کیمیکلز اور فرٹیلائزر کی وزارت

ڈاکٹر من سکھ منڈاویہ نے – ’’دواسازی اور طبی آلات کی صنعت میں مواقع اور شراکت داریاں‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سرمایہ کاروں کے سربراہ اجلاس کا آغاز کیا اور خطاب کیا


’’ بھارت میں دواسازی کی صنعت محض کاروبار تک ہی محدود نہیں ہے؛ بلکہ یہ ہمارے جذبات سے مربوط ہونے کے ساتھ ساتھ واسودھیو کٹمبکم کے فلسفے سے بھی رہنمائی حاصل کرتی ہے‘‘

دواسازی کی صنعت کے لئے پی ایل آئی اسکیم اس صنعت کو تقویت بہم پہنچائے گی اور اس میں بھارت کو دواسازی کا مرکز بنانے کے مضمرات پوشیدہ ہیں ‘‘

Posted On: 27 OCT 2021 3:27PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 27 اکتوبر 2021:

صحت و کنبہ بہبود اور کیمکلز اور فرٹیلائزرس کے مرکزی وزیر ڈاکٹر من سکھ منڈاویہ نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے ’’دواسازی اور طبی آلات کی صنعت میں مواقع اور شراکت داریاں ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سرمایہ کاروں کے سربراہ اجلاس کا آغاز کیا اور خطاب کیا۔ اس سربراہ اجلاس کا انعقاد دواسازی اور طبی آلات کی صنعت میں بھارت کی عالمی پوزیشن کو مزید استحکام بخشنے کے مقصد کے ایک حصے کے طور پر ،انویسٹ انڈیا کے سا تھ شراکت داری میں دواسازی کے محکمے کے ذریعہ کیا گیا۔

اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے، ڈاکٹر منڈاویہ نے کہا کہ بھارت کو بجا طور پر دنیا کی فارمیسی کہا جاتا ہے۔ یہ جینیرک ادویہ کا سب سے بڑا مینوفیکچر اور فراہم کار ملک ہے۔ کووِڈ کے دوران، بھارت نے دنیا کے 150 سے زائد ممالک کو ادویہ فراہم کی تھیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت میں دواسازی کی صنعت محض کاروبار تک ہی محدود نہیں ہے؛ بلکہ یہ ہمارے جذبات کے ساتھ بھی مربوط ہے۔ اسے محض منافع حاصل کرنے کے لئے نہیں ہی چلایا جا رہا ہے بلکہ اسے ’’واسودھیو کٹمبکم‘‘ کے فلسفے سے بھی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میک ان انڈیا پروجیکٹ کے تحت، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو بھارت میں سرمایہ کاری کے لئے مدعو کیا ہے۔ انہوں نے اس امر کی یقین دہانی کرائی کہ  بھارت کے بہترین ضابطہ جاتی میکنزم، آزاد مقننہ اور حکومت کی جمہوری شکل  ہونے کی وجہ سے بھارت میں ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی اہل قیادت کے تحت ، بھارت دواسازی کے لیے دنیا میں سرمایہ کاری کا بہترین مقام بننے کے لئے زبردست کوششیں کر رہا ہے۔ اس شعبے نے سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ کا مشاہدہ کیا ہے۔ سال 2020 کے دوران غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری میں 98 فیصد کا اضافہ رونما ہوا۔ گذشتہ مالی برس کے دوران ادویہ کی برآمدات میں 18 فیصد کا اضافہ رونما ہوا۔

دواسازی کی صنعتوں کو حوصلہ فراہم کرنے کے لئے حکومت کی مختلف پالیسیوں، اسکیموں اور پہل قدمیوں کا ذکر کرتے ہوئے، ڈاکٹر منڈاویہ نے کہا کہ دواسازی کے شعبے کے لئے پیداواریت سے مربوط ترغیباتی اسکیم (پی ایل آئی)  صنعت کو تقویت بہم پہنچائے گی اور اس میں بھارت کو دواسازی کا مرکز بنانے کے مضمرات پوشیدہ ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ بھارت ادویہ اور طبی آلات کے لئے ایک بڑی مارکیٹ بننے جارہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آیوشمان بھارت پی ایم جے اے وائی کے تحت، 10 کروڑ کنبے مستفید ہوں گے۔ یہ اسکیم مزید ادویہ اور طبی سازو سامان کے لئے مطالبات پیدا کرے گی، جس سے بھارت میں دواسازی  کی صنعت کو فائدہ حاصل ہوگا۔

تمام صنعتی قائدین، سرمایہ کاروں کا خیرمقدم کرتے ، دواسازی کے محکمے کے سکریٹری نے کہا کہ پیداواری صلاحیت کے ثابت شدہ معیار اور حکومت کی مسلسل حمایت کے ساتھ، بھارت دواسازی کے شعبے میں آتم نربھر بھارت کے خواب کی حصولیابی کے لئے تیار ہے۔

اس تقریب کے دوران دواسازی کے محکمے اور انویسٹ انڈیا کے سینئر افسران موجود تھے۔

********

ش ح۔اب ن ۔ م ف

U. NO. 12255



(Release ID: 1767002) Visitor Counter : 58