کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کی غیر باسمتی چاول کی برآمدات 2014-2013 سے 109 فیصد بڑھ کر 6115 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی

مودی حکومت کی پالیسیاں کسانوں کو عالمی منڈی تک رسائی حاصل کرنے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد کر رہی ہیں – جناب پیوش گوئل

غیر باسمتی چاول کی برآمد 2022-2021 میں تمام زرعی اجناس میں سب سے زیادہ غیر ملکی کرنسی کمانے کا وسیلہ تھی

چاول کی عالمی تجارت میں سب سے زیادہ حصہ کے ساتھ، ہندوستان افریقہ، ایشیا اور یورپی یونین میں اپنے چاول کی برآمدات کو بڑھا رہا ہے

Posted On: 20 APR 2022 12:55PM by PIB Delhi

ہندوستان کی غیر باسمتی چاول کی برآمدات میں 109فیصد کا حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ برآمدات مالی سال 2014- 2013میں  2925 ملین   امریکی ڈالر  سے بڑھتے بڑھتے مالی سال 2022-2021 میں6115 ملین امریکی ڈالر   تک پہنچ گئی۔

ڈی جی سی آئی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان نے 2022-2021 میں دنیا کے 150 سے زیادہ ممالک کو چاول برآمد کیا۔ ہندوستان نے 2022-2021 میں، جیسا کہ  رپورٹ میں اطلاع دی گئی، 150 ممالک میں سے 76 ممالک کو 10 لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ کے بقدر چاول کی برآمد کی، یہ پچھلے برسوں میں ہندوستان کی چاول کی برآمد کے شعبے میں ہونے تنوع کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایک ٹوئٹ میں اس تاریخی کامیابی کو اجاگر کرتے ہوئے، تجارت اور صنعت، امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم اور ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے کہا ہے کہ مودی حکومت کی پالیسیوں سے کسانوں کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد ملی۔

ڈی جی سی آئی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان نے 2019-20 میں 2015 ملین امریکی ڈالر کے غیر باسمتی چاول برآمد کیے تھے، جن کی برآمدات 2021-2020 میں بڑھ کر 4799 ملین امریکی ڈالر اور 2022-2021 میں 6115 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔

2022-2021میں 27فیصد کی نمو درج کراتے ہوئے، غیر باسمتی چاول کی برآمد تمام زرعی اجناس میں سب سے زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کا وسیلہ رہی ، جو کہ امریکی ڈالر ملین 6115 ہے۔

‘‘ ڈاکٹر ایم انگاموتھو، چیئرمین، ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی(اپیڈا) نے کہا ’’اپنے غیر ملکی مشنوں کے ساتھ مل کر، ہم نے لاجسٹکس کی ترقی کے ساتھ ساتھ معیاری مصنوعات کی پیداوار پر توجہ مرکوز کی ہے، جس سے ہندوستان کے چاول کی برآمدات کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے، ۔

مغربی افریقی ملک بینن ہندوستان سے غیر باسمتی چاول کے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔ ہندوستان سے چاول درآمد کرنے والے  دیگر ممالک نیپال، بنگلہ دیش، چین، کوٹ ڈی آئیوری، ٹوگو، سینیگال، گنی، ویت نام، جبوتی، مڈغاسکر، کیمرون صومالیہ، ملائیشیا، لائبیریا ، متحدہ عرب امارات  وغیرہ ہیں۔

2021-2020 میں، ہندوستان نے غیر باسمتی چاول نو ممالک - تیمور لیسٹی، پورٹو ریکو، برازیل، پاپوا نیو گنی، زمبابوے، برونڈی، ایسواتینی، میانمار اور نکاراگوا کو  برآمد کئے ، جہاں یا تو یہ چاول پہلی بار برآمد کئے گئے تھے یا اس سے پہلے جو برآمدات کی گئی تھی ان کی  کھیپ حجم میں چھوٹی تھی۔

 بندرگاہ پر  سامان اتارنے لادنے کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے پر ہندوستان کے زور، کلیدی اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ویلیو چین کی ترقی کے ساتھ ساتھ چاول کی برآمدات کے لیے ممالک یا منڈیوں میں نئے مواقع تلاش کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں چاول کی برآمدات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

 کووڈ-19 وبائی امراض سے لاجسٹک چیلنجوں کے باوجود، ہندوستان نے افریقی، ایشیائی اور یورپی یونین کی منڈیوں میں چاول کی برآمدات کو بڑھانے کے سلسلے کو جاری رکھا ہوا ہے، اس طرح چاول کی عالمی تجارت میں اس کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ عالمی سطح پر چاول  کی زبردست مانگ نے چاول کی برآمدات میں ہندوستان کی ترقی میں بھی مدد کی۔

چاول پیدا کرنے والی بڑی ریاستیں مغربی بنگال، اتر پردیش، پنجاب، تامل ناڈو، آندھرا پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، اوڈیشہ، آسام اور ہریانہ ہیں۔

2022-2021 کے دوسرے پیشگی تخمینوں کے مطابق، 2022-2021 کے دوران چاول کی کل پیداوار کا تخمینہ 127.93 ملین ٹن ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ گزشتہ پانچ سالوں کی 116.44 ملین ٹن کی اوسط پیداوار سے 11.49 ملین ٹن زیادہ ہے۔

تاہم، 2022-2021 کے دوسرے پیشگی تخمینہ کے مطابق، ملک میں غذائی اجناس کی کل پیداوار کا تخمینہ 316.06 ملین ٹن ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ 2021-2020 کے دوران غذائی اجناس کی پیداوار سے 5.32 ملین ٹن زیادہ ہے۔ مزید برآں، 2022-2021 کے دوران پیداوار پچھلے پانچ سالوں (2017 - 2016  سے 2021-2020) کی غذائی اناج کی اوسط پیداوار سے 25.35 ملین ٹن زیادہ ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین کے بعد ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا چاول پیدا کرنے والا ملک ہے۔ ریکارڈ برآمدات، چاول پیدا کرنے والوں کو اپنے ذخیرے کو کم کرنے کے قابل بنائے گی اور اس سے کسانوں کو بھی فائدہ پہنچے گا کیونکہ ہندوستانی چاول کی بڑھتی ہوئی مانگ سے ان کی وصولیوں میں بہتری آنے کا امکان ہے۔ زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ملک کی زرعی اور  ڈبہ بند خوراک کی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرکے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے حکومت کے عزم کے ثبوت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

جدول: غیر باسمتی چاول کی برآمد

ملین امریکی ڈالر

پیداوار

2019-20

 

2020-21

 

2021-22

 

غیر باسمتی چاول

2015

4811

6115

 

*******

(ش ح ۔ س ب۔رض )

U NO: 4476



(Release ID: 1818329) Visitor Counter : 56