دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈی اے وائی – این آر ایل ایم نے  آزادی کا امرت مہوتسو  کے حصے کے طور پر ایگری نیوٹری گارڈن وک منایا

7500 کے نشانے کے باوجود اس ہفتے 76664 ایگری نیوٹری گارڈنس قائم کیے گئے

Posted On: 20 JAN 2022 5:31PM by PIB Delhi

نئی دہلی،20 جنوری،2022 /دین دیال انتودیہ یوجنا  - قومی دیہی گزر بسر مشن (ڈی اے وائی – این آر ایل ایم) نے 10 جنوری سے 17 جنوری 2022 تک ایگری نیوٹری گارڈن وک منایا۔ یہ ہفتہ دیہی گھروں میں بیداری مہم اور ایگری نیوٹری گارڈنس قائم کرنے کے کام کی حوصلہ افزائی کر کے منایا گیا۔مشن کا ایجنڈا ہر دیہی غریب گھر کی ایگری نیوٹری گارڈن کا حامل ہونے میں مدد کرنا ہے  تاکہ کنبے کے تغذیے کی ضرورت پوری کی جا سکے اور اگر پیداوار زیادہ ہے تو آمدنی کے لیے اس پیداوار کو فروغ بھی دیا جا سکے ۔

دیہی معیشت کو استحکام دینے کے وزیراعظم کے ویژن اور آتم نربھر بھارت کی مہم کے عین مطابق دیہی بھارت میں 78 لاکھ سے زیادہ زرعی تغذیاتی باغیچے قائم کیے گئے ہیں تاکہ دیہی بھارت میں خوراک اور تغذ یے کی فراہمی کی  یقین دہانی کی جاسکے۔  اگرچہ 7500 کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس ہفتے کے دوران 76664 زرعی تغذیاتی باغیچے قائم کیے گئے۔

اس قدم سے دیہی علاقوں میں تغذیے سے متعلق بیداری ، تعلیم او ررویہ جاتی تبدیلی کو فروغ دینے میں بھی مدد مل رہی ہے ۔  اس قدم میں خاتون کسان اور اسکول کے بچے بھی شامل ہیں۔ اس قدم سے تغذیے کی کمی پر قابو پانے اور گھروں میں کی جانے والی زراعت اور تغذیاتی باغیچوں کے ذریعے تغذیاتی طور پر حساس زراعت کرنے کے مقامی طور طریقوں کے ذریعے روایتی معلومات کو بھی فروغ حاصل ہو رہا ہے۔

اس پروگرام کے حصے کے طور پر ڈی اے وائی  - این آر ایل ایم نے 13 جنوری ، 2022 کو ایک ویبینار کا بھی اہتمام کیا جس میں 700جگہوں سے 2000 سے زیادہ خواتین نے شرکت کی۔  دیہی گزر بسر آر ایل کی جوائنٹ سکریٹری نے دیہی بھارت کی خوراک اور تغذیاتی دستیابی کی یقین دہانی کے تئیں بڑا کام کرنے پر سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے سبھی ایس آر ایل ایم  اور خاتون کسانوں کی  ہمت افزائی کی  اور کہا کہ ان باغیچوں میں مختلف سبزیاں اور پھل اگانے کا منصوبہ ہونا چاہیے تاکہ گھروں میں تغذیے کی ضرورت بھرپور طریقے سے پوری  کی جا سکے۔

معلومات ایک دوسرے کو فراہم کرنے کے حصے کے طور پر 5 ایس آر ایل ایم اوڈیشہ، مہاراشٹر، میزورم، مدھیہ پردیش اور جموں و کشمیر اپنے بہترین طور طریقوں کے بارے میں ویبینار میں  پرزینٹیشن دیا اور زرعی تغذیاتی باغیچے قائم کرنے سے متعلق اپنے کام کا مظاہرہ کیا۔ کچھ خاتون چھوٹی کاروباریوں نے ویبینار میں اپنی کامیابیوں کا ذکر کیا جس کی وجہ سے حصہ لینے والے دیگر افراد کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی۔

         

جھارکھنڈ کے لاتیہار ضلعے کے برادیہ بلاک میں زرعی تغذیاتی باغیچے کی تقریبات

مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی ریسورس پرسن (سی آر پی) محرمہ سمترا کیول نے اپنے زرعی تغذیاتی باغیچے سے ویبینار میں شرکت کی۔ اور اپنا تغذیاتی باغیچہ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے باغیچے میں 10 قسم کی سبزیاں اور پھل اگا رہی ہیں جس سے  ان کے کنبے کی تغذیے کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے اور وہ اپنی زیادہ پیداوار کو مزید آمدنی کے لیے فروخت بھی کرتی ہیں۔  ان کے گاؤں میں تقریباً 280 ایس ایچ جی گھر ہیں ۔ اب سبھی گھروں میں زرعی تغذیاتی باغیچے ہیں جن میں مختلف قسم کی سبزیاں اور پھل اگائے جاتے ہیں۔

جھارکھنڈ کے بینگا باد علاقے سے سی آر پی محترمہ آرتی کماری نے شرکت کی اور کہا کہ سبزیوں اور پھلوں کی سبھی تغذیاتی ضرورتیں زرعی تغذیاتی باغیچے سے پوری ہو جاتی ہیں۔ عالمی وبا کی اس صورتحال میں وہ اپنے کنبے کی تغذیاتی ضرورتیں اس زرعی تغذیاتی باغیچے سے پوری کر لیتی ہیں۔

دونوں ہی خاتون کسانوں نے اعتراف کیا کہ اب طبی اخراجات کے طور پر کم پیسہ خرچ ہو رہا ہے جیساکہ وہ تغذیے سے بھرپور اور کیمیاوی مادوں سے  پاک  خوراک  حاصل کر رہے ہیں جو انہوں نے اپنے ہی زرعی تغذیاتی باغیچوں میں اگایا ہے۔

 ۔۔۔

                

ش ح ۔ اس۔ ت ح ۔

U –575



(Release ID: 1791361) Visitor Counter : 79