جل شکتی وزارت
جل شکتی کے مرکز ی وزیر جناب گجیندرسنگھ شیخاوت نے کولکاتہ میں جے جے ایم اور ایس بی ایم (جی) کے موضوع پر 6ریاستوں کی ایک دن بھرطویل علاقائی کانفرنس کی صدارت کی
پندرھویں مالی کمیشن کے تحت مختص کی گئی 6856کروڑروپے کی اضافی گرانٹ کے ساتھ سال 23-2022کے لئے 6شریک ریاستوں کو جے جے ایم کے تحت 1344کروڑروپے اورایس بی ایم -جی کے تحت مرکزی گرانٹ کے طورپر 13105کروڑروپے مختص کئے گئے ہیں
ہرگھرجل معاشرے کی بنیاد پر ہوناچاہیئے نہ کہ انجینئرکی بنیاد پر :جناب گجیندرسنگھ شیخاوت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 MAR 2022 4:25PM by PIB Delhi
جل شکتی کے مرکزی جناب گجیندرسنگھ شیخاوت نے آج ریاستوں کی شراکت داری کے ساتھ جل جیون مشن اور سووچھ بھارت مشن گرامین کے تحت پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے کولکاتہ میں 6ریاستوں کی علاقائی کانفرنس کی صدارت کی ۔ کانفرنس میں جل شکتی اور خوراک کو ڈبہ بندکرنے کی صنعتوں کے وزیرمملکت جناب پرہلاد سنگھ پٹیل اور مغربی بنگال کی حکومت میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای ) اور پنچایت اور دیہی ترقیات کے انچارج وزیرجناب پُلک رائے نے شرکت کی ۔بہار، چھتیس گڑھ ، جھارکھنڈ ، میزورم ، اڈیشہ اور مغربی بنگال کے سینیئرافسروں نے ‘ہرگھر جل’اور‘سووچھ بھارت مشن ’ گرامین پروگرام نافذکئے جانے میں درپیش اپنی اپنی تشویش سے آگاہ کیا ۔

مرکزی وزیرنے اپنے افتتاحی خطبہ میں کہا کہ 15اگست ، 2019کو وزیراعظم نے جب جل جیون مشن کا آغاز کیاتھا تب محض 17فیصد دیہی گھرانوں کو نل کے ذریعہ پانی ملتاتھا ۔گذشتہ دوڈھائی سال میں رکاوٹوں اورلاک ڈاؤن کے باوجود ہم نے گاوؤں میں 5.91کروڑ نل کے ذریعہ پانی کے کنکشن فراہم کئے ہیں اور 47.39فیصددیہی کنبے صاف اورپینے کا پانی کا فائدہ حاصل کررہے ہیں ۔ جناب شیخاوت نے کہا کہ حکومت کے دوفلیگ شپ پروگراموں کے نفاذ کے لئے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے کیونکہ سال 23-2022کے لئے 14449کروڑروپے مرکزی گرانٹ کے طورپر 6شریک ریاستوں کو مختص کئے گئے ہیں تاکہ 100فیصد نل کے پانی کی کنکٹی وٹی اور گاوؤں میں اوڈی ایف اورٹھوک اوررقیق فضلے کے بندوبست کو تقویت بہم پہنچائی جاسکے ۔

انہوں نے تلقین کی کہ ’ہر گھر جل‘معاشرے کے ذریعہ چلایاجانے والا پروگرام ہونا چاہیئے نہ کہ انجینئر کے ذریعہ ۔ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک گاؤں میں تمام ترسہولت فراہم کرنے والی اسکیموں کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ یہ سستی ، پائیداراورطویل مدت تک مینٹی ٹنس اورکارروائی میں کم خرچ ہیں ۔ قیمت سے متعلق نکات کا مکمل جائزہ لیاجانے چاہیئے کیونکہ ہم نے جل جیون مشن کے تحت اسکیموں کے لئے پروجیکٹوں کی طویل رپورٹوں (ڈی پی آرس ) کو تشکیل دیاہے ۔
