سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر  جتیندر سنگھ نے اروناچل پردیش کے دور افتادہ علاقے کیمن میں شمال مشرقی آدیواسیوں کے لیے ایک نئے بائیو ٹیکنالوجی سنٹر کا افتتاح کیا

’’حیاتیاتی وسائل اور پائیدار ترقی کا مرکز‘‘ ریاست میں آدیواسی لوگوں کی سماجی و اقتصادی حالت کو بہتر کرنے میں مدد کرے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

چار ضلعوں اور 50 سے زیادہ گاؤوں کا احاطہ کرنے والے بائیو ٹیک سنٹر سے اگلے 2 سالوں میں 10 ہزار سے زیادہ کسانوں کو فائدہ ہوگا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اروناچل پردیش میں بائیو ٹیکنالوجی میں ڈی بی ٹی کے ذریعے امداد یافتہ اسکل وگیان پروگرام کو بھی وقف کیا

لائف سائنس اور بائیو ٹیکنالوجی میں نوجوان گریجویٹس کے کریئر کی راہ ہموار کرنے اور صنعت کاری کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے خاص اسکل پروگرام: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

Posted On: 09 NOV 2021 2:26PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)؛ ارضیاتی سائنس کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)؛ وزیر اعظم کے دفتر کے وزیر مملکت، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلاء کے وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کیمن میں اروناچل پردیش کے دور افتادہ علاقے میں شمال مشرقی آدیواسیوں کے لیے ایک نئے بائیو ٹیکنالوجی سنٹر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ’’حیاتیاتی وسائل اور پائیدار ترقی کا مرکز‘‘ ریاست میں آدیواسی لوگوں کی سماجی و اقتصادی حالت کو بہتر کرنے میں بہت مدد کرے گا۔ بائیو ٹیکنالوجی محکمہ، سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت کے ذریعے امداد یافتہ ہے اور سنٹر کا مقصد بائیو ٹیکنالوجی آلات کا استعمال کرکے مقامی حیاتیاتی وسائل کا تحفظ اور پائیدار استعمال کرنا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/900R9T5.jpg

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، ’’جب سے نریندر مودی نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا ہے، انہوں نے بھارت کے شمال مشرقی علاقوں کی ترقی اور آدیواسیوں کے عروج کو بھی خاص ترجیح دی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ  گزشتہ سات سالوں میں زراعت، پن بجلی، بنیادی ڈھانچہ،  انفارمیشن اور کمیونی کیشن ٹیکنالوجی اور سیاحت جیسے شعبوں میں اہم قدم اٹھائے گئے ہیں۔ ساتھ ہی انٹیگریٹیڈ فوڈ پروسیسنگ  چین کی ترقی کے ذریعے ہنرمندی کے فروغ اور سرحد پار تجارت کے نئے راستے بنانے میں بھی اہم قدم اٹھائے گئے ہیں۔

وزیر موصوف نے یہ بھی نشان زد کیا کہ بائیو ٹیکنالوجی محکمہ نے علاقے کے لیے مخصوص مسائل کو دور کرنے اور مقامی برادریوں کی سماجی ترقی کے لیے پروگراموں کو نافذ کرنے کی خاطر بائیو ٹیکنالوجی ریسرچ کرنے کے لیے علاقے میں صلاحیت سازی میں ایک اہم رول ادا کیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002CHE8.jpg

