زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

ربیع مہم 2021ء کے لئے زراعت پر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ایک قومی کانفرنس کا انعقاد


جناب تومر نے کہا کہ ربیع سیزن کے لئے ریاستوں کو مرکزی حکومت سے مکمل تعاون ملے گا

ریاستوں کو تیل بیجوں اور دالوں کی پیداوار میں اضافے پر توجہ دینی چاہئے

Posted On: 21 SEP 2021 4:28PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،21ستمبر؍2021:

ربیع مہم 22-2021ء کے لئے زراعت و کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر کی صدارت میں ایک قومی زراعتی اجلاس کا انعقاد ہوا۔ جناب تومر نے کہا کہ ربیع سیزن کے لئے مرکزی حکومت سے ریاستوں کو پوری مدد فراہم کی جارہی ہے۔انہوں نے زراعت کی مجموعی ترقی کے لئے ریاستوں سے زراعتی  سائنس مراکز سے مل کر نشانہ طے کرنے کی گزارش کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کسانوں کی مدد اور ان کے تحفظ کے لئے ہمیشہ توجہ دی ہے اور ایک ’آتم نر بھر کسان‘بنانے کےلئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔

 

001.jpg

 

وزیر موصوف نے ریاستوں سے کہا کہ وہ پانی ، بجلی اور کھادوں کا محتاط استعمال کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے نینو -یوریا کے استعمال پر زور دیا، جو کفایتی اور زمین کی زرخیزی کے لئے فائدہ مند ہے۔ وزیر موصوف نے یہ بھی کہا کہ کے وی کے یعنی کسان وگیان کیندروں کو چھوٹے کسانوں تک اپنی رسائی بڑھانی چاہئے، تاکہ حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی متعدد اسکیموں سے وہ بھرپور فائدہ اٹھاسکیں۔ریاستوں کو بھی اس بات کو یقینی بناناہوگا کہ پی ایم کسان اور کے سی سی کی رسائی کسانوں تک ہوسکے۔ 2.25کروڑ کے سی سی سے زیادہ کی اب تک تقسیم کی جاچکی ہے، جس کے ذریعے اب تک کسانوں کو 2.25لاکھ کروڑ سے زیادہ کا قرض فراہم کیاجاچکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ایم فصل بیمہ یوجنا سے کسانوں کو تحفظاتی کور فراہم کیاگیا ہے۔

اس کانفرنس کا مقصد فصل سیزن کے دوران فصلوں کی پیداوار اور کارکردگی کا تجزیہ کرنا اور ریاستی حکومتوں کے مشورے سےربیع سیزن کے لئے فصل وار اہداف مقرر کرنا ہے۔ساتھ ہی کانفرنس میں اہم اشیاء کی سپلائی کو یقینی بنانے اور اختراعاتی ٹیکنالوجی پر عمل درآمد کو فروغ دینے کے تعلق سے بھی بات چیت ہوئی، تاکہ فصلوں کی پیداوار اور اُن کے معیار کو بڑھاوا دیا جاسکے۔حکومت کی اولیت تیل بیجوں اور دالوں کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔

ربیع سیزن میں فصلوں کے رکھ رکھاؤ سے متعلق حکمت عملی پر ایک تفصیلی پریزینٹیشن کا مظاہرہ کیاگیا۔ زراعتی کمشنر ڈاکٹر ایس کے ملہوترا نے کہا کہ حکومت کی بروقت مداخلت کے سبب ملک میں غذائی اجناس اور تیل بیجوں کی پیداوار میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے اور اب تیل بیجوں ، دالوں اور غذائیت سے بھرپور اشیاء کی پیداوار پر خصوصی توجہ ہے۔ انہوں نے 22-2021ء کے لئے فصلوں کی پیداوار سے متعلق اہداف کی تفصیل پیش کی۔

 

002.jpg

 

اپنی پیشکش میں ، ربیع 22-2021ء کے لئے بیجوں کی ضرورت اور فراہمی کے بارے میں بھی انہوں نے تفصیل دی، ساتھ ہی کھادوں کی ضرورت اور اُن کے استعمال کے تعلق سے بھی تفصیلات فراہم کیں۔

 

 

زراعت  و کسانوں کی بہبود  کی وزیر مملکت محترمہ شوبھا کراندلاجے، نے کہا کہ ریاستوں کو کسانوں تک معیاری بیج اور کھادوں کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہئے۔