مرکزی وزیرنے مزید کہاکہ ، ‘‘ملک کو یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے کہ ہندوستان کے تمام اضلاع نے 2 اکتوبر 2019 کو خود کو کھلے میں رفع حاجت سے پاک (اوڈی ایف ) قرار دیا، جو کہ پائیدار ترقی کے ہدف کے تحت مقرر کردہ (ایس ڈی جی )6 کی آخری تاریخ سے بہت آگے ہے۔’’انھوں نے مزید کہا کہ وہ ریاستیں جو دریائے گنگا کے کنارے واقع ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ غیر قابل استعمال پانی کا ایک قطرہ بھی دریائے گنگا میں نہ جائے۔ ضرورت پڑنے پر ان گاوؤں میں ایس ایل ڈبلیو ایم کی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے مختلف اسکیموں سے فنڈز حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
‘‘جل جیون مشن وزیر اعظم کے اس فلسفے کی پیروی کرتا ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ ‘کوئی بھی محروم نہ رہے’۔ جل شکتی کے وزیر مملکت جناب پرہلاد سنگھ پٹیل نے کہا کہ گاؤں کے ایکشن پلان کا مسودہ گرام سبھا کی میٹنگ میں تیار کیا جاتا ہے جس میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افرادحصہ لیتے ہیں اور آئندہ 5 سالوں کے لیے ایک خاکہ تیار کرتے ہیں،’’۔
‘‘وزیر اعظم نے 2019 میں جل جیون مشن کا آغاز کیا تھا جس کا مقصدگاوں کے ہر گھر میں نل کے پانی کا کنکشن فراہم کرنا ہے۔ منصوبہ بندی اور نگرانی میں کمیونٹی کی شمولیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ولیج واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمیٹی (وی ڈبلیو ایس سی ) اور نگراں کمیٹی کے اراکین کو تربیت دی جانی چاہیے اور مقامی لوگوں کو طویل مدت میں پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کی معمولی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے ہنر یافتہ ہونا چاہیے۔ ضلعی سطح پر پانی کی جانچ کرنے والی لیبارٹریوں کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر گھر اور سرکاری اداروں میں فراہم کیے جانے والے پانی کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ جل شکتی اور خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کے وزیرمملکت جناب پرہلاد سنگھ پٹیل نے کہاکہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم پانی کے معیار اور اس پائپ کو یقینی بنائیں جس سے پانی بہتا ہے،’’۔
15ویں مالی کمیشن کے تحت سال 23-2022 کے لیے دیہی بلدیاتی اداروں /پنچایتی راج اداروں (آرایل بیز /پی آرآئیز) کے لیے کُل 27,908 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اگلے پانچ سالوں یعنی 26-2025 تک کے لیے 1,42,084 کروڑ روپے مختص کئے جانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ حصہ لینے والی ریاستوں کے لیے سال 23-2022 کے لیے پانی اور صفائی ستھرائی سے متعلق سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے 6,856 کروڑ روپے بند گرانٹ کے طور پر مختص کیے گئے ہیں۔
دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی صحت عامہ اور بہبود کے تئیں اپنی عہدبستگی کا اعادہ کرتے ہوئے، مرکزی بجٹ 2022 میں، جے جے ایم کے لیے مختص فنڈ 45,000 کروڑ روپے سے بڑھا کر 23-2022 میں 60,000 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ ایس بی ایم (جی ) کے لیے، سال 23-2022 کے بجٹ میں 7,192 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
