کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

کامرس اور صنعت کی وزارت کے  صنعتی داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے کے لئے 2021 کے اختتامی سال کا جائزہ

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی  میں 20.1 فیصد اور دوسری سہ ماہی میں 8.4 فیصد کی مجموعی گھریلو شرح نمو کے ساتھ معیشت میں بہتری کے اشارے ملنا شروع ہوگئے تھے

ای وے بلس، ریل محصول ،اور بندرگاہی ٹریفک ،جی ایس ٹی کلیکشن اور بجلی کی کھپت جیسے مختلف اعلیٰ فریکوینسی والے اشاروں نے معیشت میں وی نما بہتری ظاہر کی

آئی آئی ٹی اور آئی سی آئی کے رجحانوں میں صنعتی پروڈکشن کی تجدید کے اشارے ملے ہیں


اپریل-اکتوبر 2021 کے دوران آئی آئی پی میں 20فیصد کا اضافہ ہواجس میں پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران 17.3فیصد کی تخفیف دیکھنے میں آئی،اسی مدت کے دوران بھاری گراوٹ کے مقابلے کان کنی ، مینو فیکچرنگ اور بجلی کے شعبوں نے دو عددی نمو درج کرائی


بھارت کو آتم نربھر بنانے اور بھارت کی مینو فیکچرنگ صلاحیتوں کو فروغ دینے  کے لئے پی ایل آئی اسکیمیں  شروع کی گئیں


14 کلیدی سیکٹروں کے لئے 1.97لاکھ کرڑ روپے (26 بلین ڈالر) کی پی ایل آئی اسکیمیں نافذ کی گئیں


ایف ڈی آئی پالیسی کواورزیادہ نرم بنایا گیا،خود کار طریقے کے تحت بیما سیکٹر میں ایف ڈی آئی حد 49فیصد  سے بڑھا کر 74فیصد کی گئی&

Posted On: 29 DEC 2021 6:50PM by PIB Delhi

I۔تعارف:

  • کووڈ-19 وبا کی وجہ سے سال 2020 میں اتھل پتھل دیکھی گئی جو اقتصادی ترقی کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن کر ابھری۔بھارتی معیشت نے مالی سال 2020-21 کی پہلی سہ ماہی میں 24.4فیصد کی تیز گراوٹ جبکہ دوسری سہ ماہی میں 7.3 فیصد کی کمی درج کی۔
  • کووڈ وبا سے متعلق چیلنجوں کو مواقع میں بدلنے کے لئے 29.87 لاکھ کروڑ روپے کے بقدر آتم نربھر پیکج کے اعلان کے علاوہ حکومت کے ذریعہ بہت سے اقدامات کئے گئے جس سے کہ معاشی صورتحال میں بہتری لائی جاسکے۔معیشت اور ذریعہ معاش کی مدد کرنے کے لئے نشان زد اقدامات کئے گئے ۔اس کے علاوہ تعمیری اصلاحت میں تیزی لائی گئی ۔
  • آتم نربھر پیکج کے تحت کی گئی اہم اصلاحات میں ایم ایس ایم ای قرضوں کے لیے کریڈٹ گارنٹی، سیکٹرل ڈھانچہ جاتی اصلاحات،سی پی ایس ایز کی اسٹریٹجک ڈس انویسٹمنٹ پر پالیسی، سرکاری خریداری میں اصلاحات،سرمایہ کاری میں سہولت کے لیے سیکریٹریز کے بااختیار گروپ اور پروجیکٹ ڈیولپمنٹ سیل کا قیام،تعمیل کے بوجھ میں کمی ،منظوری کے لیے سنگل ونڈو نظام شامل ہیں۔
  • ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے علاوہ ان اقدامات نے معیشت کو اس کے ابتدائی احیاء میں مدد فراہم کی ہے۔بھارت جو کہ کورونا وباء سے پہلےاین-95،پی پی ای کٹس، وینٹی لیٹرز وغیرہ تیار نہیں کر رہا تھا،اب اس نے انہیں تیار کرنا شروع کر دیا ہے اور یہاں تک کہ عالمی منڈیوں تک پہنچنا شروع کر دیا ہے اور خود کفیل ہو گیا ہے۔ حکومت نے جنوری، 2021 میں ٹیکہ کاری مہم شروع کی اور کووڈ وباکے خلاف اپنی لڑائی میں ملک میں ہی کووڈ سے بچاؤ کا ٹیکہ کوویکسین تیار کیا۔ بھارت میں اب تک 143 کروڑ سے زیادہ کووڈ سے بچاؤ کے ٹیکے پہلے ہی لگائے جاچکے ہیں۔ اس سے نہ صرف لوگوں کی جانیں بچی ہیں بلکہ معیشت کی جلد بحالی کوبھی رفتار حاصل ہوئی ہے۔
  • سال 2021-22 کی پہلی سہ ماہی  میں 20.1 فیصد اورجبکہ  دوسری سہ ماہی میں 8.4 فیصد کی مجموعی گھریلو شرح نمو کے ساتھ معیشت میں بہتری کے اشارے ملنا شروع ہوگئے ہیں۔
  • ای وے بلس، ریل محصول ،اور بندرگاہی ٹریفک ،جی ایس ٹی کلکشن  اور بجلی کی کھپت جیسے مختلف اعلیٰ فریکوینسی والے اشاروں نے معیشت میں وی نما بہتری ظاہر کی۔

