عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت

اختتام سال جائزہ ۔2021: محکمہ پنشن اور پنشنرز کی بہبود

Posted On: 30 DEC 2021 3:47PM by PIB Delhi

1جیون پرمان (ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ) سے متعلق اصلاحات

  • نومبر 2014 میں، عزت مآب وزیر اعظم کے ذریعہ لائف سرٹیفکیٹ "جیون پرمان" جمع کرانے کا ایک آن لائن سسٹم شروع کیا گیا۔
  • جیون پرمان کے ذریعے، پنشنر کسی بھی وقت اور کہیں سے بھی، اپنے پی سی /موبائل سے بائیو میٹرک ڈیوائس منسلک کرکے یا کامن سروس سینٹر (سی ایس سی) یا کسی بھی قریبی بینک برانچ کی خدمات استعمال کرکے آن لائن لائف سرٹیفکیٹ دے سکتا ہے۔
  • ڈی او پی پی ڈبلیوڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ کے لیے محکمہ ڈاک کے تحت انڈیا پوسٹس اینڈ پیمنٹ بینک (آئی پی پی بی) میں شامل ہوا۔ آئی پی پی بی اب ڈی او پی پی ڈبلیو کے بڑے اقدام کو پورا کر رہا ہے، یعنی 1,89,000 پوسٹ مین اور گرامین ڈاک سیوکوں کو شامل کرکے گھر سے  ڈی ایل سی ۔ اب تک تقریباً 2,99,816 مرکزی حکومت کے پنشنرز اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
  • ڈی او پی پی ڈبلیو نے 12 پبلک سیکٹر بینکوں پر مشتمل الائنس کی خدمات بھی حاصل کیں جو کہ اس سروس کے تحت لائف سرٹیفکیٹ کی وصولی کو بھی شامل کرنے کے لیے بینکاری اصلاحات میں آسانی کے تحت ملک کے 100 بڑے شہروں میں اپنے صارفین کے لیے ‘‘ڈوراسٹیپ بینکنگ ’’ کرتا ہے۔
  • 2014 سے اب تک مرکزی حکومت کے پنشنرز کی طرف سے جمع کرائے گئے ڈی ایل سیز کی کل تعداد تقریباً 1,06,51,196 ہے۔ 2021 میں کل جمع کرائے گئے ڈی ایل سیز کی تعداد 19,45,013 ہے۔
  • ڈی او پی پی ڈبلیو نے تمام پنشن تقسیم کرنے والے بینکوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویڈیو پر مبنی کسٹمر آئیڈینٹی فکیشن پروسیس (وی-سی آئی پی) کو پنشنرز سے لائف سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے ایک اضافی سہولت کے طور پر، آر بی آئی کی قابل اجازت رہنما خطوط کے اندر اختیار کریں۔ زیادہ تر بڑے پنشن تقسیم کرنے والے بینکوں نے اس سال میں اسے نافذ کیا ہے۔
  • تمام پنشنرز/فیملی پنشنرز کے لیے زندگی کی آسانی کو مزید یقینی بنانے کے لیے، پنشن اور پنشنرز کی بہبود کے محکمہ نے این آئی سی ، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت(ایم آئی آئی ٹی وائی) اور یو  آئی ڈی اے آئی کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ جمع کرانے کے لیے چہرے کی تصدیق کرنے والی ٹیکنالوجی پر مبنی یو آئی ڈی اے آئی آدھار سافٹ ویئر والا نظام تیار کیا ہے۔