نے کس سیاسی پارٹی کو ووٹ دیاتھا۔ انھوں نے کہا کہ کام کاج کا یہ نیاطریقہ ، بھارت کی سیاست میں ایک نیا ضابطہ بن جائے گا اورعوام ہرسیاسی پارٹی سے بھی اس طرح کی توقع  کریں گے ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003YTMR.jpg

آٹھ سال کی مختصر مدت کےدوران ، مرکز بہت سی اسکیموں کو صد فی صد تک مکمل کرنے کے قریب پہنچاہے اور ‘‘سب کا ساتھ ، سب کاوکاس ، سب کاوشواس ’’کے اصول پرعمل کرتے ہوئے فوائد کو سبھی مستحق لوگوں تک پہنچایاگیاہے ۔

ڈاکٹرجتیندرسنگھ نے کہاکہ غریب کلیان انّ یوجنا ، جن دھن ، اجوّلا، شوچالیہ ، پی ایم آواس ، ہرگھل جل ، ہرگھربجلی اورآیوشمان جیسی یکسرتبدیلیاں لانے والی اسکیموں کے سبب ، ملک کے عوام  نے مرکز اورزیادہ ترریاستوں دونوں  جگہوں  پر باربار مودی حکومت میں اپنے  اعتماد کی توثیق کی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ عوام ماضی کے برخلاف ، کسی بھی قسم کی تفریق کے بغیر، فلاح وبہبود کی اسکیموں کے فوائد سے مستفیض ہورہے ہیں جب کہ ماضی  میں خوشنودی کی پالیسی عام تھی ۔ وزیرموصوف نے زوردے کرکہا کہ ان فلاحی اقدامات کی بدولت کروڑوں لوگ ، شدید غربت کے چنگل سے باہر نکل آئے ہیں اورانھیں ایک باوقار زندگی عطاہوئی ہے ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003YTMR.jpg

ڈاکٹر جتیندرسنگھ  نے صحافیوں کو بتایاکہ وہ خود اس بات کا پتہ چلاسکتے ہیں کہ ان  فلاحی اسکیموں کے مستفیدین میں سبھی ذاتوں ، نسلوں اورمذہب کے لوگ شامل ہیں کیونکہ ماضی کی حکومتوں کے برخلاف اب مستفدین کی فہرستیں ، کسی بھی تفریق کے بغیر اورمکمل معروضیت کے ساتھ تیارکی جاتی ہیں ۔

وزیرموصوف نے یہ بھی  کہاکہ دیگراقدامات کے ساتھ ساتھ ان اسکیموں کی بدولت ، غریب ترین افراد کی زندگی میں بھی یکسرتبدیلی آئی ہے اوران کے معیار زندگی کو ایک باوقار  سطح تک پہنچا نے میں مدد ملی ہے ۔ وزیر موصوف نے  اس بات پرزوردیا کہ اسکیموں کے مکمل فائدے ، بغیرکسی خامی کے ، ایک شفاف اور فراہمی کے موثر نظام کے توسط سے براہ راست ضرورت مند افراد تک پہنچ رہے ہیں ۔

شمال مشرقی خطے  کی مثال پیش کرتے ہوئے ڈاکٹرجتیندرسنگھ نے کہاکہ 2014سے پہلے ، یہ خطہ لگاتارمرکزی حکومتوں کی کوتاہ بین پالیسیوں کی وجہ سے اقتصادی  لحاظ سے  مشکلات سے دوچارتھا۔ لیکن 2014میں مودی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے فوراًبعد وزیراعظم نے بیان کیاہے کہ شمالی مشرقی خطے کو ملک کے زیادہ  ترقی یافتہ خطوں کے برابر لانے کی غرض سے سبھی کوششیں کی جائیں گی ۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سال کے دوران ، نہ صرف ترقیات سے متعلق کامیوں کو کامیابی کے ساتھ دورکیاگیا،بلکہ شمال مشرقی  خطے کو نفسیاتی اعتماد بھی حاصل ہوا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ سڑک  ، ریل اور فضائی کنکٹی وٹی کے لحاظ سے خاطرخواہ ترقی  کئے جانے کے سبب نہ صرف پورے خطے بلکہ پورے ملک میں اشیااور افراد کی نقل وحرکت  کی سہولت  میں مدد مل رہی ہے۔

ڈاکٹرسنگھ نے صحافیوں کے سامنے میزورم کی مثال بھی پیش کی اور انھیں بتایاکہ اس ریاست نے ہمیشہ  بی جے پی کی مخالفت کی تھی ، لیکن کسی بھی تفریق کے بغیر، مودی حکومت  نے اسرائیل  کی ٹیکنولوجی کی مدد سے میزورم میں سٹرس فروٹ کا  ‘‘عمدگی کا مرکز ’’ قائم کرنے میں مدد کی ۔ انھوں نے کہا کہ سٹرس فروٹ کا مرکز بھارت میں اپنی نوعیت  کے ایک منفرد ادارے کے طورپر  ابھرکرسامنے آیاہے جو، حالانکہ میزورم میں واقع ہے ، پھربھی پورے شمال مشرقی خطے اوردرحقیقت  پورے ملک کی ضروریات پوری کررہاہے ۔

ڈاکٹرجتیندرسنگھ نے اس بات کا اعادہ کیاکہ وزیراعظم جناب نریندرمودی کی طرف سے مہمیز دیئے جانے کی بناپر، جس کا آغاز ، 2015میں لال قلعہ کی فصیل سے ‘‘اسٹارٹ اپ انڈیا ۔ اسٹینڈاپ انڈیا’’ کے لئے ان کی اپیل کے ساتھ ہواتھا ، بھارت میں اسٹارٹ اپس کی تعداد لگ بھگ 300تا 400سے بڑھ کر 70000تک جاپہنچی ہے ۔ جسے اترپردیش کے ان نوجوانوں کو جو مختلف النوع  اسٹارٹ اپس میں اپنا کریئرشروع کرناچاہتے ہیں ، خاص طورپر  دل سے لگائے رکھنا چاہیئے ۔بھارت میں 100سے زیادہ یونیکورن میں اوربائیو ٹیک اسٹارٹ اپس نے اضافے کا رجحان ظاہرکیاہے ۔

وزیرموصوف  نے اسٹارٹ اپ اورٹیکنولوجی کے وسیع دستیاب مواقع  کے ساتھ ساتھ اسٹارٹ اپس کے لئے حکومت کی جانب سے دی جانے والی مالی مدد کے بارے میں بیداری پیداکرنے ، خاص طورپر نوجوانوں کے مابین بیداری پیداکرنے کی ضرورت پرزوردیا۔

ڈاکٹرجتیندرسنگھ نے اس بات کو بھی اجاگرکیاکہ مودی حکومت کے آٹھ سالوں میں ایک نئی صبح کا آغاز ہواہے اورملک کے نوجوانوں کی خواہشات  ، امنگوں  مقاصد اوراہداف کو نمایاں کرتے ہوئے ‘‘یووا شکتی اور ناری شکتی ’’کو سمت  عطاہوئی ہے ۔

**********

)ش ح ۔ع م۔ ع آ)

U -7432


(ریلیز آئی ڈی: 1840715) وزیٹر کاؤنٹر : 164