وزیراعظم کا دفتر

وزیر اعظم نے کووڈ کے حالات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ملک بھر کے ڈاکٹروں کے گروپ کے ساتھ بات چیت کی

وزیر اعظم نے دوسری لہر کے غیر معمولی حالات کے خلاف مثالی جدوجہد کرنے کے لیے طبی پیشہ وروں کا شکریہ ادا کیا

صف اول کے جانبازوں کے ساتھ ٹیکہ کاری مہم کو شروع کرنے کی حکمت عملی نے دوسری لہر میں بھرپور فائدہ پہنچایا: وزیر اعظم

مریضوں کا گھر پر ہونے والا علاج یقینی طور پر ایس او پی پر مبنی ہونا چاہیے: وزیر اعظم

ملک کی سبھی تحصیلوں اور ضلعوں میں ٹیلی میڈیسن سروس کی توسیع ضروری: وزیر اعظم

جسمانی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ذہنی دیکھ بھال بھی ضروری: وزیر اعظم

Posted On: 17 MAY 2021 7:24PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کووڈ سے جڑے حالات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ملک بھر کے ڈاکٹروں کے ایک گروپ کے ساتھ بات چیت کی۔

وزیر اعظم نے طبی پیشہ وروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو کووڈ کی دوسری لہر کے غیر معمولی حالات کے خلاف دکھائی گئی مثالی جدوجہد کے لیے شکریہ ادا کیا اور مزید کہا کہ پورا ملک ان کا احسان مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے ٹیسٹنگ ہو، دواؤں کی سپلائی کرنا ہو یا ریکارڈ وقت میں نئے بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر، یہ سب کچھ تیز رفتار سے کیا جا رہا ہے۔ آکسیجن پیداوار اور سپلائی میں آنے والی کئی چنوتیوں کو دور کیا جا رہا ہے۔ ملک کی طرف سے انسانی وسائل کو بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے قدموں، جیسے کووڈ علاج میں ایم بی بی ایس طلباء اور دیہی علاقوں میں آشا اور آنگن واڑی کارکنوں کو شامل کرنا، نے طبی نظام کو اضافی مدد مہیا کرائی ہے۔

وزیر اعظم نے اجاگر کیا کہ ٹیکہ کاری پروگرام کو صف اول کے جانبازوں کے ساتھ شروع کرنے کی حکمت عملی نے دوسری لہر میں کافی فائدہ پہنچایا ہے۔ ملک میں تقریباً 90 فیصد طبی پیشہ وروں کو پہلے ہی ٹیکہ کی پہلی خوراک لگ چکی ہے۔ ٹیکوں نے زیادہ تر ڈاکٹروں کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔

وزیر اعظم نے ڈاکٹروں سے آکسیجن آڈٹ کو اپنی یومیہ کوششوں میں شامل کرنے کی اپیل کی۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ بڑی تعداد میں مریضوں کا ’گھر پر علیحدگی میں رہ کر‘ (ہوم آئیسولیشن) علاج ہو رہا ہے، انہوں نے ڈاکٹروں سے یہ یقینی بنانے کی اپیل کی کہ مریض کی گھر میں ہونے والی دیکھ بھال ایس او پی کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہوم آئیسولیشن میں رہنے والے مریضوں کے لیے ٹیلی میڈیسن نے بڑا رول ادا کیا اور اس سروس کی توسیع دیہی علاقوں میں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان ڈاکٹروں کی تعریف کی، جو ٹیم بنا رہے ہیں اور گاؤوں میں ٹیلی میڈیسن سروس مہیا کرا رہے ہیں۔ انہوں نے تمام ریاستوں کے ڈاکٹروں سے ایسی ٹیم بنانے، ایم بی بی ایس کے آخری سال کے طلباء اور ایم بی بی ایس انٹرن کو تربیت یافتہ بنانے اور ملک کی سبھی تحصیلوں اور ضلعوں میں ٹیلی میڈیسن سروس کو یقینی بنانے کی سمت میں کام کرنے کی اپیل کی۔

وزیر اعظم نے میوکورمیکوسس کی چنوتی پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ ڈاکٹروں کو فعال قدم اٹھانے اور اس بارے میں بیداری پیدا کرنے کی اضافی کوشش کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ انہوں نے جسمانی دیکھ بھال کی اہمیت کے ساتھ ساتھ نفسیاتی دیکھ بھال کی اہمیت کو بھی اجاکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کے خَاف لگاتار چل رہی اس لمبی لڑائی کو لڑنا طبی پیشہ وروں کے لیے یقینی طور پر چنوتی بھرا ہے، لیکن اس لڑائی میں ان کے ساتھ شہریوں کے اعتماد کی طاقت ہے۔

بات چیت کے دوران، ڈاکٹروں نے وزیر اعظم کا حالیہ دنوں میں معاملوں می تیزی کے دوران ان کی رہنمائی اور قیادت کے لیے شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹروں نے ٹیکہ کاری کے لیے طبی ملازمین کو ترجیح دینے کے لیے بھی وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو کووڈ کی پہلی لہر کے بعد سے اپنی تیاریوں اور دوسری لہر میں اپنے سامنے آنے والی چنوتیوں کے بارے میں بتایا۔ ڈاکٹروں نے اپنے تجربہ، کام کرنے کے بہترین طریقوں اور نئی نئی کوششوں کو بھی شیئر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کووڈ کے خلاف لڑائی میں، غیر کووڈ مریضوں کی مناسب دیکھ بھال کرنے کے لیے بھی ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے عوام کے درمیان بیداری پیدا کرنے کے اپنے تجربہ کو بھی شیئر کیا، جس میں مریضوں کی دواؤں کے مناسب استعمال کے تئیں مریضوں کو حساس بنانا شامل ہے۔

اس میٹنگ میں نیتی آیوگ کے رکن (صحت)، ہیلتھ سکریٹری، فارماسیوٹیکل سکریٹری اور پی ایم او، مرکزی حکومت کی وزارتوں اور محکموں کے دیگر افسران نے شرکت کی۔

*****

ش ح – ق ت – ت ع

U: 4580

 



(Release ID: 1719548) Visitor Counter : 35