II۔صنعتی کارکردگی

  • سال 2020-21  کے دوران صنعتی سیکٹر کی کارکردگی میں قابل لحاظ -8.4 فیصد تک کی کمی آئی جو خاص طور سے مارچ 2020 کے بعد سے صحت عامہ پر کووڈ وبا کے ذریعہ پیدا ہوئے اثرات کو کم کرنے کے لئے سرکار کی جانب سے صنعتوں کوملک گیر پیمانے پر بند کرانے کی وجہ سے ہوئی تھی  ۔ کان کنی اور مینو فیکچرنگ کے سیکٹروں پر بہت زیادہ اثر پڑا تھا جس میں -7.8 فیصد اور-9.6 فیصد تک کی کمی آئی تھی جبکہ بجلی پیدا کرنے کے سیکٹر میں -0.5 فیصد کی کمی آئی تھی ۔
  • اپریل-اکتوبر 2020 کے لیے صنعتی پیداوار کا مجموعی اشاریہ میں 17.3 فیصد کی گراوٹ آئی البتہ ٹیکہ کاری اور تعمیری اصلاحات اور بھارتی صنعتوں کی لچک کے ساتھ حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے مختلف اقدامات نے معیشت کے آیا میں مدد کی ہے جس سے 2021 کی اسی مدت کے دوران آئی آئی پی میں 20.0 فیصد کا اچھال دیکھنے میں آیا ۔اسی طرح کان کنی مینو فیکچرنگ اور بجلی کے سیکٹر میں بھی اسی مدت کے دوران باالترتیب 20.4 فیصد ،21.2 فیصد اور 11.4 فیصد کا اضافہ درج کرایا ہے۔

III۔آٹھ بنیادی صنعتوں کی نمو میں اضافہ کا رجحان

  • آٹھ بنیادی صنعتوں کی کارکردگی  انڈیکس (آئی سی آئی) آٹھ بنیادی صنعتوں کی کارکردگی کاپیمانے کا تعین کرتا ہےجس میں کوئلہ، خام تیل، قدرتی گیس، پیٹرولیم ریفائنری مصنوعات، کھاد، اسٹیل، سیمنٹ اور بجلی شامل ہیں۔آئی سی آئی میں شامل صنعتوں میں صنعتی پیداوار(آئی آئی پی) کے اشاریہ کاحصہ 40.27 فیصد پر مشتمل ہے۔
  • 2020-21 کے دوران، آئی سی آئی کی شرح نمو -6.4 فیصد رہی جبکہ پچھلے 3 سالوں میں یعنی2017-18 تا 2019-20 کے دوران اوسط شرح نمو 3.0 فیصد رہی تھی۔رواں مالی سال (اپریل تا اکتوبر2021-22) کے دوران شرح نمومیں مضبوطی آئی اور یہ  15.1 فیصد رہی ۔آٹھ کلیدی سیکٹروں میں سے 6 نے دو عددی بہتری دکھائی ہے جس میں سیمنٹ اور اسٹیل سیکٹروں نے باالترتیب33.6 فیصد اور 88.6 فیصد کی شرح نمو کے ساتھ ان سیکٹروں میں اپنی سبقت دکھائی ہے۔حالانکہ اسی مدت کے دوران یعنی  (اپریل تا اکتوبر 2021-22) کے دوران خام تیل اور کھادوں کے سیکٹر کے نمو ہلکی رہی جو کلیدی صنعتوں کے احیاء کو ظاہر کرتی ہے۔

