وزارات ثقافت

ہندوستان میں 39 واں عالمی ورثے کا مقام

تلنگانہ کے وارنگل میں پالم پیٹ کے مقام پر رُدریسورا مندر ( رامپّا مندر) یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا

Posted On: 25 JUL 2021 7:46PM by PIB Delhi

نئی دہلی،25؍ جولائی  :   ایک اور  امتیازی  کامیابی میں تلنگانہ کے وارنگل میں پالم پیٹ کے مقام پر رُدریسورا مندر (رامپّا مندر کے طور پر بھی معروف) یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں  شامل کرنے کے لئے ہندوستان  کی  نامزدگی  منظور ہو گئی ہے۔ آج  یونیسکو کی عالمی ثقافتی کمیٹی کے  44 ویں اجلاس میں یہ فیصلہ لیا گیا۔ 13  ویں صدی کی انجیئرنگ کے شاہکار  رامپّا مندر  کانام  اس کے  معمار  رامپّا  کے نام پر رکھا گیا تھا اور اس کی تجویز  سرکار نے کی تھی۔ کیونکہ  2019  کے لئے  یونیسکو کی  عالمی ثقافتی مقام کے لئے  یہ  واحد نامزدگی ہے۔

یونیسکو نے آج  ایک ٹوئیٹ میں  اعلان کیا کہ  ’’عالمی ثقافتی  مقام  کا درجہ  دیا گیا:  ہندوستان کے تلنگانہ میں  ککاٹیا رُدریسورا (رامپّا)  مندر  کو ۔ بریو !

 

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے یونیسکو کے ذریعے    ککاٹیا ردریسورا مندر کو  عالمی ثقافتی مقام  کا درجہ دینے  پر  اظہار مسرت کیا ہے۔ انہوں نے  لوگوں پر اس بات کے لئے بھی زور دیا کہ وہ اس  مسحور کُن ٹیمپل کمپلکس کا دورہ کریں اور  اس کی  عظمت کا  ذاتی طور پر مشاہدہ کریں۔

یونیسکو کے ذریعے  ٹوئیٹ  پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم  نے کہا کہ  : ’’شاندار  ! ہر ایک  کو  خاص طور پر تلنگانہ کے عوام کو مبارک باد۔‘‘

رامپّا مندر   ککاٹیا کی عظیم سلطنت کی غیر معمولی ہنر مندی کا مظہر ہے۔ میں آب سب لوگوں پر زور دیتا ہوں کہ اس مسحور کن  ٹیمپل کی  کمپلیکس کا دورہ کریں اور  عظمت کا بذات خود تجربہ کریں۔

ثقافت، سیاحت  اور  شمال مشرقی خطے کی فروغ کے مرکزی وزیر  جناب جی کشن ریڈی  نے  وزیراعظم نریندر مودی کا ، ان کی رہنمائی اور  حمایت کے لئے شکریہ  ادا کیا ، کیونکہ  اقوام متحدہ کی  تعلیمی ، سائنسی  اور ثقافتی تنظیم  (یونیسکو) نے  ریاست تلنگانہ میں وارنگل کے نزدیک ملوگو ضلع میں  پالم پیٹ کے مقام پر  ردریسورا  مندر ( رامپا مندر کے طور پر بھی معروف) کو  عالمی  وراثتی  مقام قرار دیا ہے۔

جناب کشن ریڈی نے ٹوئیٹ کیا ’’مجھے  یہ ساجھا کرتے ہوئے انتہائی مسرت ہو رہی ہے کہ   @UNESCO نے  تلنگانہ میں وارنگل کے  پالم پیٹ میں  رامپا مندر کو  عالمی  ورثے کا مقام دیا ہے۔ قوم  بالخصوص تلنگانہ کے  عوام الناس کی جانب سے  میں  عزت مآب  وزیراعظم @narendramodi کا  ان کی رہنمائی  اور  حمایت کے لئےشکریہ ادا کرتا ہوں۔

وزیرموصوف نے اس موقع پر ہندوستان کے محکمہ آثار قدیمہ (اے ایس آئی)  کی مکمل ٹیم کو  مبارک باد دی، نیز  خارجی امور کی وزارت کا  شکریہ بھی ادا کیا۔

