صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

ڈاکٹربھارتی پروین پوار نے، 2025 تک تپ دق کے خاتمے کی حکمت عملیوں سے متعلق،

سرگرم تبادلہ خیال کے اجلاس کی صدارت کی

ہمیں اپنے طریقہ کار میں تیزی لانے کی ضرورت ہے اور کووڈ-19 کے باعث ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے کے لئے اختراعی حل تلاش کرنے ہیں اور آگے بڑھنا ہے: ڈاکٹر بھارتی پروین پوار

‘‘ ہمارا مقصد ، مختلف شراکت داروں کی شمولیت کے ذریعہ، تپ دق کی دیکھ بھال میں توسیع کرکے، تپ دق کے نئے معاملات کی جلد شناخت کرنا اور انہیں روکنا ہے’’

Posted On: 10 NOV 2021 1:28PM by PIB Delhi

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت  ڈاکٹر  بھارتی پروین نے آج ،  2025  تک تپ دق  کے خاتمے کے حکمت عملیوں سے متعلق سرگرم تبادلہ خیال کے  اجلاس کی صدارت کی۔

وزیراعظم  جناب نریندر مودی کے  2025  تک ہندوستان میں  تپ دق کے مکمل خاتمے کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے  ، ایس ڈی جی  اہداف   سے 5سال قبل ہی  ،  ڈاکٹر پوار نے کہا‘‘ ہمارے  پاس  ملک میں  تپ دق  کوختم کرنے کے لئے آخری   حد سے قبل اس وقت محض 37  مہینے ہیں ۔ہمیں  اپنے  طریقہ کار میں تیزی لانے کی ضرورت ہے اور کووڈ-19 کے باعث  ہونے والے نقصانات کو پورا  کرنے کے لئے اختراعی حل تلاش کرنے  ہیں اور آگے بڑھنا ہے۔

 

 

 

تپ دق  کوجڑ سے ختم کرنے کے تئیں  ہندوستان کے  عہدکو  اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت نے کہا ‘‘ وبا کے  باوجود  ہم نے مفت  ریپڈ مولیکیولر  تشخیص اور علاج   تک رسائی  کو بہتر بنایا ہے ۔  تپ دق کے مریضوںکو  مالی اور تغذیائی معاونت   مسلسل جاری رہی ہے ۔ ٹی بی کو جڑ سے ختم کرنے کے قومی پروگرام کے ذریعہ کی گئی کاوشو ں کی وجہ سے  تشخیص  کرنے  ،  علاج   کرنے اور  ماحصل   وقت پر حاصل کرنے میں نمایاں  پیش رفت ہوئی ہے ۔ چونکہ باقاعدہ تشخیص اور ضرورت کے  لئے فوری علاج   ،تپ دق  کے خاتمے کے لئے   کلیدی حیثیت کے حامل ہیں، اسی لئے یہ پروگرام ملک  میں  ہمہ گیر  تپ دق کی دیکھ بھال  کا احاطہ  اور  احتیاطی خدمات  میں اضافہ کرنے  کے تئیں کام کررہا ہے۔ ٹی بی کے خاتمے  کے لئے قومی جامع منصوبے میں  ‘‘ روک تھام ’’  کے  زمرے کے تحت   تپ دق کی روک تھام  کے علاج  کو ترجیح دی گئی ہے ۔  تپ دق  کے روک تھام کے علاج   میں  تیزی لاکر   اور اسی کے ساتھ ساتھ   خدما ت کو   مریض  کے  قریب تر دستیاب کرانے کی غرض سے اسے غیر مرکوزکرنا  ،   ترسیل کے سلسلے کو  توڑنے  اور  ان افراد کو  ، جو تپ دق سے متاثر ہیں ، انہیں  تپ دق سے مکمل طور پر متاثر ہونے سے روکنے کے لئے،  انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ’’

تپ دق کےخاتمے  کے لئے مرکزی سرکار  کی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا‘‘  اب تپ دق کو   جامع بنیادی صحت  دیکھ بھال کا ایک لازمی  جزو بنادیا گیا ہے اور اسے  آیوشمان بھارت اسکیم کے ساتھ مربوط کردیا گیا ہے۔  ہمارا مقصد، برادری سمیت   مختلف شراکت داروں کی  شمولیت کے ذریعہ ، معاملات کو اوائلی دور میں ہی شناخت کرنا  اور تپ دق کے  نئے کیسوں میں  اضافے کو روکنا ہے ۔اس سلسلے میں ملک گیر  تپ د ق  مکت بھارت ابھیان  کی شروعات کی گئی ہے۔’’ تپ دق  سے  بچاؤ کی نئی ترین  ادویہ ،  نئے  پرہیز  اور پروگراموں   کا تعارف بیان کرتے ہوئے  ڈاکٹر بھارتی پروین پوار نے   ٹی بی کے خلاف جدوجہد کے لئے تحقیق اور ترقیاتی  کاوشوں کی ستائش کی ۔

اس  اجلاس میں 5 ستونوں  پر توجہ مرکوز کی گئی ،جس میں  معاملے کی  شناخت  کو  بہتر بنانا  ،  علاج معالجے   میں بہتری  لانا،   دیگر سماجی بہبود کے پروگراموں  کے ساتھ  مربوط  ہونے کے  طور طریقے وضع کرنا ،   نجی شعبے   کی  شمولیت   سے  فائدہ اٹھانا اور حتمی طور پر ملک میں ٹی بی کے مکمل خاتمے   کے عمل کو تیز کرنے کے لئے  اپنے صحت نظام کے اندر  این ٹی  ای پی کو  مربوط کرنا شامل ہے۔

ایڈیشنل سکریٹری   (صحت ) اور  ( این ٹی ای پی ) کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ آر پی آہوجہ   ،  ڈی ڈی جی   تپ دق سی ٹی ڈی  ڈاکٹر سدرشن منڈل   ،  جوائنٹ ڈائریکٹر   (  تپ دق )  ڈاکٹر نشانت کمار ، جوائنٹ ڈائریکٹر  ( تپ دق )سی ٹی ڈی  ڈاکٹر سنجے کے مٹو  ،   جوائنٹ ڈائریکٹر  (تپ دق) ،سی ٹی ڈی  ڈاکٹر رگھورام راؤ  ایڈیشنل ڈی ڈی جی ( تپ دق ) ڈاکٹر آلوک ماتھر ،  سرکردہ ماہرین  ،  عوامی صحت کے ماہرین  اور سرکاری عہدے داران اس میٹنگ میں  شامل تھے۔

*************

ش ح۔ اع۔رم

U-12693



(Release ID: 1770488) Visitor Counter : 51