کامرس اور صنعت کی وزارتہ

آزادی کے امرت مہوتسوتقریبات کے حصے کے طور پر ،زرعی اور ڈبہ بند خوراک کی مصنوعات کی برآمداتی ترقیاتی اتھارٹی ، اے پی ای ڈی اے ،نے باسمتی کی کاشت والی 7 ریاستوں میں، کسانوں کے لئے، 75آگاہی نیز تربیتی پروگرام منعقدکئے

Posted On: 10 NOV 2021 2:30PM by PIB Delhi

مہکدار اور خوشبودار لمبے باسمتی چاول کی  معیاری پیداوار کی برآمدات کو  بہتر بنانے کے لئے،  زرعی اور ڈبہ بند خوراک  کی مصنوعات کی  برآمداتی ترقیاتی اتھارٹی ، (اے پی ای ڈی اے) کی شاخ  باسمتی  برآمداتی ترقیاتی فاؤنڈیشن ( بی ای ڈی ایف ) نے کلیدی  پیداواری خطوںمیں باسمتی چاول کی کاشت میں مصروف کسانوں کو  اچھے زرعی عوامل اختیار کرنے کے بارے میں   حساس  بنانے کی غرض  سے اختراعی اقد امات  کئے ہیں ۔

ان اقدامات کے ایک حصے کے طورپر بی ای ڈی ایف  نے  پنجاب ، ہریانہ ، اترپردیش ، اتراکھنڈ ،  ہماچل پردیش ، جموں اور کشمیر اور دلی   کی چاول برآمد کرنے والی ایسوسی ایشنوں کے ساتھ تعاون سے آگاہی اورتربیت کے 75 پروگرام منعقد کئے ، جس کا مقصد 7 ریاستوں میں اعلیٰ معیاری باسمتی  چاول اگانے کے لئے کسانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ بی ای ڈی ایف  ، باسمتی  چاول کی کاشت والے علاقوں میں  مختلف ایف پی اوز  ، برآمد کاروں کی تنظیموں  وغیرہ کے لئے  تکنیکی ساجھیدار کے طور بھی ملوث ہے۔

بی ای ڈی ایف   نے آزادی کے امرت مہوتسو کے ایک حصے کے طورپر اترپردیش کے ضلع گوتم بدھ نگر کے  جہانگیر پور گاؤں سے 16 جولائی  2021  کو  آگاہی اور تربیت کی  ورکشاپ کا آغاز  کیا تھا ، جو کہ  ہندوستان کی  آزادی  کی 75سالہ تقریبات   کو منانے کے لئے  حکومت ہند کا ایک اقدام ہے۔آگاہی کی یہ مہمیں   کسانوں کے لئے  ‘ جراثیم کش  ادویہ کا منصفانہ استعمال اور  اچھے زرعی عوامل کو اختیار کرنے  ’  کے موضوع  پر  توجہ مرکوز  کرنے کے لئے  منعقد کی گئی تھی ۔

آگاہی کی مہموں کا ایک اور مقصد ، بہتر معیار کے بیجوں کی عدم دستیابی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے  بیجوں کی پیداوار کے لئے کسانوں کو تربیت فراہم کرنا تھا۔

ورکشاپ میں  کسانوں کو  کیڑو ں مکوڑوں    کی شناخت  کرنے اور باسمتی چاو ل کی بیماریوں  نیز ان کے انتظامیہ   کے بارے میں مختلف  طورطریقوں کی تربیت فراہم کی گئی تھی۔2021 کے باسمتی اگانے کے مکمل سیزن کے دوران  آگاہی کی مہم میں   ، باسمتی کی برآمد   اور چاول کی صنعت کی توقعات کو بھی اگانے والوں  اور برآمد کاروں  کے علم میں لایا گیا۔

اے پی ڈی اے نے ، ہندوستان – گنگا کے میدانی علاقوں  میں   اگائے گئے باسمتی چاول کے   واحد  نگراں   کے طورپر جغرافیائی   اشاریہ  (جی آئی ) کا ٹیگ دیا ہے۔ فروری میں جاری جی آئی سرٹفکیشن  کے تحت 7 ریاستوں  یعنی  پنجاب ، ہریانہ ،مغربی اترپردیش ، اتراکھنڈ ، دہلی اورجموں وکشمیر  کے  77 اضلاع  کو  باسمتی چاول اگانے والے خطہ قراردیا گیا ہے۔