IV۔ ڈی پی آئی آئی ٹی دنیا کے لئے میک ان انڈیا بنانے کے شعبے میں کئی پہل کرنے میں پیش پیش رہی ہے اس سلسلے میں اٹھائے گئے کچھ اقدامات درج ذیل ہیں۔

1. پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم:

  • آتم نربھر بننے کے بھارت کے ویژن اور بھارت کی مینو فیچرنگ برآمدات کے فروغ کو دھیان میں رکھتے ہوئے مالی سال 2021-22 سے شروع کرکے 14 اہم شعبوں کے لیے پی ایل آئی اسکیموں کے لیے مرکزی بجٹ 2021-22 میں INR 1.97 لاکھ کروڑ (26 بلین امریکی ڈالر) کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ 14 شعبے یہ ہیں: (i) آٹوموبائل اور آٹواجزاء، (ii) دواسازی کی ادویات، (iii) اسپیشلٹی اسٹیل، (iv) ٹیلی کام اور نیٹ ورکنگ مصنوعات، (v) الیکٹرانک/ٹیکنالوجی مصنوعات، (vi) وائٹ گڈس (اے سیزاورایل ای ڈی لائٹس)، (vii) کھانے کی مصنوعات، (viii) ٹیکسٹائل مصنوعات:ایم ایم ایف طبقہ اور تکنیکی ٹیکسٹائل، (ix) اعلی کارکردگی والے سولر پی وی ماڈیولز، اور (x) ایڈوانسڈ کیمسٹری سیل (اے سی سی) بیٹری (xi) طبی آلات (xii) موبائل فون سمیت بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس کی تیاری اور (xiv) ڈرون اور ڈرون کے اجزاء۔

2۔پی ایم گتی شکتی ماسٹر پلان(این ایم پی)

  • وزیر اعظم نے 13 اکتوبر 2021 کو بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایک قومی ماسٹر پلان گتی شکتی کا آغاز کیاتھا۔ گتی شکتی ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو 16 وزارتوں بشمول ریلوے اور روڈ ویز کو مربوط منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کے رابطے کے منصوبوں کے مربوط نفاذ کے لیے ایک ساتھ لائے گا۔

