کیمیکلز اور فرٹیلائزر کی وزارت
پروفیسرکے وجے راگھون نے ‘‘ قوت خرید اور اختراع : سبھی کے لئے معیاری دوائیں یقینی بنانا’’ کے موضوع پر منعقدہ ویبنار کی صدارت کی
بھارت کی دواسازی کی صنعت کو آب وہوا کی تبدیلی ، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی اثرات کے سبب پیدا چیلنجوں کے حل پر کام کرنے کی ضرورت ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
31 OCT 2021 1:10PM by PIB Delhi
پورے سال چلنے والے ‘ آزادی کا امرت مہوتسو ’ کے دوران بھارت کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ سرگرمیوں کے ایک جزو کے طور پر نیشنل فارماسیوٹیکل پرائزنگ اتھارٹی ( این پی پی اے ) نے ویڈیو کانفرنسنگ کےذریعہ 29 اکتوبر 2021 کو دوپہر تین بجے سے شام پانچ بجے تک ‘‘ قوت خرید اور اختراع: سبھی کے لئے معیاری دوائیں یقینی بنانا’’ کے موضوع پر ایک ویبنار کا انعقاد کیا گیا۔ اس ویبنار کی صدارت بھارت کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر کے وجے راگھون نے کی اور دواساز ی کے محکمے کی سکریٹری محترمہ ایس اپرنا نے اس تقریب کے وقار میں اضافہ کیا ۔ اس ویبنار میں پور ے ملک کی صنعت ، تعلیم ، ریاستی اور مرکزی حکومتوں ، پرائز مونیٹرنگ ریسورس یونٹس ( پی ایم آر یو ،سول سوسائٹی ، مریضوں کے حقوق کا تحفظ کرنے والے گروپوں نے شرکت کی ۔

پروفیسر کے وجے راگھون نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی دواسازی کی صنعت کو آب وہوا کی تبدیلی ، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی اثرات کے سبب پیدا شدہ چیلنجوں کے حل پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نئی دو ا کی ایجاد کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے صنعت اور اکیڈمک شعبے کے درمیان مضبوط تعلق اور کمپیوٹیشنل اور تجرباتی کام کے مشترکہ نقطہ نظر کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے دواسازی کے محکمے کی سکریٹری محترمہ ایس اپرنانے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ مریضوں کی خاطر سستی دوائیں یقینی بنانے کی حکومت کی عہد بستگی کی تکمیل کے لئے این پی پی اے اگلے محاذوں پر تعینات رہا ہے۔ انہوں نے آگے بایو لوجیکس ، جین سیل تھریپی ، کمپلیکس جینرکس اور مستقبل کی دواؤں کے تعلق سے صلاحیتوں کے اختراع کے لئے پی ایل آئی اسکیم کے توسط سے صنعت کو حکومت کی جانب سے مدددئے جانے کا بھی ذکر کیا ہے۔
این پی پی اے کے چیئر مین جناب کملیش کمار پنت نے اپنی استقبالیہ تقریر میں ویبنار کے شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے سستی قیمتوں پردوائیں دستیاب کرانے این پی پی اے کے ذریعہ ادا کئے گئے رول کو اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے ترقی پسندانہ اختراعات سے متعلق تجاویز کے لئے این پی پی اے کے ذریعہ منظور کی گئی اعلیٰ قیمتوں کا بھی ذکر کیا۔
اس پینل ڈسکشن میں متعدد شعبوں کے ماہرین شامل تھے ۔ ان ماہرین میں ایس سی اے ایم ایچ پی کے رکن اور ایس این سی ایم کے نائب صدر ڈاکٹر وائی کے گپتا ، زائڈس کیڈیلا کے چیئر مین جناب پنکج پٹیل ، سی ایس آئی آر - آئی آئی سی ٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس چندرشیکھر ، عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او )میں جنوب –مشرقی ایشیا کے علاقائی دفتر کے یوایچ سی / صحت نظامات اور لائف کور س کے ڈائریکٹر جناب منوج جھالانی ، انویسٹ انڈیا کے مینجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او جناب دیپک باگلا اور انٹرنیشنل الائنس آف پیشنٹ آرگنائزیشن ( آئی اے پی او ) کی صدر ڈاکٹر رتنادیوی تھیں ۔ اس پینل میں شامل ماہرین نے اہم قو ت خریداور اختراع کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ۔ اس کے علاوہ اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ ملک میں ایک مضبوط اختراعاتی ماحول تیار کرنے کے لئے ایک کثیر جہتی حکمت عملی اور فکر کی ضرورت ہے۔ اس ویبنار کے ناظم پروفیسر جاوید اقبال نے اپنے اختتام تاثرات میں صنعت اور اکیڈمک شعبے کے درمیان مضبوط رشتوں کی اہمیت کو اجاگرکیا۔ان کا خیال ہے کہ تحقیق سے ایسے حل نکل سکتے ہیں جو ان کی تقسیم میں سستی ، موثر اور کارگر ثابت ہوسکتے ہیں ۔
اس ویبنار میں این پی پی اے کے رکن سکریٹری ڈاکٹر ونود کوتوال نے شکریہ کی تحریک پیش کی ۔ انہوں نے پی ایس اے ، مہمان خصوصی وسکریٹری محکمہ دواسازی ، ناظم ، پینل میں شامل ماہرین اور ویبنار میں شریک ہونےوالوں کے تئیں تشکر کا اظہار کیا۔
*************
ش ح۔ م م۔رم
U-12619
(ریلیز آئی ڈی: 1769979)
وزیٹر کاؤنٹر : 207