نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
جناب انوراگ سنگھ ٹھاکر نے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز 2022 (سی ڈبلیو جی)کے لیے بھارتی دستے کی روانگی کی تقریب میں حصہ لیا
بھارتی کامن ویلتھ گیمس (سی ڈبلیو جی) اب تک کا سب سے مضبوط دستہ ہے اور ہمارے تمام کھلاڑی ایک بار پھر عالمی سطح پر بھارت کا سر فخر سے بلند کریں گے: جناب انوراگ ٹھاکر
Posted On:
07 JUL 2022 7:05PM by PIB Delhi
نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے مرکزی وزیر جناب انوراگ سنگھ ٹھاکر نے آج نئی دہلی میں برمنگھم کامن ویلتھ گیمز 2022 (سی ڈبلیو جی)کے لیے بھارتی دستے کی روانگی کی تقریب میں حصہ لیا۔ اس تقریب کا اہتمام انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او ایس) نے کیا تھا جو بھارت میں اولمپک کھیلوں کی گورننگ ادارہ ہے۔

اس موقع پر موجود دیگر اہم شخصیات میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلی امور اوربھارتی حکومت کے ایم وائی اے ایس جناب نسیت پرمانک، اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل جناب سندیپ پردھان کے ساتھ ساتھ آئی او اے کے قائم مقام صدر جناب انیل کھنہ بھی موجود تھے۔
ٹوکیو 2020 اولمپک تمغہ حاصل کرنے والےبجرنگ پونیا،پی آر سریجیش،منپریت سنگھ، ہرمن پریت سنگھ اور لولینا بورگوہین تقریب میں موجود 215 کھلاڑیوں کے مضبوط دستے میں شامل تھے۔ اولمپک میں تمغہ جیتنے والی ساکشی ملک،ایتھلیٹ اسٹار دتی چند اور ہیما داس، ایشیائی کھیلوں میں باکسنگ میں سونے کا تمغہ حاصل کرنے والے چیمپئن شیوا تھاپا اور مکے باز امیت پنگھل سمیت کچھ دیگر سرکردہ کھلاڑی بھی اس تقریب میں موجود تھے۔
تقریب کے دوران دستہ کے لئے ایک آفیشل کٹس کی نقاب کشائی بھی کی گئی۔آئی او اے نے جے ایس ڈبلیو انسپائیر کو دستے کےاسپانسرز پرنسپل اور سفر اور کھیلنے کی کٹس کے لیے کٹنگ پارٹنرز کے طور پرشامل کیا ہے جو منیور رسمی کٹنگ پارٹنرز کے طور پر بورڈ میں شامل ہوئے ہیں جبکہ ایڈیڈاس اسکواڈ کے آفیشل پرفارمنس فٹ ویئر پارٹنرز ہیں۔

مہمان خصوصی کے طور پر اپنی تقریر میں جناب انوراگ سنگھ ٹھاکر نے کہا کہ آج ہمارے مقبول وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن اور انتھک کوششوں سے، بھارتی کھیل عالمی پیمانے پر ایک اعلیٰ سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ پچھلے سال اولمپک میں دکھائی گئی کارکردگی کھیلوں میں دکھائی گئی ہماری اب تک کی بہترین کارکردگی تھی اور ہم نے حالیہ دنوں میں تمام کھیلوں میں اپنے کھلاڑیوں کی اس بہترین کارکردگی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ تھامس کپ کی تاریخی جیت ان بہترین کارکردگی میں سے ایک تھی۔

انہوں نے مزید کہا’’یہ بھارتی سی ڈبلیو جی دستہ یقینی طور پر ہمارا اب تک کا سب سے بہترین اور مضبوط دستہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہمارے تمام ایتھلیٹس ایک بار پھر عالمی سطح پربھارت کاسر فخر سے بلندکریں گے، جتنے بھی تمغے انہوں نے حاصل کئے ہیں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ہم سب کو ان پر فخر ہے اور پورا ملک ان کی فتح یا شکست دونوں میں ہی ان کے ساتھ ہوگا۔ہماری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ ‘‘

مرکزی وزیر نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ وہ اس بات سے بے حد خوش ہیں کہ سی ڈبلیو جی دستے نے صنفی توازن حاصل کر لیا ہے کیونکہ اس میں 108 مردوں کے ساتھ 107 خواتین کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