3۔اسٹارٹ اپ انڈیا پروگرام

  • 16 جنوری 2016 کو وزیر اعظم کے ذریعہ بھارتی حکومت کے ایک اہم اقدام کے طور پر اسٹارٹ اپ انڈیا پہل شروع کی گئی تھی۔ اس پہل کا مقصد ہندوستان کے اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دینے  کے لیے ایک مضبوط ماحولیاتی نظام کی تعمیر کرنا تھا جو ہماری اقتصادی ترقی کو مزید آگے بڑھائے گا، انٹرپرینیورشپ میں معاون ہو گا اور بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع فراہم کرے گا۔ 60,000 سے زیادہ تسلیم شدہ اسٹارٹ اپس کے ساتھ، ہندوستان تیسرے سب سے بڑے سٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں تبدیل ہو گیا ہے جو کہ روزگار کے ساتھ ساتھ ہمیں خود کفیل بنانے کو فروغ دے رہا ہے۔پہلے درجے کے شہروں سے آگے انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے میں اسٹارٹ اپ انڈیا کا رول اہم رہا ہے۔ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹیز) کی کوششوں سے علاقائی ترقی نے ہمارے معاشی اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے ایک قومی ماحولیاتی نظام تشکیل دیا ہے۔ جبکہ تسلیم شدہ اسٹارٹ اپس میں سے 55فیصدٹائر-1 شہروں سے ہیں اور 45فیصد  اسٹارٹ اپ بالترتیب ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں سے ہیں، 45فیصد اسٹارٹ اپس کی نمائندگی خواتین انٹرپرینیورز کرتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹارٹ اپس کی جڑیں ملک میں بہت نیچے تک پھیلی ہوئی ہیں۔
  • 4- سرمایہ کاری کا فروغ
  • I۔بجٹ 21-2020 پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ نے سرمایہ کاری کلیرینس سیل (آئی سی سی ) کے قیام کے منصوبوں کا اعلان کیا جو اینڈ ٹو اینڈ سہولت اور سرمایہ کاروں کو سپورٹ مہیا کرے گا جس میں ماقبل سرمایہ کاری ایڈوائزری شامل ہے۔ یہ زمین بینکوں سے متعلق معلومات اور مرکز اور ریاست کی سطح پر کلیرینس کی سہولیات مہیا کرے گا۔ سیل ایک مجوزہ آن لائن ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعہ کام کرے گا۔
  •  بعد میں ڈی پی آئی آئی ٹی نے انویسٹ انڈیا کے ساتھ پورٹل کونیشنل سنگل ونڈو سسٹم (این ایس ڈبلیو ایس) کے طور پر ڈیولپ کرنے کا آغاز کیا۔ این ایس ڈبلیو ایس  (www.nsws.gov.in) تجارت اور صنعت کے وزیر جناب پیوش گوئل کے ذریعہ 22 دسمبر 2021 کو ملک میں ہر طرح کی ریگولیٹری منظوریوں اور خدمات کےلئےشروع کیا گیا۔
  • یہ نیشنل پورٹل حکومت ہند کی مختلف وزارتوں / محکموں اور ریاستی حکومتوں کے موجودہ کلیرینس نظاموں کو وزارتوں/ محکموں کے موجودہ آئی ٹی پورٹلس میں کسی خلل کے بغیر مربوط کرتا ہے۔
  • 18 وزارتوں / محکموں کی منظوریو اور 10 ریاستوں کے واحد ونڈو نظاموں کو پہلے مرحلہ میں آن بورڈ کیا گیا ہے۔ 32مرکزی محکموں اور14 ریاستوں کی مکمل آن بورڈنگ کو اگلے مرحلوں میں ہوگی۔ بقیہ تمام ریاستیں مرحلہ وار طریقے سے آن بورڈ کی جائیں گی۔
  • i i ۔ ایز آف ڈوئنگ بزنس :
  • ڈی پی آئی آئی ٹی ملک میں ایز آف ڈوئنگ بزنس کی بہتری کے لئے تیس اہم اقدامات کے ذریعہ  مسلسل کوششیں کررہی ہے۔  ان اقدامات کی توجہ عالمی بینک کے ایز آر ڈوئنگ بزنس ، ریاست اور صلع کے اصلاحی منصوبہ عمل اور تجارت پر ریگولیٹری تعمیل کا بوجھ کم کرنے کے لئے منظم نقطہ نظر پر مرکوز ہے۔ نتیجے کے طور پر ہندوستان کا مرتبہ عالمی بینک کے ڈی او ڈی بی رپورٹ کے مطابق 2014 میں 142 سے 2020 میں 63 تک بہتر ہوا ہے۔
  • مرکزی وزارتوں / محکموں اور ریاستوں / مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں تعمیل کے بڑے ڈیٹا بیس کو مانیٹر کرنے کی غرض سے ڈی پی آئی آئی ٹی نے یکم جنوری 2021 جو ریگولیٹری تعمیل پورٹل کا آغاز کیا ہے ۔ (https://eodbrcp.dpiit.gov.in/) ریگولیٹری تعمیل پورٹل اپ لوڈ کئے گئے ڈاٹا کی بناد پر 25000 سے زیادہ تعمیلات مرکزی وزارتوں / محکموں اور ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ مشترکہ طور پر کم کی گئی ہیں۔