اس سہولت کے تحت چہرے کی تصدیق کی تکنیک کے ذریعے کسی شخص کی شناخت قائم کی جائے گی اور کسی بھی اینڈرائیڈ پر مبنی اسمارٹ فون سے لائف سرٹیفکیٹ جمع کروانا ممکن ہوگا۔ محترم وزیرمملکت (پی پی) نے 29.11.2021 کو اس سہولت کا آغاز کیا۔ چہرے کی تصدیق کی تکنیک کی حامل ڈی آئی سی ایک اہم ٹیکنالوجی ہے جو بیرونی بائیو میٹرک آلات پر پنشنرز کے انحصار کو کم کرے گی اور اس عمل کو مزید قابل رسائی اور سستا بنائے گا اس طرح تمام پنشنرز/فیملی پنشنرز کے لیے زندگی کی آسانی کو یقینی بنایا  جاسکے گا۔
  • پنشن رولز کا جائزہ اور معقولیت - سنٹرل سول سروسز (سی سی ایس) (پینشن) رولز، 2021 پر کتاب کا اجراء
  • یکم جنوری 2004 سے پہلے تعینات ہونے والے سول گورنمنٹ کے ملازمین کے سلسلے میں پنشن، فیملی پنشن اور گریجویٹی کو سنٹرل سول سروسز (پینشن) رولز کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے۔
  • اس سےپہلے کے پنشن رولز کو 50 سال پہلے 1972 میں نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ تب سے، سینٹرل سول سروسیز (پینشن) رولز، 1972 میں بڑی تعداد میں ترامیم کی گئی ہیں۔
  • ان قواعد کی مختلف دفعات کی تشریح اور وضاحت کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً کئی آفس میمورنڈم وغیرہ بھی جاری کیے گئے ہیں۔ چونکہ اس طرح کی ہدایات اور وضاحتیں قانونی قواعد کا حصہ نہیں بنتیں، اس لیے وزارتوں/محکموں کے ذریعے ان کے نفاذ میں یکسانیت لانے کے لیے انہیں قواعد میں ہی شامل کرنے کی ضرورت تھی۔
  • سیکٹرل گروپ آف سیکرٹریز-9 (ایس جی اوایس-9)) نے پنشن کے قواعد و ضوابط پر نظرثانی اور معقولیت کے کام کو محکمہ پنشن اور پنشنرز کی بہبود کے ذریعے شروع کیے جانے والے اسٹریٹجک اقدامات میں شامل کیا۔ ان اسٹریٹجک اقدامات کی نگرانی کابینہ سیکرٹریٹ/ پی ایم او کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ اسی مناسبت سے، محکمہ نے رولز یعنی سول سروسز (سی سی ایس) (پینشن) رولز، 2021 کا ایک نظرثانی شدہ اور اپ ڈیٹیڈ ورژن پیش کیا ہے۔
  • محکمہ نے ’بھوشیہ‘ تیار کیا ہے، جو ایک آن لائن پنشن کی منظوری اور ٹریکنگ کاسسٹم ہے۔ اس نظام نے پنشن کے کیسوں کی کارروائی میں رفتار، درستگی اور جوابدہی پیدا کی ہے۔ نئے قواعد کی ایک قابل ذکر خصوصیت یہ ہے کہ وہ بھوشیہ کے ذریعے پنشن کے مقدمات کی کارروائی کو لازمی بناتے ہیں۔
  • سی سی ایس (پنشن) رولز، 2021 میں سی سی ایس (پنشن) رولز، 1972 کے مقابلے میں کی گئی دیگر اہم پالیسی اور طریقہ کار میں بہتری درج ذیل ہیں:

