الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت

آزادی کا ڈیجیٹل مہوتسو


"زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کرنے اور ہندوستان کی ثقافت کو پھیلانے کے لیےمائی گو پلیٹ فارم کو عالمی سطح پر وسعت دینے کی ضرورت ہے": وزیر مملکت برائے ثقافت میناکشی لیکھی

وزیر مملکت برائے ثقافت محترمہ میناکشی لیکھی نے مائی گو ساتھیوں اور مائی گو چیلنجوں کے فاتحین کو مبارکباد پیش کی؛  ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے لیے ان  کی ستائش کی

مائی گو  اب صرف ایک ویب سائٹ نہیں ہے، یہ ایک 'عوامی شراکت' کا پلیٹ فارم بن گیا ہے: الیکٹرونکس اور اطلاعاتی ٹکنالوجی کے سیکریٹری جناب اجے پرکاش ساہنی


Posted On: 05 DEC 2021 3:43PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی۔ 04  دسمبر       جیسا کہ ملک آزادی کا امرت مہوتسو کے ساتھ آزادی کے 75 سال کا جشن منا رہا ہے، مائی گونے بھی آج ان شہریوں کی ستائش کی جنہوں نے مائی گو چیلنجوں میں فعال طور پر حصہ لیا، اپنے لوگو کےآئیڈیا کا اشتراک کیا، اور پالیسیوں اور پروگراموں کی تشکیل میں حکومت کی مدد کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001SFBZ.jpg

وزیر مملکت برائے ثقافت، محترمہ میناکشی لیکھی نے  الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت میں سکریٹری جناب اجے ساہنی، این ای جی ڈی اور مائی گو کے صدر اور سی ای او  جناب ابھیشیک سنگھ اور الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری جناب امیتیش کمار سنہا کے ساتھ مائی گو چیلنج کے کے فاتحین کو اعزاز سے نوازا ۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے دو مہینے بعد  26 جولائی 2014 کو حکومت ہند کے شہریوں کے ساتھ  رابطے کے اہم آن لائن پلیٹ فارم کے طور پر مائی گو پلیٹ فارم کا آغاز کیا تھاجو متعدد سرکاری اداروں/ وزارتوں کی پالیسی وضع کرنے نیز عوامی دلچسپی اور فلاح و بہبود کے مسائل/موضوعات پر لوگوں کی رائے جاننے کے لیے شہریوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے میں تعاون کرتا ہے۔

جیسا کہ وزیر اعظم نے 15 اگست 2015 کو لال قلعہ سے اپنی تقریر سمیت اپنی کئی تقریروں  میں کہا تھا ، مائی گو کا مقصد 'عوامی شراکت داری یا شراکتی حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔

مائی گو گروپ ڈسکشن، اوپن فورم ڈسکشن، ٹاسک، انتخابات ، بلاگ، مقابلے، مباحثے، اور دیگر باقاعدہ فیچروں  کے ذریعہ، شہریوں کو قومی سطح پر پالیسی سازی میں سرگرم شراکت کا اختیار دیتا ہے۔

سال 2015-16 اور 2016-17میں عام بجٹ اور ریل بجٹ  دونوں کے لیے متعدد پالیسی ساز خیالات اور تجاویز مائی گو کے ذریعہ  حاصل کیے گئے ہیں اور اس طرح کے بہت سے خیالات کو بھی نافذ العمل کیا گیا ہے۔ مائی گو پر دیگر نمایاں بات چیت میں اسمارٹ سٹی مشن کے لیے شہریوں کی اچھی شراکت  رہی ، جس میں تقریباً 2.5 ملین افراد نے شرکت کی۔ نئی تعلیمی پالیسی وضع کرنے اور اور نیٹ نیوٹرلیٹی پر بھی مائی گو پلیٹ فارم پر شہریوں کی شراکت داری رہی ۔

سوچھ بھارت، 100 کروڑ ٹیکہ کاری ،  ڈیجیٹل انڈیا مہم، اور قومی تعلیمی پالیسی  جیسے نمایاں قومی پروگراموں جیسے کے لوگو اور نعرے بھی مائی گو پلیٹ فارم سے لیے گئے تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002QOWC.jpg

سوچھ بھارت لوگو کے لیے، وزیر مملکت برائے ثقافت، محترمہ میناکشی لیکھی نے 4 دسمبر 2021 کو آزادی کا ڈیجیٹل مہوتسو کے دوران اننت گوپال خاصبردار کو اعزاز سے نوازا۔ اسی طرح، انہوں نے '100 کروڑ ٹیکہ کاری لوگو' کے لیے یاسین ہارون سدیسرا ، 'لوک پال' کے لیے پرشانت مشرا ، 'بانس مشن لوگو' کے لیے سائی رام گوڑ ایدی جی، اور 'ڈیجیٹل انڈیا' کے لوگو کے لیے رانا بھومک کی ستائش کی۔

مائی گو 'ساتھی(معاونین) جنہوں نے کووڈ-19 وبائی مرض کے دوران بھی مائی گو میں فعال طور پر تعاون کیا، انہیں بھی وزیر مملکت برائے ثقافت، محترمہ میناکشی لیکھی نے اعزاز سے نوازا۔ جیتنے والوں تلنگانہ میں جگیتال سے، ناگرجو، اندور سے انوپ مشرا، ناسک سے رشی کیش راجندر اوگالے، رائے گنج سے سنجے سرکار، اور چنئی سے سوتھاہر پی شامل ہیں۔

دیگر زمروں میں، پیرلین انوگرہ  اور رگھورام بلرامن نے زوہو ایپ انوویشن چیلنج، جیا پراشر اور شیوی کپل نے شری شکتی چیلنج  اور انورادھا اگروال، پریتش چوتھانی اور سوربھ نائک  نے  انڈین لینگویج ایپ انوویشن چیلنج جیتا۔