  • ڈی پی آئی آئی ٹی نے پی ای ایس او ، بوائلر، آئی پی آر، این ای آئی ڈی ایس، صنعتی لائسنسنگ سے متعلق کمی کرنے کے لئے 194 تعمیلات کی شناخت کی ہے۔ ان میں سے 134 تعمیلات کم کی گئیں۔ 31 زیر غور ہیں اور 29 کو برقرار رکھا گیا ۔ تعمیل کی کم کردہ اقسام یہ ہیں : (1) سرٹیفکیٹ ، لائسنس اور اجازت نامہ (2) فائلنگز (3) معائنہ ، ایگزامنیشن اورآڈٹ ( 4) رجسٹر اور ریکارڈ (5) ڈسپلے ضروریات  (6) فالتو پن (7)  ڈی کیریمنلائزیشن (8) ٹکنالوجی اور (9) دوسرے
  • iii- پروجیکٹ ڈیولپمنٹ سیل
  • 29 وزارتوں / محکموں میں پروجیکٹ ڈیولپمنٹ سیل ( پی ڈی سی ایس ) قائم کئے گئے تاکہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کے ساتھ سرمایہ کاری میں تیزی لائی جاسکے اور ہندوستان میں قابل سرمایہ کاری پروجیکٹوں کو بڑھا یاجاسکے جس کے نتیجہ میں گھریلو سرمایہ کاری اور ایف ڈی آئی انفلو میں اضافہ ہو۔
  • Iv۔ ہندوستانی صنعتی زمینی بینک (آئی آئی ایل بی ) :
  • آئی آئی ایل بی جی آئی ایس پر مبنی ایک پورٹل ہے جسے تمام صنعتی ڈھانچے سے متعلق معلومات کے ون اسٹاپ ذخیرہ کے طور پر ڈی پی آئی ٹی کے ذریعہ ڈیولپ کیا گیا ہے ۔ یہ کنکٹویٹی ، ڈھانچہ ، قدرتی وسائل اور خطے، خالی پ لاٹوں کے بارے میں پلاٹ سطح کی معلومات، سرگرمی کی لائن اور رابطہ کرنے کی تفصیلات کا احاطہ کرتا ہے۔ فی الحال، آئی آئی ایل جی کے پاس  تقریبا 4500 صنعتی پارک ہیں جن کی نقشہ سازی 5.11 لاکھ ہیکٹر زمین پر کی گئی ہے جو دوردراز زمینوں کے  خواہش مند سرمایہ کاروں کے لئے فیصلہ کرنے میں معاون ہے۔ یہ نظام صنعت پر مبنی 24 ریاستوں /  مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے جی آئی ایسنظاموں کے ساتھ مربوط کردیا گیا ہے۔ وہ ریاستیں / مرکز کے زیر انتظام علاقے یہ ہیں ۔
  • آندھرا پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، دادر اورناگرحویلی اور دمن اور دیوب، گوا، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرالہ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اڈیشہ، پنجاب، پوڈوچیری، سکم، تملناڈو، تریپورہ، تلنگانہ، اتراکھنڈ اور یوپی۔ یہ ریل ٹائم کی بنیاد پر 2113 جی آئی ایس پارکوں کی تفصیلات رکھتے ہیں۔ آئی آئی ایل بی کا ایک موبائل اپلیکیشن بھی اینڈ رائڈ اورآئی او ایس اسٹور پر سرمایہ کار کی آسانی کے لئے دستیاب ہے۔
  • 6- بیرونی براہ راست سرمایہ کاری
  • ہندوستان کو سرمایہ کاری کے لئے ایک پرکشش مقام بنانے کے لئے  حالیہ گزشتہ دنوں میں ایف ڈی آئی پالیسی کو آہستہ آہستہ آزادی دی گئی ہے اور مختلف شعبہ جات میں اسے  آسان بنادیا گیاہے ۔ایف ڈی آئی پالیسی اصلاحات کے بارے میں حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے نتیجے میں ملک میں ایف ڈی آئی انفلو میں اضافہ ہوا ہے، جو سال بہ سال نئے رکارڈ بنا رہا ہے۔ ہندوستان میں ایف ڈی آئی انفلو 2015-2014 میں 45.15 ارب یو ایس ڈالر پر تھا اور تب سے اس میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ 2016-2015 میں 55.56 ارب ، 2017-2016 میں 60.22ارب، 2017-2018 میں 60.97 ارب۔ 2019-2018 سال میں 62.00ارب، 20-2019 میں 74.39ارب یو ایس ڈالر تک ایف ڈی آئی انفلو کا اضافہ ہوا ہے اور ہندوستان نے مالی سال 21-2020 میں 81.97 ارب (عارضی اعداد وشمار) کا سب سے زیادہ اپنا سالانہ ایف ڈی آئی انفلو رجسٹر کیا ہے۔ ہندوستان کے ایف ڈی آئی میں یہ رجحانات عالمی سرمایہ کاروں کے درمیان ایک قابل ترجیح سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر ہندوستان کی حیثیت کی توثیق کرتےہیں۔