پالیسی میں بہتری

  • چھٹی کے دوران حاصل ہونے والا اضافہ، پنشن/ فیملی پنشن/ گریجویٹی کے معاوضے کے طور پر، دورانیہ اورچھٹی کی قسم سے قطع نظر شمار کیا جائے گا ۔
  • ریٹائرمنٹ کے بعد تنخواہ میں سابقہ تصوراتی اضافے کا فائدہ (عدالتی احکامات، نظرثانی شدہ ڈی پی سیز وغیرہ کی وجہ سے) پنشن/ گریجویٹی کے لیے دستیاب ہوگا۔
  • برخاستگی/برطرفی کے جرمانے کے نفاذ پر امدادی بھتہ دینے کے سوال پر فیصلہ کرنے کے لیے تین ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ برطرفی/برخواستگی کے ماضی کے معاملات میں امدادی بھتہ کا فیصلہ بھی 6 ماہ کے اندر کرنا ہوگا۔
  • تیس سال کی کوالیفائنگ سروس کے بعد رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کی فراہمی کو بے معنی ہو جانے کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا ہے۔
  • رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کے نوٹس کو واپس لینے کی درخواست ریٹائرمنٹ کی مقررہ تاریخ سے کم از کم 15 دن پہلے کرنی ہوگی، تاکہ درخواست پر فیصلہ لینے کے لیے مجاز اتھارٹی کو کافی وقت دیا جاسکے۔
  • پنشن/فیملی پنشن/گریچوٹی کی تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں سود کی  ادائیگی اور ذمہ داری کے تعین کا انتظام کیا گیا ہے۔
  • یو این کے اداروں وغیرہ میں تعینات سرکاری ملازم کے پاس پنشن کا حصہ ادا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہوگا۔ خدمت کو پنشن اور گریجویٹی کے لیے صرف اس صورت میں شمار کیا جائے گا جب یہ حصہ ادا کیا جائے۔
  • معذوری کا شکار بچوں/بہن بھائیوں کو سرکاری ملازم/پنشنر پر منحصر سمجھا جائے گا اور وہ اس کے مطابق خاندانی پنشن کے اہل ہوں گے، اگر ان کی آمدنی اہل خانہ کی پنشن اور مہنگائی بھتہ سے کم ہے۔
  • طلاق یافتہ بیٹی، جس کے معاملے میں اس کے والدین کی موت کے بعد طلاق کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا، اگر والدین کی موت سے قبل طلاق کی درخواست دائر کی گئی ہو تو وہ خاندانی پنشن کی اہل ہوگی۔
  • ایسے معاملات میں جہاں کوئی سرکاری ملازم جرمانے کی مدت کے دوران فوت ہو جاتا ہے جس کا اثر صرف اس جرمانے کی جاری رہنے کے دوران اس کی تنخواہ میں کمی کا باعث ہوتا ہے، ایسے جرمانے کے اثر کو نظر انداز کرتے ہوئے خاندانی پنشن کا حساب مانی ہوئی تنخواہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
  • اگر خاندانی پنشن حاصل کرنے کے اہل شخص (مثلاً شریک حیات) پر سرکاری ملازم/پنشنر کے قتل کے جرم کا الزام لگایا جاتا ہے، تو فوجداری کارروائی کے اختتام تک خاندانی پنشن اس شخص کو ادا نہیں کی جائے گی بلکہ خاندان کے دوسرے اہل رکن کو ادا کی جائے گی۔ (مثلاً بچہ)۔
  • سروس کے دوران کسی سرکاری ملازم کی موت پر، خاندان کے افراد کو سرکاری رہائش کے سلسلے میں اگلے تین ماہ کی مدت کے لیے لائسنس فیس کے ساتھ ساتھ کوئی بقایا لائسنس فیس بھی ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

طریقہ کار میں بہتری

  • آن لائن پنشن کی منظوری اور ٹریکنگ سسٹم ’بھوشیہ‘ کے ذریعے پنشن کے معاملات پر کارروائی کرنا لازمی ہوگا۔
  • ایچ او اواور پی اے او کی طرف سے پنشن/فیملی پنشن کے کیسوں کی کارروائی کے لیے ٹائم لائنز کو ہموار/منطقی بنایا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ/موت پرپی پی او کے فوری اجرا کو یقینی بنایا جا سکے۔
  • پنشن کی منظوری/ادائیگی کے عمل میں سی پی اے او اور پنشن تقسیم کرنے والی اتھارٹیز/بینکوں کے کردار کی نشاندہی قواعد میں کی گئی ہے اور ان کے لیے ٹائم لائنز فراہم کی گئی ہیں۔
  • اگر کوئی سرکاری ملازم کسی جسمانی یا ذہنی کمزوری کی وجہ سے فارم نہیں بھر سکتا یا سرکاری ملازم ریٹائرمنٹ کے بعد فوت ہو جاتا ہے لیکن پنشن کے کاغذات جمع کرانے سے پہلے، تومرنے والے کے شریک حیات/خاندان کے رکن کو پنشن کے کاغذات جمع کرانے کی اجازت ہوگی۔
  • پی اے او کو پنشن کیس بھیجنے کا انتظار کیے بغیر ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ فیملی پنشن کا دعویٰ جمع کرانے پر عارضی فیملی پنشن کی فوری منظوری دی جائے گی۔
  • لاپتہ ہونے والے سرکاری ملازم / پنشنر کے خاندان کو فیملی پنشن اور دیگر فوائد کی منظوری اور ادائیگی کے قواعد میں تفصیلی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
  • اب تک، وزارتیں/محکمے حکومت کی طرف سے مشتہر کردہ قواعد کا حوالہ دینے کے لیے سوامی کی اشاعتوں پر منحصر تھے۔ پہلی بار، محکمہ نے سنٹرل سول سروسز (پینشن) رولز، 2021 پر اپنا ایک کتابچہ جاری کیا ہے۔

3- بھوشیہ (ڈی او پی پی ڈبلیو کی طرف سے تیار کردہ پنشن کی منظوری اور ادائیگی کے لیے ایک آن لائن ٹریکنگ سسٹم) سے متعلقہ اصلاحات