جے جے ایم کے تحت سال 23-2022 کے لیے مرکز نے ان 6 ریاستوں کے لیے 13,105 کروڑ روپے عارضی طور پر مختص کیے ہیں۔جس میں (بہار – 2,699 کروڑ روپے، چھتیس گڑھ – 1,308 کروڑ روپے، جھارکھنڈ – 1,643 کروڑ روپے، میزورم – 201 کروڑ روپے، اڈیشہ – 2,036 کروڑ روپے اور مغربی بنگال – 5,218 کروڑ روپے)شامل ہیں ۔ ایس بی ایم (جی )کے تحت، مذکورہ ریاستوں کے لیے عارضی طور پر 1,344.71 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ (بہار – 499.50 کروڑ روپے، چھتیس گڑھ – 149.88 کروڑ روپے، جھارکھنڈ – 109.19 کروڑ روپے، میزورم – 10.74 کروڑ روپے، اڈیشہ – 213.71 روپے اور مغربی بنگال – 361.69 کروڑ روپے)۔
ایس بی ایم (جی) فیز-II کو فروری 2020 میں 1,40,881 کروڑ روپے کی کل لاگت کے ساتھ منظور کیا گیا تھا تاکہ کھلے میں رفع حاجت سے پاک کی حیثیت کی پائیداری اور ٹھوس اور رقیق کچرے کے بندوبست (ایس ایل ڈبلیو ایم ) پر توجہ دی جا سکے۔ ایس بی ایم (جی) فیز II مختلف مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے تحت فنانسنگ کے مختلف عمودی حصوں کے درمیان ہم آہنگی کا ایک انوکھا ماڈل ہے۔ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے (ڈی ڈی ڈبلیو ایس ) کی طرف سے بجٹ مختص کرنے اور متعلقہ ریاستی حصہ کے علاوہ، بقیہ فنڈز 15 ویں مالی کمیشن سے منسلک گرانٹس سے دیہی بلدیاتی اداروں ، ایم جی این آرای جی ایس ، سی ایس آر فنڈز اور مالیے کی فراہمی کے ماڈلوں وغیرہ سے حاصل کیے جا رہے ہیں، بالخصوص طور پر ٹھوس اوررقیق فضلے کے بندوبست کے لئے (ایس ایل ڈبلیو ایم )۔ ایس بی ایم (جی ) کے فیز II نے ایک ٹھوس آغاز سے شروعات کی ہے ، جس میں تقریباً 65 لاکھ گھرانوں نے انفرادی گھریلوبیت الخلاء (آئی ایچ ایچ ایل ) سے فائدہ اٹھایا ہے۔ ملک میں 1.18 لاکھ سے زیادہ کمیونٹی بیت الخلاء بنائے گئے اور 43,000 سے زیادہ گاوؤں نے خود کو رفع حاجت سے پاک قرار دیا۔ 50,000 سے زیادہ گاوؤں کا پہلے ہی ٹھوس فضلے بندوبست (ایس ڈبلیو ایم ) کے انتظامات کا احاطہ کیاجاچکاہے اور 25,000 سے زیادہ گاوؤں نے رقیق کچرے کے انتظام (ایل ڈبلیو ایم ) کے انتظامات حاصل کر لیے ہیں۔
حصہ لینے والی ریاستوں میں، ایس بی ایم –جی فیز II کے دوران تعمیر کیے گئے آئی ایچ ایچ ایلس اور کمیونٹی سینیٹری کمپلیکس (سی ایس سیز ) کی تعداد بالترتیب 19 لاکھ اور 15,000 سے زیادہ ہے اور 4,000 سے زیادہ گاؤں کو رفع حاجت سے پاک قرار دیا گیا ہے۔

15اگست 2019 کو جل جیون مشن کے اعلان کے بعد سے، ملک بھر میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ آج، 9.15 کروڑ سے زیادہ دیہی گھرانوں میں نل کے پانی کے کنکشن کا انتظام ہے۔ پروگرام کے تحت اب تک 4.71 لاکھ دیہی پانی اورصفائی ستھرائی سے متعلق کمیٹیاں (وی ڈبلیو ایس سی ) تشکیل دی جاچکی ہیں اور 3.87 دیہی ایکشن پلان (وی اے پیز) تیار کیے گئے ہیں۔ ملک میں 9.26 لاکھ سے زیادہ خواتین نے فراہم کردہ پانی کے معیار کو جانچنے کے قابل بنانے کے لیے فیلڈ ٹیسٹ کٹس (ایف ٹی کیز) کے استعمال کے بارے میں تربیت حاصل کی ہے۔ یہ خواتین ہر گاؤں میں قائم 5 رکنی نگراں کمیٹی کا حصہ ہیں۔ کانفرنس میں حصہ لینے والی 6 ریاستوں میں پھیلے ہوئے کل 1.78 لاکھ گاؤں ہیں، ان میں سے 42,385 گاوؤں کا 100فیصد نل کے پانی کی فراہمی کے تحت احاطہ کیاگیا ہے۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ‘‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس’’ کے ویژن کے بعد ملک میں 101 اضلاع، 1,160 بلاک ، 67,729 گرام پنچایتںک اور 1,40,111 گاوؤں ‘ہر گھر جل’ بن چکے ہیں۔ تین ریاستوں – گوا، تلنگانہ اور ہریانہ اور تین – مرکز کے زیرانتظام علاقوں انڈمان نکوبار جزائر، دادرنگر حویلی اور دمن اور دیو اور پڈوچیری نے 100فیصد نل کے پانی کی فراہمی کا احاطہ کیاہے۔