2021 کے دوران ایف ڈی آئی پالیسی کی اصلاحات:

  • انشورینس شعبہ:

حکومت نے آٹومیٹک روٹ کے تحت اور تحفظات کے ساتھ بیرونی ملکیت اور کنٹرول کی اجازت کے لئے انشورنس کمپنیوں میں جائز ایف ڈی آئی حد کو 49 فیصد سے 74 فیصد تک بڑھانے کے لئے پریس نوٹ (2021)2 مؤرخہ 14.06.2021 جاری کیا۔ یہ طویل مدتی سرمایہ کے اضافہ شدہ بہاؤ، عالمی ٹیکنالوجی اور عالمی سطح کے طریقہ  ہائے کار اور اعمال کی سہولت بہم پہنچائے گا، جس سے ہندوستان کے انشورنس شعبے میں ترقی کو مدد ملے گی۔

  • پٹرولیم اور قدرتی گیس شعبہ:

پریس نوٹ (2021) 3مؤرخہ 29.07.2021جاری کی گئی تاکہ 100 فیصد تک بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت آٹومیٹک روٹ کے تحت ان معاملات میں دی جائے، جہاں پٹرولیم حکومت نے اور قدرتی گیس شعبے میں مصروف پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ (پی ایس یو) کی غیر سرمایہ کاری کی منظوری کے لئے  اصولی طور پر ، اتفاق کیا ہے۔

  • ٹیلی کام کا شعبہ: آٹومیٹک روٹ کے تحت  ٹیلی کام خدمات کے شعبے میں 100 فیصد تک کی بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت دینے کے لئے پریس نوٹ (2021)4 مؤرخہ 06.10.2021 جاری کی گئی ہے۔

7.دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آر):بیرونی سرمایہ کاروں کی توجہ مبذول کرنے، تخلیقی عمل کی توسیع اور مقامی اختراع کنندگان کی حوصلہ افزائی کا فریم ورک۔ بیرونی سرمایہ کاروں کی توجہ مبذول کرنے، تخلیقی عمل کی توسیع اور خود اپنے خیالات میں سرمایہ کاری کے لئے مقامی اختراع کنندگان کی ہمت افزائی کے لئے ایک فعال آئی پی آر فریم ورک ناگزیر ہے۔اس سیاق میں ، ڈی پی آئی ٹی ہندوستان میں آئی پی ایکو سسٹم کو مستحکم کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔ اس سلسلے میں 2021 کے دوران کئے گئے اہم اقدامات مندرجہ ذیل ہیں:

  • خاکہ سازی (ترمیم) قواعد، 2021 کو ہندوستان کی گزٹ میں 25 جنوری 2021 کو نوٹیفائی کیاگیا تاکہ اسٹارٹ اپ اور چھوٹے اداروں کی ان کی خاکہ سازی کی حفاظت اور خاکہ سازی کی فائلنگ میں حوصلہ افزائی کے لئے پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک قواعد کے تحت فیسوں میں کمی کر دی گئی ہے۔
  • کاپی رائٹ (ترمیم) قواعد، 2021 کو 30  مارچ 2021 کو نوٹیفائی کیا گیا تاکہ موجودہ قواعد کو دوسرے اہم متعلقہ قوانین کے مساوی لایا جائے۔
  • پیٹنٹ (ترمیم) قواعد، 2021:پیٹنٹ (ترمیم) قواعد، 2021 جو 21 ستمبر 2021 سے نافذ العمل ہے کے ذریعہ تعلیمی اداروں کی پیٹنٹ فیس 80 فیصد کم کر دی گئی ہے۔ یہ ترمیم تعلیمی اداروں کو بالکل ایم ایس ایم ای ایس اور اسٹارٹ اپ کی طرح مدد فراہم کرے گی اور تعلیمی اداروں کی آئی پی ایکو سسٹم میں زیادہ بڑی شرکت کو یقینی بنائے گی۔

