نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

نائب صدر نے‘‘ قابل انسداد نابینائی ’’کی روک تھام پر زور دیا


سرکاری عمارتوں  اور دیگر ضروری مقامات پر معذور  افراد کے لیے سہولیات کا نظام ہونا چاہئے: نائب صدر

نائب صدر نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ معذور افراد کو روزگار دینے کی عملی کوشش کریں

آنکھوں کا عطیہ خیر کے اہم کاموں میں سے ایک ہے: نائب صدر

ہمیں صحت کے مسئلوں سے بچنے کے لیے اپنے ڈجیٹل آلات کے استعمال میں ضابطہ بندی کرنی چاہئے : نائب صدر

نائب صدر نے شر رام کریشن سیوا شرم کی سلور جبلی تقریبات میں ورچوئل طریقے سے

شرکت کی اور پواگڈا میں شری شاردا دیوی آئی ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر کے نئے بلاک کا افتتاح کیا

Posted On: 04 SEP 2021 5:01PM by PIB Delhi

نائب صدر جناب ایم وینکیا نائڈو نے آج آنکھوں کی صحت کے بارے میں بیداری پھیلاکر قابل انسداد نابینائی کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیا اور آنکھوں کی دیکھ بھال کے ایسے مناسب قیمت والے حل اور اقدامات کے لیے کہا جو دیہی آبادی کی رسائی میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ دیہی علاقوں میں عالمی معیار کی صحت نگہ داشت سہولیات فراہم کر کے اس جانب اہم رول ادا کر سکتا ہے۔

نائب صدر شری رام کرشن سیوا شرم، پواگڑا  کی سلور جبلی تقریبات اور شری شاردا دیوی آئی ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر کے نئے بلاک کے افتتاح کی تقریب میں ورچوئل طریقے سے اظہار خیال کررہے تھے۔ بینائی  کا تحفہ  دینے کو خیر کے اہم کاموں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے جناب نائڈو نے عوام سے کہا کہ وہ اپنی ہچکچاہٹ پر قابو چاہئیںاور موت کے بعد اپنی آنکھیں عطیہ کرنے کے لیے آگے آئیں۔ ملک میں کورنل عطیہ کرنے والوں کی بھاری مانگ کا ذکر کرتے ہوئےنائب صدر نے کہا کہ کورینا عطیہ کرنے کی حوصلہ افزائی بڑے پیمانے پر کی جانی چاہئے ۔

کورنیل نابینائی کے بڑے صحت کے چیلنج پر بات کرتے ہوئے جناب نائڈو نے  نابینائی کے قومی سروے (2015-19) کا حوالہ دیا اور کہا کہ ہندستان میں اندازاً 68 لاکھ افراد کم از کم ایک آنکھ میں کور نیل نا بینائی سے دو چار ہیں اور دس لاکھ کے قریب افراد دونوں آنکھوں میں نابینائی سے متاثر ہیں۔ نابینائی اور بینائی کی جزوی معذوری  سے متعلق سروے 2019 میں رپورٹ دی گئی تھی کہ ہندستان میں پچاس سال سے کم عمر والے مریضوں میں کورنیل نابینا ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

جزوی نا بینائی سے دو چار لوگوں کو دشواریوں کی بات کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ جزوی نابینائی والے مریضوں کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں متعدد آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہر شخص کو ہر طرح سے یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ایسے لوگوں کی مشکلات کو کم کیا جا سکے اور ان کے چیلنجوں پر قابو پایا جا سکے۔

جناب نائڈو نے حکومت اور نجی شعبے سے اپیل کی کہ معذوروں کی سہولت والا بنیادی ڈھانچہ بنایا جائے کیونکہ اس سے معذور افراد کو بڑی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سرکاری عمارت اور دیگر ضروری مقامات پر معذور افراد کے لیے سہولیات ہونی چاہئیں۔ معذور افراد کے لیے بنیادی ڈھانچے سے متعلق رہنما پہلے ہی سے موجود ہیں لہزا تمام مقامی ادارے اور ریاستی سرکاریں اس کو موثر طریقے سے نافذ کریں۔

 

نائب صدر جمہوریہ نے پرائیویٹ سیکٹر پر زور دیا کہ بصارت سے محروم اور دیگر معذور لوگوں کو ریزرویشن کے ذریعہ سرگرم  طور پر روزگار فراہم کیا جائے۔

 

عالمی وبا کے دوران ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے صحت کے مسائل میں اضافے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بچوں میں گیجٹ کی لت بڑھ رہی ہے، والدین اور اساتذہ کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

 

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے یہ بھییقینی بنایا جائے کہ یہ صحت کے مسائل یا ضرورت سے زیادہ انحصار کو جنم نہ دے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ڈیجیٹل آلات کے استعمال کو منظم کرنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر بچوں کے معاملے میں اس حقیقت کو ذہن میں رکھا جائے۔ جناب نائیڈو نے خبردار کیا کہ آگے بڑھنے سے زیادہ تر چیزیں ڈیجیٹل ہوتی جائیں گی۔ اس لئے لازمی ہے کہ صحت پر ڈیجیٹلائزیشن کے منفی اثرات کو کم کرنے کے طریقے تلاش کئے جائیں۔

 

جناب نائیڈو نے معیاری صحت کی دیکھ بھال کا سلسلہ غریبوں تک دراز کرنے پر سری رام کرشنا سیواشرما کے بانی اور چیئرمین سوامی جاپانندا جی کی تعریف کیاور کمیونٹی میں تپ دق اور جذام کو کم کرنے میں ان کی اور ان کی ٹیم کی بے لوث خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اکثر اس بات پر زور دیا ہے کہ نجی شعبے، کوآپریٹو سیکٹر، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور غیر سرکاری تنظیموں کو بھی ہر شعبے میں حکومت کی کوششوں کا ساتھ دینا چاہیے۔

 

نائب صدر جمہوریہ نے سماجی خدمات کی اہمیت پر سوامی وویکانند کے نظریات اور اقدار کو یاد کیا۔ ان کی نصیحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہ خدمت کا راستہ اور روحانیت کا راستہ ایک ہی ہے جناب نائیڈو نے کہا کہ سوامی وویکانند نے 'تہذیب اور دیکھ بھال' کی ہماری قدیم تہذیب کی بنیاد پر ہی جدید ہندستان کی تعمیر کی کوشش کی تھی۔

 

جناب نائیڈو نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ 'خدمت' کا جذبہ اپنائیں اور غریبوں اور حاجت مندوں کی بہبود کے حق میں ہر ممکن تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا جذبہ جو سب کی بھلائی چاہتا ہے وہی ہمارے پرانے کہاوت ’’ وسودھائیو کٹومبکم ‘‘ کا بنیادی پیغام ہے۔

 

نائب صدر جمہوریہ نے نئے انٹیگریٹڈ بلاک کے لئے مالی مدد فراہم کرنے پر انفوسس فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن محترمہ سدھا مورتی کی تعریف کی۔

 

ادمیہ چیتنا فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن محترمہ تیجسوینی اننت کمار، بنگلور انفوسس سنٹر کے سربراہ جناب گرو راج دیش پانڈے تقریب کے شرکا میں شامل تھے۔

<><><><><>

 

 

ش ح،ع س، ج

U.No. : 8700



(Release ID: 1752204) Visitor Counter : 138