(لاکھ میں)
|
ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ
|
کل دیہی کنبے
|
مشن کے آغاز کے وقت صورتحال (15اگست 2019 تک)
|
مشن کے آغاز کے بعد سے فراہم کی گئی ایف ایچ ٹی سی
|
آج تک ایف ایچ ٹی سی کااحاطہ کیا گیا
|
|
بہار
|
172.21
|
3.16 (2%)
|
152.74 (89%)
|
155.91 (91%)
|
|
چھتیس گڑھ
|
48.59
|
3.20 (7%)
|
6.16 (13%)
|
9.36 (20%)
|
|
جھارکھنڈ
|
59.23
|
3.45 (6%)
|
7.91 (13%)
|
11.36 (19%)
|
|
میزورم
|
1.33
|
0.09 (7%)
|
0.54 (41%)
|
0.64 (48%)
|
|
اڈیشہ
|
88.33
|
3.11 (4%)
|
35.51 (40%)
|
38.62 (44%)
|
|
مغربی بنگال
|
177.23
|
2.15 (1%)
|
33.87 (19%)
|
36.02 (20%)
|
|
انڈیا
|
1,931.99
|
323.63 (17%)
|
591.86 (31%)
|
915.49 (47%)
|
شرکت کرنے والی ریاستوں میں پائپ کے ذریعہ پانی فراہم کرنے سے متعلق کنکشن حاصل کرچکے کنبوں کی ریاست کے لحاظ سے تعداد درج بالا چارٹ میں پیش کی گئی ہے
ایجنڈہ طے کرنے کے دوران، ڈی ڈی ڈبلیو ایس کی سکریٹری محترمہ وینی مہاجن نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا : ‘‘یہ حکومت کے دو بہت جرأت مندانہ پروگرام ہیں جن کے تحت دیہی بھارت میں رہنے والے تمام افراد کے لئے پائپ کے ذریعہ پانی کی فراہمی سے متعلق کنکشن کی فراہمی اور بیت الخلا تک رسائی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ہم نے اس سلسلے میں نصف پیش رفت کرلی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم پروگرام پر عمل درآمد کے دوران ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو درپیش ہونےوالے مسائل کے حل کاجائزہ لیں۔ دنیا نے پانی اور صفائی ستھرائی کا ایک بنیادی ضرورت کے طور پر اعتراف کرلیا ہے ۔ ہم سال 2024 تک صاف پانی اور او ڈی ایف پلس گاؤوں کو یقینی بنانے کےمقصد سے ، ریاستوں، مرکز کے زیرانتظام علاقوں اور گرام پنچایتوں کے ساتھ نزدیکی ساجھیداری کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ ہم پر امید ہیں کہ غوروخوض کے دوران اٹھائے گئے سبھی امور کو حل کرلیا جائے گا اوراس سلسلے میں مرکز کی جانب سے فنڈس اور تکنیکی امداد میں معاونت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ’’۔
سکریٹری نے مزید کہا کہ جے جے ایم اور ایس بی ایم (جی) کے تحت کی گئی پیش رفت کے بارے میں غوروخوض کے لئے ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو شامل کرتے ہوئے کل ہند پیمانے پر علاقائی کانفرنسوں کو انعقاد کیا گیا ہے ۔ یہ سال اس پروگرام کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ اب جبکہ ہم نے آدھا راستہ طے کرلیا ہے اورہم اگلے مالی سال میں داخل ہورہے ہیں اس لئے اس پروگرام کی لگاتار نگرانی کی ضرورت ہے۔