8.ایک ضلع ایک پروڈکٹ ( او ڈی او پی)

حکومت ہند ملک کے تمام ضلعوں میں متوازن علاقائی ترقی کو بڑھانے کے لئے تبدیلی لانے والے اقدام پر کام کر رہی ہے۔ اسے ایک ضلع ایک پروڈکٹ (او ڈی او پی) اقدام کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ہندوستان کے ہر ضلع میں منفرد مصنوعات کی پروڈکشن کو فروغ اور ان کی شناخت ہے تاکہ عالمی سطح پر ان کی مارکیٹنگ کی جا سکے۔ یہ ایک ضلع کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مددگار ہوگا اور اقتصادی ترقی، روزگار کی تخلیق اور دیہی انٹرپرینیورشپ کو مہمیز دے گا۔ او ڈی او پی اقدام عملی طور پر برآمد ہب کے طور پر اضلاع، کے ساتھ ضم کر دیا گیا ہے اور ڈی جی ایف ٹی کے ذریعہ نافذ کیا جا رہا ہے۔ تجارت کا محکمہ ڈی پی آئی آئی ٹی کے ساتھ ایک اہم فریق کے طور پر ڈی جی ایف ٹی کے ذریعہ انجام دینے والے کام کو ہم آہنگ کرے گا۔

11.سوچھتا مہم

 اس خصوصی مہم کے دوران ڈی پی آئی آئی ٹی اور اس کی ذیلی تنظیموں میں 49686 فائلوں پر نظر ثانی کی گئی ہے۔ ان نظر ثانی شدہ فائلوں میں سے 49449فائلوں کو کلیئر کیاگیا ہے۔ فائلوں کی کلیئرنس کی وجہ سے ڈی پی آئی آئی ٹی اور اس کی ذیلی تنظیموں میں 2222 مربع فٹ ایریا خالی /آزاد کرایا گیا ہے۔ فالتو/مطلق اشیاء کے ڈسپوزل کی وجہ سے 3277 مربع فٹ ایریا خالی کرایا گیا ہے، جس نے صفائی اور حفظان صحت کے حالات کو بہتر کیا ہے۔ اس کے علاوہ 560000 روپئے کا روینو پیدا کیا گیا ہے۔

12. سَن 2021  میں ہندوستان کی برکس (بی آر آئی سی ایس) کی صدارت کے دوران ڈی پی آئی آئی ٹی کے ذریعہ منعقدہ تقریبات

بی آر آئی سی ایس (برکس) کی تیرہویں سربراہی اجلاس ہندوستان کے زیر صدارت 2021 میں منعقد کی گئی۔ یہ تیسری بار تھا جب ہندوستان نے 2012 اور 2016 کے بعد برکس کی سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ ہندوستان کی صدارت کا تھیم ’ برکس @15: برکس کے مابین تسلسل، استحکام اور اجماع کے لئے تعاون تھا۔ برکس کی ہندوستان کی صدارت کے دوران 4تقریبات ڈی پی آئی آئی ٹی کے ذریعہ  صنعت سے متعلق مسائل پر یعنی صنعتی وزیروں کی میٹنگ، پارٹ این آئی آر میٹنگ( نئے صنعتی انقلاب پر شراکت) منعقد کی گئیں، جن کا مقصد سرمایہ کاری کو فروغ دینا، انڈسٹریلائزیشن، اختراع، ہمہ گیریت اور ڈیجیٹائزیشن تھا۔

13. ڈی پی آئی آئی ٹی نے آزادی کا امرت مہوتسو ( اے کے اے ایم) کے تحت مندرجہ ذیل تقریبات منعقد کیں۔