میں  @ASIGoI کی مکمل  ٹیم کو ، رامپا مندر کو  عالمی ثقافتی مقام  بنانے کے تئیں اُن کی مسلسل کوششوں کے لئے مبارک باد دیتا ہوں۔ میں محترم وزیراعظم @narendramodi  کی  رہنمائی  کے  تحت  امور خارجہ کی وزارت کی کوششوں  کا بھی شکریہ  ادا کرنا چاہتا ہوں۔

 

وزیر موصوف  جناب کشن ریڈی نے  کہا کہ  کووڈ  - 19  وبا کے تناظر میں  یونیسکو  کی عالمی  ثقافتی کمیٹی  (ڈبلیو ایس سی) کی میٹنگ  2020  میں منعقد نہیں کی جاسکی اور  2020  نیز  2021  کے لئے  نامزدگیاں  آن لائن  میٹنگوں میں زیر بحث چل  رہی ہیں۔ رامپا مندر  پر اتوار 25  جولائی 2021  کو تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

جناب ریڈی نے بیان کیا کہ  عالمی  ثقافتی کمیٹی  میں  21  اراکین ہیں اور  اس وقت  چین  کمیٹی کا  صدر نشین ہے۔ یہ کامیابی  وزیراعظم  کی اُس  ساکھ   کے باعث ہے، جو انہوں نے اپنی  مدت  کے دوران  یونیسکو کے ممبران کے مابین بنا ئی ہے۔

 

ردریسورا (رامپّا) مندر  سے متعلق  مختصر تفصیلات:

ردریسورا مندر کی تعمیر   ککاٹیا  سلطنت کے دور کے دوران  ، ککاٹیا  راجہ  گن پتی دیوا  کے ایک جنرل  رچرلا ردرا  کے ذریعے  سن  1213  میں کی گئی تھی اس میں  اصل بھگوان  راما لنگیسورا سوامی ہیں۔  یہ رامپا ٹیمپل کے طور پر بھی  معروف ہے، جو کہ  اس مجسمہ ساز  کے نام پر رکھا گیا، جس نے   40  سال تک اس مندر میں  کام کیا۔

 ککاٹیا  کے کمپلیکس ایک منفرد اسٹائل، ٹیکنالوجی اور  سجاوٹ کا نمونہ ہیں، جو  ککاٹیا مجسمہ سازی کا زندہ ثبوت ہے۔ رامپا ٹیمپل اس کا ایک اظہار ہے اور  یہ اکثر  ککاٹیائی  تخلیقی  علم کی حد کی  مثال بن تا  ہے۔ یہ مندر  6  فٹ اونٹی  اسٹار کی شکل کے ایک پلیٹ فارم پر  دیواروں،  ستونوں  اور  چھت کے ساتھ تعمیر کیا گیا ہے، جس میں نقاشی کی گئی ہے، جو کہ  ککاٹیائی مجسمہ سازوں کی  منفرد  مہارت کا مجسم  اظہار ہے۔

 اس دور سے وابستہ  مجسمہ  سازی کا آرٹ  اور نقاشی نیز  ککاٹیا کی سلطنت  کی  عالمی پیمانے پر  ایک  غیر معمولی مقام  ہے۔ ٹیمپل کی عمارت میں جانے کے لئے ککاٹیا کے منفرد انداز ، جو کہ  اس خطے  کے لئے  منفرد حیثیت رکھتے ہیں، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ  جنوبی ہندوستان میں  مندر اور  شہر کی  داخلے کے راستوں  میں ان کی عکاسی ہوتی ہے۔

یورپی  تاجر  اور مسافر  اس مندر کی خوبصورتی سے مبہوت ہو کر رہ  جاتے ہیں اور اسی طرح کے ایک مسافر نے  یہ کہا ہے کہ  یہ مندر  دکن کی  قدیمی مندروں کی  کہکشاں میں  ایک روشن اور تابناک  ستارہ ہے۔

 

Image

Image

Image

Image

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

(ش ح- اع- ق ر)

U-7007



(Release ID: 1738985) Visitor Counter : 140