یہ بہت ضروری ہے کہ بہت محتاط طریقے سے سالانہ عملی منصوبے تیار کئے جائیں تاکہ ہماری کامیابیاں ہمارےسالانہ اہداف کو حاصل کرسکیں ۔ یہ کانفرنس ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم عمل آوری کے دوران پیش آنے والی چنوتیوں پر غوروخوض کے ساتھ ساتھ سال 2022-23 کے لئے اپنےسالانہ منصوبوں کو مستحکم بناسکیں۔ ایس بی ایم ( جی) اور جے جے ایم کایاپلٹ کرنے والے دومشن ہیں جو خاص طور پر خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو رہن سہن میں سہولت فراہم کرتے ہیں ۔ ریاستوں کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ جے جے ایم کے تحت مناسب اور خاطر خواہ ریاستی حصے کے لئے بندوبست کا ریاستوں کے 2022-23 کے بجٹ میں التزام کیا جائے ۔
ایس بی ایم ( جی) کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے اے ایس اورایم ڈی نے اپنی اس خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو کسی بھی قسم کی خرابی سے بچنے کی غرض سے صفائی ستھرائی سے متعلق پائیداری کو یقینی بنانے کی غرض سے او پی ایف تصدیق کے دوسرے دور پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اوریہ کام محض بیت الخلا کی تعمیر کے ساتھ ختم نہیں ہوجائے گا بلکہ پروگرام کے تحت برتاؤ میں تبدیلی لانے سے متعلق سرگرمیوں کو بھی جاری رکھنا چاہئے۔ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ سبھی لوگ ضرورت کے بروقت بیت الخلا کا ہی استعمال کریں۔
ملک میں کل 117 خواہشمند اضلاع میں جبکہ ان اضلاع میں سے 58 اضلاع شرکت کرنے والی ریاستوں میں واقع ہیں ۔ اس پروگرام کے تحت ، شرکت کرنے والی ریاستوں کے تمام خواہشمند اضلاع میں ابھی تک 18 فیصد سے 89 فیصد تک کااحاطہ کیا جاچکا ہے ۔ اس سلسلے میں کام کی رفتار تیز کئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ اس خطے میں رہنے والے لوگوں کو جلد ہی پینے کے صاف پانی تک رسائی ہوسکے ۔
ہر گھر جل کے تحت دیہی علاقوں میں پانی کی سپلائی سے متعلق اسکیم کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے دوران بنیادی سطح کو ترحیح دینے سے متعلق حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ اس پروگرام کے تحت ان شرکت کرنے والی ریاستوں میں، گاؤں کی پانی اور صفائی ستھرائی سے متعلق اب تک 95087 کمیٹیاں (وی ڈبلیو ایس سیز) تشکیل دی گئی ہے اور گاؤوں کے 73591 عملی منصوبے تیار کئے گئے ہیں۔ گاؤوں میں 1.33 لاکھ سے زیادہ خواتین کو فیلڈ ٹیسٹ کٹس (ایف ٹی کیز) کے استعمال کے بارے میں تربیت فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ پانی کے معیار پر نظر رکھے اورنگرانی سے متعلق سرگرمیاں انجام دے سکیں۔
اس پروجیکٹ کے مخصوص ماہرین اور سرکردہ سرکاری عہدیداران نے 15 ویں مالی کمیشن کے فنڈس کے ساتھ مرتکز پانی اور صفائی ستھرائی سے متعلق سرگرمیوں کو یقینی بنانے کی غرض سے دیہی مقامی اداروں کے کربار کے بارے میں تکنیکی اجلاس کاانعقاد کیا۔ کانفرنس میں آلودہ پانی کے بندوبست کے بارے میں ایک مخصوص اجلاس منعقد ہوا۔ اس کے علاوہ جل جیون مشن کے نفاذ میں معیار کے پہلو کے بارے میں بھی ایک خصوصی اجلاس کاانعقاد کیا گیا ۔
*************
ش ح-ع م۔ ش ر۔ ا ع– ف ر
U. No.2436
(ریلیز آئی ڈی: 1804708)
وزیٹر کاؤنٹر : 227