بی ای ڈی ایف  کے ذریعہ آگاہی کی مہم کے دوران  سائنسدانوں نےمقامی زبانوں  میں  ،   کسانوں  اوربرآمدکاروں کو باسمتی چاول کی برآمد میں   جراثیم لگنے کے مسئلے  اور  نرسری تیار کرنے  ،  مربوط تغذیہ  اور  آبی انتظامیہ سمیت  پیداواری تکنالوجی کی منتقلی کے بارے میں    تفصیلات  فراہم کیں۔

بہت بڑی تعداد میں کسان،   برآمد کار،  ایف پی  اوز  وغیرہ   جراثیم کش   دواؤں کے منصفانہ استعمال اور  اچھے زرعی عوامل کو اختیار کرنے  کے بارے میں سیکھنے کے لئے ورکشاپ  پہنچے ،جن کا انعقاد 7 ریاستوں  میں 75  مختلف مقامات  پر  کیا گیا تھا۔

پنجاب میں  آگاہی  اورتربیت کے 25  پروگرام منعقد کئے گئے ،جس کے بعد اترپردیش میں   21 ،  ہریانہ میں  17،  اتراکھنڈ میں  5 ، جموںوکشمیر میں  3 اور ہماچل پردیش  نیز دہلی میں  ایک ایک پروگرام کا انعقادکیا  گیا۔

آگاہی وضع کرنے کے پروگرام کے ذریعہ کسانوں کو مطلع کیا گیا کہ باسمتی چاول کی کاشت  کرنا ایک ہندوستانی روایت ہے اور اس روایت کو برقرار رکھنا ایک اجتماعی ذمہ داری ہے کیونکہ عالمی منڈی میں  باسمتی چاول کی  بہت ہی زیادہ مانگ ہے ۔ کسانوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ  ریاستی زرعی محکمے کے ذریعہ  basmati.net پر  اپنااندراج کرائیں۔

اے پی ای ڈی اے  ،  بی ای ڈی ایف کے ذریعہ   سرکاری ریاستو ں کی  باسمتی چاول کی کاشت کی فروخت میں مدد کررہی ہے۔ اے پی ای ڈی اے نے  کسانوں کے ذریعہ مصنوعات کے معیار کو برقراررکھنے کے لئے تصدیق شدہ  بیجوں کے استعمال کی تجویز بھی دی ہے ۔ اس کے علاوہ  باسمتی چاول کی معیاری پیداوار کو یقینی بنانے کے لئے کیمیاوی کھاد کا سائنسی   استعمال  کرنے کی بھی تجویز دی گئی  ہے ۔ اس سے  ملک سے باسمتی چاول کی برآمد ات کو مزید جِلا ء ملے گی۔

ہندوستان نے،  21-2020  میں  29849 کروڑروپے ( 4019 ملین امریکی ڈالر )  کی مالیت کا 4.63 ملین ٹن  باسمتی چاول   برآمدکیا ۔ ہندوستان کے باسمتی چاول کے لئے کلیدی منازل میں   سعودی عرب ، ایران ، عراق ، یمن جمہوریہ  ، متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین کے ممالک شامل ہیں۔

اے پی ای ڈی اے  اقداری سلسلوں  میں  مختلف شراکتداروں کے ساتھ تال میل کے ذریعہ  چاول کی برآمدات   کو فروغ دے رہا  ہے۔  حکومت نے   چاول کی برآمدات  کی فروغ  کا فورم   (آر ای پی ایف ) قائم کیا ہے ، جو کہ اے پی ای ڈی اے کے  زیر سرپرستی ہے ۔ آر ای پی ایف میں ،  چاول کی صنعت ،  برآمد کاروں،   اے پی ای ڈی اے   ،  کامرس کی وزارت   کے حکام   اور  چاول  پیداکرنے والی اہم  ریاستوں  سے زراعت کے ڈائریکٹروں    میں  سے نمائندگان  شامل ہیں۔ا ن ریاستو ں میں  مغربی بنگال ،اترپردیش ، پنجاب ، ہریانہ   ،تلنگانہ ، آندھرا پردیش ، آسام ، چھتیس گڑھ  اور اوڈیشہ کی ریاستیں شامل ہیں۔

 

*************

ش ح۔ اع۔رم

U-12696



(Release ID: 1770881) Visitor Counter : 42