امیت شرما اور ارونا کماری نے ای ویسٹ مینجمنٹ میں انوویشن چیلنج جیتا۔ ڈاکٹر کالی راجن راجا گوپال نے ڈرگ ڈسکوری ہیکاتھون جیتا۔آکرت ویش نے ہاپتک فارم مائی گو  وہاٹس ایپ چیٹ بوٹ، کو کی اپرمایا رادھا کرشنن اور کوپ اوور کے انکوش سبروال نے مائی گو ایپ انوویشن چیلنج ، امیت کوٹھی والا نے 'عوامی شراکت داری' انوویشن چیلنج جیتا اور یاشیکا بیگ وانی کو پوڈ کاسٹ کے لیے اعزاز سے نوازا گیا ۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003Y41C.jpg

وزیر مملکت برائے ثقافت، محترمہ میناکشی لیکھی نے تمام جیتنے والوں کی ستائش کی اور مائی گو کی ان کوششوں کی بھی تعریف کی جس کے ذریعہ حکومت ہند اور ملک کے شہری ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا"اس پلیٹ فارم کے آغاز کے ذریعہ ہم بہت سے لوگوں تک پہنچنے کے اہل ہیں۔ یہاں جن لوگوں کو نوازا گیا ہے ان میں سے زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو رضاکارانہ طور پر معاشرے کی خدمت کے لیے آگے آئے ہیں۔"

محترمہ میناکشی لیکھی نے کہا ، "مائی گو پلیٹ فارم کو مزید استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو پالیسی سازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے، حکومت کو مشورہ دینے اور مزید نئے خیالات پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم جمہوریت میں رہتے ہیں تو ہمیں بات چیت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس لیے  حکومت کو شہریوں تک پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے اور لوگوں کو بھی اپنے تاثرات بتانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا  کہ ہندوستان کی وسیع ثقافت کو مشتہر کرنا حکومت اور ملک کے شہریوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا ، " کووڈ نے ہمیں دکھایا ہے کہ ہم کیا کرنے کے اہل ہیں اور یہ ہمارے اخلاق کو بلند رکھتا ہے ۔ ہم کھانے کی تقسیم اور کسی بھی دوسرے ممکنہ ذرائع سے ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں ۔ آزادی کا امرت مہوتسو آزادی کا ڈیجیٹل مہوتسو کے بغیر نامکمل ہے کیونکہ جب میں اپنے ملک کے کسی بھی کونے کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں تو میرے لیے ڈیجیٹل طریقہ ہی ایک واحد طریقہ ہے اور مائی گو وہ معلومات فراہم کرنے کے لیے حاضر ہے۔"

محترمہ میناکشی لیکھی نے این ای جی ڈی اور مائی گو کے صدر اور سی ای او جناب ابھیشیک سنگھ کو مائی گو پلیٹ فارم کو عالمی بنانے کے لیے بھی کہا جس پر انہوں نے کہا کہ مائی گو نے پہلے ہی 14 ریاستوں، یعنی ہماچل پردیش، ہریانہ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اروناچل پردیش، آسام، منی پور، تریپورہ، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، ناگالینڈ، اتراکھنڈ، گوا اور تمل ناڈو میں ریاستی  ورژن لانچ کیے ہیں اور اب یہ پلیٹ فارم کا عالمی ورژن لانچ کرے گا۔

اس موقع پر، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے سکریٹری جناب اجے ساہنی نے جیتنے والوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور مائی گو کو موصول ہونے والے لوگو پر حیرت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا  " جس قسم کی تخلیقی صلاحیتوں کو ہم مائی گو کے ارد گرد دیکھتے ہیں وہ دل کو چھونے والی ہے اور جب بھی ہم اس تک پہنچتے ہیں، ہمیں ایسے شاندار خیالات ملتے ہیں۔ جب بھی ہمیں کوئی اچھا آئیڈیا یا لوگو ملتا ہے، ہم اسے بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اسے وزیر اعظم تک لے جاتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ جب حکومت کسی بھی پروگرام کو چلانا چاہتی ہے، توہم اسے مائی گو کے ذریعہ شیئر کرتے ہیں اور کئی بار، ہم پروگرام کے خاکہ کو حتمی شکل دینے کے لیے موصول ہونے والے خیالات کا استعمال کرتے ہیں"۔

جناب  اجے ساہنی نے کووڈ-19 وبائی مرض کے دوران مائی گو کے ذریعہ کئے گئے کام کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اس پلیٹ فارم نے ہمیشہ  درست معلومات فراہم کیں اور ایسے وقت میں مثبتیت پھیلائی جب لوگوں کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔

جناب ساہنی نے کہا "کووڈ کے دوران، مائی گو نے ایک حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا ہے -  خواہ وہ ماسک کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہو، یا پروموشنل ویڈیوز بنانا ہو۔ کووڈ کے دوران، لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہر کوئی تھوڑا سا افسردہ تھا اور اس عرصے کے دوران مائی گو نے پلیٹ فارم پر آنے والے بڑے فنکاروں کے ساتھ ایک مثبت ہم آہنگی پیدا کی اور اپنی موسیقی کی پیش  کی۔ لہٰذا، نہ صرف ریاستی اور مرکزی حکومت کے پروگرام بلکہ لوگوں نے بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو معاشرے کے ساتھ شیئر کیا ۔ مائی گو اب صرف ایک ویب سائٹ نہیں ہے، یہ ایک 'عوامی شراکت داری ' کا پلیٹ فارم بن گیا ہے۔''   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ش ح ۔ رض  ۔ ج ا  (

U-13772



(Release ID: 1778361) Visitor Counter : 200