نیتی آیوگ
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

نیتی آیوگ، راکی ماؤنٹین انسٹی ٹیوٹ (آر ایم آئی) اور آر ایم آئی انڈیا نے ’بینکنگ آن الیکٹرک وہیکلس اِن انڈیا‘ رپورٹ جاری کی


ترجیحی شعبے کو قرض (پی ایس ایل) 2025 تک 40000 کروڑ روپئے کے ای وی فائیننسنگ مارکیٹ کو کھولنے اور سی او پی-26 کے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد کرسکتا ہے

نیتی آیوگ – آر ایم آئی کی رپورٹ، الیکٹرک دو پہیہ، سہ پہیہ اور کمرشیل گاڑیوں کو ترجیح دینے کے لئے ابتدائی سگمنٹس کی طرف اشارہ کرتی ہے

Posted On: 21 JAN 2022 3:20PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  21/جنوری 2022 ۔ نیتی آیوگ، راکی ماؤنٹین انسٹی ٹیوٹ (آر ایم آئی) اور آر ایم آئی انڈیا نے آج، ’بینکنگ آن الیکٹرک وہیکلس اِن انڈیا‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری ہے۔ یہ الیکٹرک موبیلٹی ایکو سسٹم میں خوردہ قرض کے لئے ترجیحی شعبے کی منظوری کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ رپورٹ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے ترجیحی شعبے کو قرض (پی ایس ایل) رہنما ہدایات کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کو شامل کرنے کی اطلاع دینے کے لئے خیال اور سفارشات پیش کرتی ہے۔

بھارت میں بینکنگ اور غیر بینکنگ فائیننشیل کمپنیوں (این بی ایف سی) کے پاس 2025 تک 40000 کروڑ روپئے (5 بلین امریکی ڈالر) اور 2030 تک 3.7 لاکھ کروڑ روپئے (50 بلین امریکی ڈالر) کی الیکٹرک گاڑیوں کے فائیننشیل مارکیٹ کو کھڑا کرنے کی صلاحیت ہے۔

نیتی آیوگ کے سی ای او امیتابھ کانت نے کہا کہ بھارت میں الیکٹرک موٹر گاڑیوں کو اپنانے کے عمل میں تیزی لانے اور سڑک نقل و حمل کے ڈی کاربونائزیشن میں مدد دینے میں مالی اداروں  کا اہم رول ہے۔ انھوں نے کہا کہ آر بی آئی کے پی ایس ایل مینڈیٹ کا قومی ترجیحی شعبوں کے لئے رسمی قرض کی فراہمی میں سدھار کا ایک مستند ٹریک ریکارڈ ہے۔ یہ بینکوں اور این بی ایف سی کو ای وی کے سلسلے میں اپنی مالی مدد کو فروغ دینے کے لئے ایک مضبوط ریگولیٹری انسینٹیو فراہم کرسکتا ہے۔

ترجیحی شعبے کو قرض دینے کا مقصد بھارت میں مالیاتی رسائی کو توسیع دینا اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔ ان اہداف کے حصول کے لئے رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ آر بی آئی پانچ معیاروں کی بنیاد پر مختلف ای وی سگمنٹس پر غور اور معاملات کا استعمال کرسکتا ہے۔  ان معیارات میں سماجی – اقتصادی صلاحیت، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت، پیمائش کی اہلیت، تکنیکی – اقتصادی عملیت، اور حصص داروں کی قبولیت ہے۔

آر ایم آئی کے منیجنگ ڈائریکٹر کلے اسٹرینجر نے کہا کہ چونکہ بینک ای وی کے ری سیل ویلیو اور پروڈکٹ کوالٹی کو لے کر فکرمند ہیں، لہٰذا خریدار کے پاس کم شرح سود اور طویل قرضہ جاتی مدت کی رسائی نہیں ہوپائی ہے۔ ترجیحی شعبے کو قرض، بینکوں کو بھارت میں ای وی کے استعمال میں اضافے کی نگرانی کرنے اور ہمارے 2070 کے کلائمیٹ گول کے حصول میں مدد کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرسکتا ہے۔

یہ رپورٹ اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ پی ایس ایل کے تحت الیکٹرک دو پہیہ، سہ پہیہ اور کمرشیل چار پہیہ گاڑیاں ترجیح والے اَرلی سگمنٹ ہیں۔ آنے والے دنوں میں دیگر وزارتوں اور صنعتی شعبے کے حصص داروں کی شراکت داری اس بات کو یقینی بنانے میں اہم ہوگی کہ مقررہ رہنما ہدایات بھارت میں ای وی سرمایہ کاری میں مؤثر طریقے سے اضافہ کرسکتے ہیں۔

اس رپورٹ میں ای وی کو شامل کئے جانے کے اثر کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لئے قابل تجدید توانائی اور ای وی کو ترجیح یافتہ شعبے کو قرض دینے کے لئے ایک واضح ذیلی ہدف اور جرمانہ نظام کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وزارت خزانہ کے ذریعے ای وی کو ایک بنیادی ڈھانچہ جاتی ذیلی شعبہ کے روپ میں منظوری دینے اور آر بی آئی کے تحت ایک الگ رپورٹنگ زمرے کی شکل میں شامل کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔ اس طرح کے کثیر سطحی حل کی ضرورت نہ صرف ای وی سرمایہ کاری اور کاروبار کے لئے بلکہ مالی شعبے اور بھارت کے 2070 نیٹ زیرو ٹارگیٹ کے حصول کے لئے بھی ہے۔

اس رپورٹ کو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں:

https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2022-01/Banking-on-EV_web_2.0a.pdf

 

******

ش ح۔ م م۔ م ر

U-NO.606



(Release ID: 1791709) Visitor Counter : 180