  • تجارت و صنعت کی وزارت کے لئے 20 ستمبر 2021 سے 26 ستمبر 2021 کا ہفتہ خاص کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق، ڈی پی آئی آئی ٹی نے  ’ ادیوگ سپتاہ‘ کے دوران یعنی 20 سے 26 ستمبر 2021 تک مختلف تقریبات منعقد کیں۔ جنہیں مختلف پلیٹ فارموں کے ذریعہ بڑے پیمانے پر شائع کیا گیا۔

ڈی پی آئی آئی ٹی کے ذریعہ منقد کی جانے والی بعض تقریبات اس طرح ہیں:

  • ایڈیشنل سکریٹری، ڈی پی آئی آئی ٹی کے ذریعہ 21 ستمبر 2021 کو منعقد ہونے والے پریس بریفنگ کو خطاب کیا گیا، جس میں پٹرولیم اور گیس شعبے میں صنعتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔
  • 22 ستمبر 2021 کو جناب پیوش گوئل کے ذریعہ قومی واحد ونڈو نظام کی سوفٹ لانچنگ، جس کا مقصد اینڈ-ٹو-اینڈ زمینی سہولت بہم پہنچانا۔ زمینی بینک سے متعلق معلومات بہم پہنچانا اور شفافیت لانے کے لئے مرکز اور ریاستی سطحوں پر کلیئرنس کی سہولیات مہیا کرنا وغیرہ ہے۔
  • اسٹارٹ اپ انڈیا نے مختلف ریاستوں  / مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے ساتھ اسٹارٹ اپ تقریبات میں شرکت کرنے کے لئے جو مختلف پروگراموں، کلیدی اقدامات کی شروعات، اسٹارٹ اپ پالیسیوں کی شروعات وغیرہ پر مشتمل تھیں اور 21 ستمبر 2021 تا 26 ستمبر 2021 منعقد ہوئیں تال میل کی۔
  • شمال مشرقی تجارت گول میز 23 ستمبر 2021 کو وزیر مملکت جناب سوم پرکاش کی موجودگی میں منعقد ہوئی تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع اور علاقے میں نافذ شدہ اصلاحات پر روشنی ڈالی جا سکے۔
  • عزت مآب وزیر جناب پیوش گوئل، وزیر مملکت جناب سوم پرکاش اور محترمہ انو پریا پٹیل کی موجودگی میں 28 ستمبر 2021 کو تعمیل کے بوجھ کو کم کرنے پر قومی ورکشاپ منعقد کیا گیا۔ اب تک 25000 تعمیلات مرکزی وزارتوں، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ کم کئے جا چکے ہیں۔
  • وزیر مملکت ( تجارت و صنعت) جناب سوم پرکاش کے ذریعہ 5 اکتوبر 2021 کو صنعتی پارک ریٹنگ نظام رپورٹ 2.0 کا آغاز کیا گیا۔
  • ملٹی موڈل کنکٹی ویٹی کے لئے 13 اکتوبر 2021 کو وزیراعظم جناب نریندر مودی کے ذریعہ پی ایم گتی شکتی کا آغاز کیا گیا۔
  • 20-25 دسمبر 2021 کے دوران گُڈ گورننس ہفتہ:بہتر ’’ ایر آف لیونگ‘‘ اور ’’ ایز آف ڈوئنگ بزنس‘‘ کے مقاصد کے حصول کے لئے 22 دسمبر 2021 کو ڈی پی آئی آئی ٹی نے ’’ تعمیل کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے اگلے مرحلے کی اصلاحات‘‘ کے عنوان سے ایک قومی ورکشاپ منعقد کی۔ عزت مآب وزیر برائے تجارت اور صنعت جناب پیوش گوئل نے ورکشاپ کو خطاب کیا۔
  • ڈی پی آئی آئی ٹی 16-10 جنوری 2022:انوویشن ایکو سسٹم ہفتہ بھی منعقد کرے گی:مجوزہ تقریب میں ڈی پی آئی آئی ٹی یونیکارنس اور اسٹارٹ اپ کے فروغ کے لئے کی جانے والی کوششوں کو نمایاں کرے گی۔ تقریب کی قیادت تعلیم کی وزارت کرے گی۔

*************

 

 

ش ح ۔ ش ر ۔ م ش۔ اک۔ ک ا

U. No.159



(Release ID: 1788316) Visitor Counter : 75