خریف 22-2021ء کے دوران ، دالوں(ارہر ، اڑد اور مونگ)کے 10.90لاکھ بیجوں کے منی کِٹس تقسیم کئے گئے اور ربیع 22-2021ء کے لئے ریکارڈ تعداد میں 2.06لاکھ بیجوں کے منی کِٹس مختص کئے گئے ہیں۔تیل بیجوں(سویابین، مونگ پھلی اور سیسامم) کے تعلق سے 2.14لاکھ بیج منی کِٹس  خریف 22-2021ء کے دوران تقسیم کئے گئے تھے اور (سرسوں ، مونگ پھلی، السی اور سورج مکھی کے بیجوں) کے 8.67لاکھ  بیج منی کٹس ربیع 22-2021ء کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔دالوں اور تیل بیجوں کے یہ نئے ایچ وائی وی بیج منی کِٹس کو کسانوں تک پہنچایا جائے گا اور اس سے اُنہیں پیداوار کے اضافے میں مدد ملے گی۔

ربیع سیزن میں تیل بیجوں کی پیداوار میں اضافے کے لئے خصوصی مہم شروع کی جائے گی۔سرسوں، سورج مکھی اور پام تیل کی پیداوار میں اضافے کے لئے خصوصی توجہ دی جائے گی۔حال ہی میں جو پام آئل مشن شروع کیاگیا ہے، اُس سے آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک، تمل ناڈو، اُڈیشہ، گجرات، چھتیس گڑھ، شمال مشرقی ریاستوں اور انڈمان و نیکوبار جزائر میں اضافی 6.50لاکھ  اضافی پام آئل کے پلانٹیشن کی راہ ہموار ہوگی۔ اس سے پام آئل کے علاقے میں 6.5 لاکھ ہیکٹیئر  کا اضافہ ہوگا ، جس کے 26-2025ء تک 10.00لاکھ ہیکٹیئر تک لے جانے کا نشانہ ہے۔ (جن میں سے3.22لاکھ ہیکٹیئر پورے ملک میں اور 3.38لاکھ ہیکٹیئر شمال مشرقی ریاستوں کے لئے)اور30-2029ء تک 16.71لاکھ ہیکٹیئر۔ کچے  26-2025ء میں کچے پام تیل (سی پی او)کی پیداوار میں 11.20لاکھ ٹن کی اضافے کی توقع ہے اور 30-2029ء تک اس میں 28.11لاکھ ٹن اضافے کی توقع کی جارہی ہے۔ سرسوں کی پیداوار کے لئے 11اہم ریپ سیڈ اور سرسوں پیدا کرنے والی ریاستوں کا انتخاب کیاگیا ہے۔صرف بیجوں کی نئی ورائٹی میں 20 کوئنٹل فی ہیکٹیئر سے زیادہ پیدا کرنے کی صلاحیت ہے اور بیج منی کِٹس کے طور پر انہیں  ہی تقسیم کیا جائے گا، تاکہ نئے بیجوں کو نہ صرف مقبول بنایا جاسکے، بلکہ پیداوار میں اضافہ میں بھی لایا جاسکے۔اسی طرح ہائی برِڈ ورائٹی پر زور دے کر سورج مکھی کی پیداوار میں بھی اضافے پر توجہ دی جائے گی۔

زراعت و کسانوں کی بہبود  کی وزارت کے سیکریٹری جناب سنجے اگروال ،محکمہ کھاد کے سیکریٹری جناب راجیش کمار چترویدی، جی او آئی ڈاکٹر ترلوچن مہاپاترا ، سیکریٹری ڈی اے آر ای اور ڈی جی ، آئی سی اے آر نے ربیع فصل کی کٹائی کے دوران فصلوں کے انتظامات کو لے کر حکمت عملی اور چیلنج کے تعلق سے ریاستوں کو ہدایات اور مشورے دیئے۔ویڈیو کانفرنس سے ہونے والی اِس قومی کانفرنس میں ڈی اے سی اینڈ ایف ڈبلیو، آئی سی اے آر کے دیگر اعلیٰ افسران اور مختلف ریاستی حکومتوں کے حکام نے شرکت کی۔

 

 

************

 

ش ح۔ج ق۔ن ع

(U: 9226)



(Release ID: 1756887) Visitor Counter : 153