  • بھوشیہ‘ پلیٹ فارم، جو ایک مربوط آن لائن پنشن پروسیسنگ سسٹم ہے، کو مرکزی حکومت کے تمام محکموں کے لیے یکم جنوری 2017 سےلازمی قرار دیا گیا تھا۔
  • یہ نظام اس وقت 812 منسلک دفاتر سمیت 96 وزارتوں/محکموں کے مرکزی سیکرٹریٹ میں کامیابی کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔ آج تک کل 1,34,856 کیسز پر کارروائی کی جا چکی ہے۔ جاری کیے گئے یعنی پی پی اوز جن میں 55,000 سے زیادہ ای پی پی اوز شامل ہیں۔
  • بھوشیہ’ سسٹم کو اب ایک موبائل ایپ پر دستیاب کر دیا گیا ہے، اس طرح یہ آسان بنا دیا گیا ہے خاص طور پر ان پیرا ملٹری فورسز کے لیے جو اپنے پنشن کے معاملات پر نظر رکھنے کے لیے میدانوں میں ہیں۔
  • بھوشیہ 8.0 اگست 2020 میں اس نئی خصوصیت کے ساتھ ڈیجی لاکر میں  ای پی پی او کو داخل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ بھوشیہ، ڈیجی لاکرآئی ڈی پرمبنی ڈیجی لاکر کی پش ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی پہلی ایپلی کیشن ہے۔
  • بووشیہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ای-پی پی او حاصل کرنے کے لیے اپنے ڈیجی لاکر اکاؤنٹ کو "بھوشیہ" کے ساتھ لنک کرنے کا اختیار فراہم کرتا ہے۔ اس اقدام نے ڈیجی لاکر میں پنشنرز کے پی پی او کے لئے بربادی سے محفوظ ایک مستقل ریکارڈ بنایا ہے اور نئے پنشنرز کو پی پی او بھیجنے میں تاخیر کے ساتھ ساتھ فزیکل کاپی حوالے کرنے کی ضرورت کو بھی ختم کردیا ہے۔

 4-  معمرافراد کو سہارا د ینے سے متعلق کامیابیاں

  • معذوری کا شکار بچہ پہلے فیملی پنشن کا اہل ہوتا تھا صرف اس صورت میں جب اس کی/اس کی آمدنی، فیملی پنشن کے علاوہ دیگر ذرائع سے، کم از کم فیملی پنشن (یعنی 9000/- روپے) ماہانہ سے کم ہو اور اس پر قابل قبول مہنگائی میں رعایت ہو۔ جس کی وجہ سے معذوری کا شکار بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ معذوری کا شکار بچے کی خصوصی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، 8.2.2021 کو احکامات جاری کیے گئے تھے کہ ایک فوت شدہ سرکاری ملازم/پنشنر کا بچہ، ذہنی یا جسمانی معذوری کا شکار، تاحیات فیملی پنشن کا اہل ہو گا، بشرطیکہ اس کی فیملی پنشن کے علاوہ دیگر ذرائع سے اس کی مجموعی آمدنی عام شرح پر منظورشدہ فیملی پنشن سے کم ہو اورمہنگائی میں رعایت قابل قبول ہو، جو متعلقہ سرکاری ملازم/پنشنر کی موت پر قابل ادائیگی ہے۔ اس التزام کو سنٹرل سول سروسز (پینشن) رولز 2021 میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
  • اگر کسی ملازم کو ڈیوٹی کی انجام دہی کے دوران کسی چوٹ یا بیماری کی وجہ سے معذوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس معذوری کے باوجود اسے سرکاری ملازمت میں برقرار رکھا جاتا ہے تو اسے معذوری پنشن کے معذوری عنصر کے بدلے یکمشت معاوضہ دیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ فائدہ این پی ایس ملازمین کے لیے دستیاب نہیں تھا۔او ایم یکم جنوری 2021 کے ذریعہ  این پی ایس ملازمین کو بھی یکمشت معاوضے کا فائدہ دینے کے لیے احکامات جاری کیے گئے ہیں،اس صورت میں کہ وہ ڈیوٹی کی کارکردگی میں معذوری کا شکار ہوتے ہیں اور ایسی معذوری کے باوجود سرکاری ملازمت میں برقرار رہتے ہیں۔

5- سی پی  ای این جی آر اے ایم ایس (پنشن سے متعلق  شکایات کے ازالے اور نگرانی کا مرکزی  نظام) متعلقہ حصولیابیاں:

