امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت

خوردنی تیلوں کی قیمتیں گھٹنے سے صارفین کو راحت


چند زمروں میں تقریباً مجموعی 20 فیصد تک کی تخفیف

حکومت ایک پائیدار حل کے لئے مسئلے کے تصفیے کے لئے وسط مدتی اور طویل مدتی اقدامات کو عملی جامہ پہنا رہی ہے

خوردنی تیلوں کی قیمتیں متعدد عناصر کے دقیق سلسلے پر منحصر ہوتی ہیں جس میں بین الاقوامی قیمتیں اور گھریلو پیداوار دونوں شامل ہیں

گھریلو کھپت اور پیداوار کے مابین چونکہ فرق زیادہ ہے لہٰذا بھارت کو خاطر خواہ مقدار میں خوردنی تیل درآمد کرنا ہوگا

Posted On: 16 JUN 2021 4:47PM by PIB Delhi

 

بھارت میں خوردنی تیلوں کی قیمتیں مختلف تیلوں کے سلسلے میں انحطاط ظاہر کر رہی ہیں۔صارفین امور کے محکمے کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مہینے کی خوردنی تیلوں کی قیمتیں اب انحطاط پذیر نظر آرہی ہیں۔ بعض معاملات میں یہ انحطاط تقریباً 20 فیصد کے قریب دیکھا گیا ہے جیسا کہ ممبئی میں قیمتوں میں نظر آیا ہے۔

پام آئل کی قیمت 7 مئی 2021 کو 142 روپئے فی کلو گرام تھی جو گھٹ کر 115 روپئے فی کلو گرام ہوگئی ہے، اس سے 19 فیصد کا انحطاط ظاہر ہوتا ہے۔

سورج مکھی تیل کی قیمت 5 مئی 2021 کو 188 روپئے فی کلو گرام تھی جو انحطاط پذیر ہوکر 157 روپئے فی کلو گرام کے بقدر ہوگئی ہے۔ اس سے 16 فیصد کا انحطاط ظاہر ہوتا ہے۔

سویا تیل کی قیمت 20 مئی 2021 کو 162 روپئے فی کلو گرام کے بقدر تھی جو اب انحطاط پذیر ہوکر ممبئی میں 138 روپئے فی کلو گرام ہوگئی ہے جس سے 15 فیصد کا انحطاط ظاہر ہوتا ہے۔

جہاں تک سرسوں کے تیل کی بات ہے، 16 مئی 2021 کو اس کی قیمت 175 روپئے فی کلو گرام تھی جو اب انحطاط پذیر ہوکر 157 روپئے فی کلو گرام کے بقدر ہوگئی ہے، جس سے تقریباً 10 فیصد کا انحطاط ظاہر ہوتا ہے۔

مونگ پھلی کے تیل کی قیمت 14 مئی 2021 کو 190 روپئے فی کلوگرام کے بقدر تھی، جو اب گھٹ کر 174 روپئے فی کلو گرام کے بقدر ہوگئی ہے، اس سے 8 فیصد کا انحطاط ظاہر ہوتا ہے۔

بناسپتی کی قیمت 2 مئی 2021 کو 154 روپئے فی کلو گرام کے بقدر تھی، اب گھٹ کر 141 روپئے فی کلو گرام کے بقدر ہوگئی ہے ، جس سے 8 فیصد کا انحطاط ظاہر ہوتا ہے۔

یہاں اس بات کا ذکر کیا جا سکتا ہے کہ خوردنی تیلوں کی قیمتوں کا انحصار  متعدد عناصر کے پیچیدہ سلسلے پر ہوتا ہے جس میں بین الاقوامی قیمتیں، گھریلو پیداوار جیسے امور بھی شامل ہیں۔ چونکہ گھریلو  کھپت اور پیداوار کے مابین بڑا فرق واقع ہے، بھارت کو بڑی مقدار میں خوردنی تیل درآمد کرنے ہوں گے اور حکومت اس سلسلے میں مستقل بنیاد پر مسئلے کو حل کرنے کے لئے متعدد وسط مدتی اور طویل مدتی اقدامات کر رہی ہے۔

یہ اقدامات بھارت کو خوردنی تیلوں کے معاملے میں آتم نربھر بنانے میں تعاون دیں گے جو بھارت میں کھانہ پکانے میں کلیدی عنصر کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

******

 ( ش ح ۔م ن ۔ اب ن)

U- 5566



(Release ID: 1727865) Visitor Counter : 132