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ’’حیاتیاتی وسائل اور پائیدار ترقی کا مرکز‘‘ نے ان پروگراموں کے مؤثر نفاذ کے لیے کئی آئی سی اے آر، سی ایس آئی آر اداروں کے ساتھ اکیڈمی سلسلے بھی قائم کیے ہیں کیوں کہ وہ اروناچل پردیش ریاست کے امکانی نوجوان صنعت کاروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔ ان پروگراموں کے نفاذ کے لیے سہولیات اروناچل پردیش کے 4 ضلعوں میں قائم کی جائیں گی، جس میں 50 سے زیادہ گاؤوں شامل ہوں گے اور اگلے 2 سالوں میں 10 ہزار سے زیادہ کسانوں کو فائدہ ہوگا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ یہ سنٹر علاقے کے فائدے کے لیے درج ذیل تین اہم پروگراموں کے نفاذ پر توجہ مرکوز کر رہا ہے- (1) کیمن میں بنیادی سنٹر میں جدید ترین آرکیڈیریئم، سیارچہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ترجیحات والی آرکیڈیریئم نسل کے تحفظ اور فروغ کے لیے اروناچل پردیش کے منتخب ضلعوں میں اکائیاں، (2) اروناچل پردیش کے منتخب ضلعوں میں کیلے سے فائبر نکالنے اور اس کی پروسیسنگ اکائیوں کا قیام، اور (3) خوشبودار فصلوں کی کھیتی اور صنعت کاری کی ترقی کے فروغ کے لیے اکائی کا قیام۔

وزیر موصوف نے بتایا کہ اس علاقے کی سائنسی ترقی کے لیے اروناچل پردیش کے پاپوم پارے ضلعمیں کیمن میں ’’حیاتیاتی وسائل اور پائیدار ترقی کا مرکز‘‘ قائم کیا گیا ہے۔ اسے اروناچل پردیش کی سائنس و ٹیکنالوجی کونسل، سائنس و ٹیکنالوجی محکمہ کے ذریعے حکومت ہند کے بائیو ٹیکنالوجی محکمہ کے تعاون سے بنایا گیا ہے۔ سنٹر کو 27 مارچ، 2018 کو شروع میں 3 سال کی مدت کے لیے کل 54.23 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی تھی۔ پروجیکٹ کی مدت اب 26 ستمبر، 2023 تک بڑھا دی گئی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پروگرام کے دوران ارونا چل پردیش ریاست کو بائیو ٹیکنالوجی میں ڈی بی ٹی فنڈیڈ اسکل وگیان پروگرام بھی وقف کیا۔ وزیر موصوف نے کہا، ’’یہ پروگرام اسکل انڈیا مشن کے دائرے میں ہے جس کے ذریعے ڈی بی ٹی اس پروگرام کو چلانے کے لیے ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) اور مختلف شراکت دار اداروں کی اسکل ڈیولپمنٹ کونسل کے ساتھ تال میل بیٹھاتا ہے۔‘‘

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0032IC2.jpg

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ یہ پروگرام اسکل وگیان کے ساتھ تال میل بنانے اور سرکار کی وگیان پہل میں تیزی لانے کی سمت میں مرکوز کوشش ہے۔ اس کا مقصد اہم ایس ٹی آئی ڈومین میں نوجوانوں کی صلاحیت سازی سمیت معیاری نوکری کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعت کاری کے فروغ کے لیے  لائف سائنس/بائیو ٹیکنالوجی میں نوجوان گریجویٹس کے لیے کریئر کی راہ کو ہموار کرنا ہے۔

اس پروگرام کے توسط سے چار الگ الگ قسم کے ٹریننگ پروگرام نافذ کیے جا رہے ہیں جن میں (1) اسٹوڈنٹ ٹریننگ پروگرام (ایس ٹی پی)، (2) ٹیکنیشین ٹریننگ پروگرام (ٹی ٹی پی)، (3) فیکلٹی ٹریننگ پروگرام (ایف ٹی پی)، اور (4) صنعت کاری ڈیولپمنٹ پروگرام (ای ڈی پی) شامل ہے۔

این ایس ڈی سی-ایم ایس ڈی ای کی تین الگ الگ اسکل ڈیولپمنٹ کونسل (ایس ڈی سی) ان ٹریننگ کے حصے کے طور پر ہیں اور مختلف پیٹرننگ اداروں کے ساتھ ساتھ اروناچل پردیش ریاست کے لیے اسکل وگیان پروگرام کو نافذ کرنے کے لیے ان کی حمایت کو بڑھانے کے لیے اے پی سی ایس اینڈ ٹی کے ساتھ مفاہمت نامہ پر دستخط کیے ہیں۔

*****

ش  ح –  ق ت –  ت  ع

U:12665



(Release ID: 1770421) Visitor Counter : 68