  • پنشن یافتگان کے لیے 20 جون2019 کو ایک مربوط شکایتی سیل اور کال سینٹر کا افتتاح کیا گیا تھا تاکہ وہ ٹول فری نمبر 1800-11-1960 پر کال کرکے اپنی شکایات درج کراسکیں۔
  • اس محکمے نے تمام وزارتوں/محکموں کو ایک ایڈوائزری جاری کی ہے کہ وہ ایک جوابدہی کا طریقہ کار وضع کریں اور  او ایم مورخہ6 اگست 2021 کے ذریعے مناسب معیار کی کارروائی کے بغیر شکایات کو مختصر طور پر نمٹانے کے لیے جوابدہ بنائیں۔ اس سلسلے میں تفصیلی رہنما خطوط پر او ایم  مورخہ 6  اگست 2021 کے ذریعے دوبارہ زور دیا گیا ہے۔
  • جنوری 2021 سے دسمبر 2021 تک طویل عرصے سے زیر التوا شکایات کے حوالے سے تقریباً 35 محکموں کے ساتھ 7 ورچوئل میٹنگیں  ہو چکی ہیں۔ طویل عرصے سے زیر التواء شکایات کی سال کے لحاظ  سے  کیفیت درج ذیل ہے:

6. اصلاحات سے متعلق ڈیجیٹل پنشن عدالت

  • محکمہ کی پہلی پنشن عدالت 20 ستمبر 2017 کو منعقد ہوئی۔ عدالت میں اٹھائی گئی 29 شکایات میں سے 26 کا ازالہ کیا گیا۔
  • دوسری پنشن  عدالت 9 فروری 2018 کو منعقد کی گئی۔ عدالت میں اٹھائی گئی 34 شکایات میں سے 30 کو حل کیا گیا۔
  • کُل ہندپنشن عدالت - 2018: 18 ستمبر 2018 کو کُل ہند پنشن عدالت کا انعقاد کیا گیا، جس  کے تحت تمام ملک بھر کی وزارتوں/ محکموں بشمول تمام مرکزی مسلح  پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے ساتھ ساتھ غیر سول وزارتوں دفاع، ریلویز، ٹیلی کام اور ڈاک میں  پنشن عدالتیں قائم کی گئیں۔ ریاستوں کے چیف سکریٹریوں سے بھی کہا گیا کہ وہ آل انڈیا سروس پنشنرز کے لیے عدالتیں منعقد کریں، جو اس وزارت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ موصول ہونے والی رپورٹوں سے ان پنشن عدالتوں میں 12,849 کیسوں کے ازالے کے لیے کارروائی کی گئی۔ مرکزی حکومت کی وزارتوں / محکموں / تنظیموں سے متعلق 9,368 (73 فیصد) شکایات کو حل کیا گیا۔ اس کے علاوہ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے بھی آل انڈیا سروس کے ریٹائرڈ افسران کے لیے پنشن عدالت کا انعقاد کیا، جس کے دوران اسی دن 1614 شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ یہ ملک میں اب تک کی گئی سب سے بڑی پنشنر شکایت کے حل کی مشقوں میں سے ایک تھی۔
  • 23 اگست  2019 کو پنشن اور پنشن یافتگان  کی فلاح وبہبود کے محکمے (ڈی او پی پی ڈبلیو) کی طرف سے ملک بھر کی مختلف وزارتوں اور محکموں میں کُل ہند پنشن عدالت کا انعقاد کیا گیا۔ ایک دن میں تقریباً 4000 پنشن یافتگان کے کیسز نمٹائے گئے۔

پنشن اور پنشن یافتگان  کی فلاح وبہبود کے محکمے نے پہلی بار دہلی کے باہر، جموں میں 29 فروری 2020 کو ایک علاقائی پنشن عدالت کا انعقاد کیا۔ مرکزی حکومت کے مختلف محکموں بشمول مرکزی مسلح پولیس فورس (سی اے پی ایف)  کے پنشن یافتگان  سے متعلق  شارٹ لسٹ کیے گئے 342 کیسوں میں سے 320 کیسز کو موجودہ قوانین کے مطابق نمٹایا گیا۔

  • ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دسمبر 2020/جنوری 2021 میں اب تک کی پہلی آن لائن کُل ہند پنشن عدالت کا انعقاد کیا گیا۔ اٹھائے گئے 3643 معاملات  میں سے 2540 معاملات کو مختلف وزارتوں/محکموں نے موقع پر ہی حل کیا، جنہوں نے اس اقدام میں حصہ لیا۔