آئی او اے کے سکریٹری جنرل، جناب راجیو مہتا نے اپنے خطاب میں کہاکہ ’’ہمیں دستے کی مضبوط کارکردگی کا یقین ہے۔ ان کی تربیت اور تیاریاں اعلیٰ درجے کی رہی ہیں اوربھارتی حکومت اور کھیلو کود کی وزارت نے اس بات کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے کہ ہم برمنگھم سی ڈبلیو جی میں اپنی بہترین کارکردگی پیش کریں گے۔ میں انکساری کے ساتھ ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اپنے تمام ایتھلیٹس، کوچز اور معاون عملے کے تئیں کھیلوں میں بہت زیادہ کامیابی کی تمنا کرتا ہوں ۔‘‘
جناب مہتا نے برمنگھم کھیلوں میں تمغہ جیتنے والے کھلاڑیوں کے لیے آئی او اے کی جانب سے انعامی رقم کا بھی اعلان کیا۔ سونے کا تمغہ جیتنے والوں کو 20,00,000 روپے نقد انعام دیا جائے گااور چاندی کا تمغہ جیتنے والوں کے لیے 10,00,000 روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کانسے کا تمغہ جیتنے والوں کو 7,50,000 روپے دیے جائیں گے۔
دستے کے کچھ ارکان تربیت یا مقابلے کے لئے یا تو پہلے سے ہی برطانیہ میں موجود ہیں یا پھر وہ پوری دنیا میں اپنے پیشہ ورانہ کاموں میں مصروف ہیں اور براہ راست برمنگھم پہنچیں گے۔
بھارت نے چار سال قبل گولڈ کوسٹ، آسٹریلیا میں کھیلوں کے پچھلے ایڈیشن میں سونے کے 26 تمغوں سمیت کل 66 تمغے جیتے تھے، روایتی طور پر پاور ہاؤس کہلانے والے آسٹریلیا اور انگلینڈ تمغوں کے حساب سے تیسرے نمبر پر رہے۔ 90فیصد سے زیادہ تمغوں میں سب سے زیادہ 26 میں سے 25 سونے کے تمغے چھ کھیلوں بیڈمنٹن، باکسنگ، شوٹنگ، ٹیبل ٹینس، ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ کے میں حاصل ہوئےجبکہ ایتھلیٹکس، پیرااسپورٹس اور اسکواش کھیل میں بھارت کو تمغے دلانے والے دیگر کھیل تھے۔
نشانے بازی جس میں گولڈ کوسٹ گیمز میں بھارت کو سونے کے سات تمغے سمیت 16 تمغے حاصل ہوئے ، اب سی ڈبلیو جی 2022 کا حصہ نہیں ہے، تاہم پہلی بار خواتین کرکٹ کو اس میں شامل کیا گیا ہے اور بھارت ملک کے مقبول ترین کھیلوں میں اپنے کھیل امکانات کوبروے کار لانا پسند کرے گا۔
روایتی طور پر مضبوط کھیلوں کے علاوہ بیڈ منٹن، مکے بازی ، ہاکی، ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ میں بھارتی دستہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں کافی مضبوط پوزیشن میں ہے اگر چہ کہ حالیہ نتائج سے سبق حاصل کرتے ہوئے شوٹنگ میں ہوئے نقصان کی بھرپائی کرنی چاہئے۔
بھارتی سی ڈبلیو جی دستے میں اڈانی اسپورٹس لائن بطور پرنسپل اسپانسر ہے جبکہ جے ایس ڈبلیو انسپائر بطور پرنسپل اور کٹنگ اسپانسرز ہیں۔ ہربلائف آفیشل نیوٹریشن پارٹنر مانیور رسمی کٹنگ پارٹنرز ہیں اور جبکہ ایڈیڈاس پرفارمنس فٹ ویئر پارٹنر ہیں۔آئی این او ایکس اورامول ایسوسی ایٹ اسپانسرز ہیں،بوروسل بطور ہائیڈریشن پارٹنرز اورایس ایف اے بطور اسپورٹس ایڈ-ٹیک پارٹنر ہیں۔
*******************
ش ح ۔ش ر ۔ م ش
U.N. 7362
(Release ID: 1840023)
Visitor Counter : 166