7-     طریقہ کار اصلاحات سے متعلق حصولیابیاں:

  • تمام معاملات میں ریٹائرمنٹ کے واجبات کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے، 9 مارچ  2021 کو سی سی ایس (پنشن) ضابطوں  کے تحت مقرر کردہ وقت کے اندرسختی سے عمل کرنے، پنشن کیسز کی کارروائی کے لیے اور پنشن یافتگان کو  پی پی او کی کاپی اُن کے حوالے کرنے کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
  • مزید ہدایات 3جون  2021 کو بینک کے ذریعے باقاعدہ فیملی پنشن کی تقسیم، سرکاری ملازم کی موت پر خاندان کے دیگر حقداروں کی ادائیگی اور فیملی پنشن کے لیے پی پی او کو یقینی بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر بیک وقت کارروائی کرنے کے لیے جاری کی گئی ہیں۔ تاکہ خاندانی پنشن کے دعوے کی وصولی کے ایک ماہ بعد بینک کی طرف سے باقاعدہ فیملی پنشن جاری اور تقسیم کرنا شروع کر دیا جائے۔
  • 16جون  2021 کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ دستاویزات/تفصیلات سامنے لائیں جو کہ شریک حیات/خاندان کے رکن، جن کا نام متوفی پنشنر کو جاری کردہ پی پی او میں شامل ہے، کے ذریعے بینک میں جمع کرانا ضروری ہے۔ پنشن تقسیم کرنے والے بینکوں کے چیف مینجنگ  ڈائریکٹر/سی پی پی سی کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فیملی پنشن کے لیے درخواست دہندگان سے صرف کم از کم ضروری تفصیلات/دستاویزات حاصل کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ غیر ضروری تفصیلات اور دستاویزات جیسے خاندان کے ممبران (درخواست دہندہ کے علاوہ) کی تفصیلات طلب کرکے انہیں کسی قسم کی ہراسانی کا نشانہ نہ بنایا جائے، جو بینک کی طرف سے فیملی پنشن کے آغاز کے لیے مجاز نہیں ہیں۔

8-  قومی  پنشن نظام (این پی ایس)

  • قومی پنشن نظام (این پی ایس)، ایک تعاون پر مبنی پنشن سکیم ہے جس کو اقتصادی امور کے محکمے  کے ایک نوٹیفکیشن مورخہ: 22 دسمبر  2003 کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا۔  یکم جنوری  2004 کو یا اس کے بعد جوائن کرنے والے سرکاری ملازمین کا  لازمی طور پر نئی سکیم کے تحت احاطہ کیا گیا ہے۔ تاہم این پی ایس ملازمین کے سروس کے معاملات سے متعلق قواعد وضوابط موجود نہیں تھے۔ پنشن  کے سکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر، 30 مارچ  2021 کو سی سی ایس  (قومی پنشن نظام کا نفاذ) ضابطے  2021 کو نوٹیفائی کر دیا گیا ہے۔ یہ ضابطے  این پی ایس کے تحت ملازمین کی رجسٹریشن، مالیاتی  تعاون کی شرح، تاخیر شدہ  تعاون کے قرض پر سود کی ادائیگی،  ملامین کی سبکدوشی /  اخراج پر  کارروائی ، اخلاقی معاملات میں کارروائی، صحت یا معذوری کی صورت میں پنشن کی پرانی اسکیم کے اطلاق  وغیرہ کے لیے طریقہ کار اور ٹائم لائن فراہم کرتے ہیں۔
  • پنشن اور پنشن یافتگان  کی فلاح وبہبود کے محکمے  (ڈی او پی پی  ڈبلیو) نے  24  ستمبر 2021  کو  قومی پنشن  اسکیم (این پی ایس)  کے تحت  احاطہ کئے گئے  مرکزی حکومت کے ملازمین  کے  لئے  ریٹائرمنٹ گریجوٹی  اور  فوت  کی گریجوٹی  کو منضبط کرنے کے لئے سینٹرل سول سروسز ( این پی ایس کے تحت  گریجوٹی کی ادائیگی) قواعد وضوابط 2021  کو نوٹیفائی کیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح۔ س ب،م ع۔ ف ر،ق ر

U-15012



(Release ID: 1786551) Visitor Counter : 807