صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے آر ایم ایل ہسپتال، نئی دہلی میں کووِڈ۔19 کی انتظام کاری سے متعلق تیاریوں کا جائزہ لیا


ریاستوں سے حکومت ہند کے چینل سے حاصل شدہ ٹیکوں کے 70 فیصد حصے کو دوسری خوراک کے لئے مختص کرنے کی اپیل کی

’’عوام دوسری خوراک ضرور لیں اور کووِڈ کے مطابق مناسب برتاؤ پر عمل جاری رکھیں‘‘

حفظانِ صحت کارکنان کی انتھک کوششوں کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا

ہسپتال کمیونٹی نے آکسیجن پلانٹ کی جلد تنصیب کے لئے شکریہ ادا کیا

Posted On: 07 MAY 2021 3:35PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 07 مئی 2021: صحت و کنبہ بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج کووِڈ۔19 کے سنگین مریضوں کی طبی انتظام کاری کے سلسلے میں ڈاکٹر رام منوہر لوہیا  ہسپتال، نئی دہلی کی تیاریوں کا موقع پر جاکر جائزہ لیا۔ ڈاکٹر ہرش وردھن دہلی میں خدمات فراہم کرنے والے مرکزی ہسپتالوں میں کووِڈ۔19 کی انتظام کاری کا انفرادی طور پر جائزہ لے رہے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج کا بھی دورہ کیا تھا۔

کووِڈ۔19 کے یومیہ معاملات میں غیر معمولی اضافے کے مدنظر، دارالحکومت میں ادویہ اور تربیت یافتہ افرادی قوت  کی مناسب سپلائی کےعلاوہ آکسیجن، آکسیجن والے آئی سی یو بستر وں کی بلارکاوٹ ضرورت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ حکومت ہند نے اپنے سرگرم اور مرحلہ وار نظریہ کے مطابق دہلی میں پیدا ہورہی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا ہے۔ مرکزی حکومت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تعاون سے ’’مکمل حکومت‘‘ والے نظریے کے ساتھ کووِڈ۔19 وبائی مرض کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہی ہے۔

 

سب سے پہلے مرکزی وزیر صحت نے ہسپتال کے قریب واقع ٹیکہ کاری مرکز کا دورہ کیا اور ٹیکہ لگوانے والے اور ٹیکہ کاری کے بعد اے ای ایف آئی کے لئے نگرانی میں رکھے گئے مستفیدین سے بات چیت کی۔ ان لوگوں نے انہیں اس بات کے لئے یقین دلایا کہ پورا عمل آسان اور ہموار ہے۔ اے ای ایف آئی کے لئے نگرانی میں رکھے گئے لوگوں نے بتایا کہ ٹیکہ کاری کے بعد انہیں کوئی پریشانی محسوس نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا، ’’ہر کسی کو مکمل تحفظ کے لئے ٹیکہ کاری کی دوسری خوراک لینی چاہئے اور کووِڈ کے مطابق مناسب برتاؤ پر عمل پیرا ہونا چاہئے اور وہ دوسری خوراک لینے کے بعد بھی ضروری احتیاط برتنا جاری رکھیں۔‘‘ میڈیا کے توسط سے انہوں نے ریاستوں سے ’حکومت ہند‘ کے چینل سے حاصل ہوئی ویکسین کے 70فیصد حصے کو دوسری خوراک کے لئے استعمال کرنے کی اپیل کی۔

 

 

اس کے بعد، مرکزی وزیر صحت نے حفظانِ صحت کارکنان کے ساتھ بات چیت کی اور وبائی مرض کے دوران غیر متزلزل عزم کے ساتھ کام کرنے کے لئے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے انہیں طبی افرادی قوت میں اضافہ کرنے کے بارے میں حکومت کے حالیہ فیصلوں کی بھی جانکاری دی، جس سے ان کے کام کے بوجھ میں کئی گنا تخفیف واقع ہونے کی امید ہے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے آکسیجن والے اور آئی سی یو۔ وینٹی لیٹر والے بستروں سمیت بستروں کی دستیابی کے بارے میں تفصیلی جائزہ لیا۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اے کے سنگھ رانا نے کووِڈ مریضوں کی فوری ضرورتوں کو پور کرنے کے لئے بستروں کی دستیابی میں اضافے کے لئے کیے جارہے مختلف اقدامات کے بارے میں معلومات فراہم کی۔ شروعات میں ڈاکٹر رام منوہر لوہیا (آر ایم ایل) ہسپتال میں دو کلی طور  پر وقف عمارتوں میں کووِڈ کے مریضوں کے لئے مجموعی طور پر 172 بستر تھے، جن میں سے کووِڈ کے 158 آکسیجن والے بستر اور کووِڈ کے 14 آئی سی یو والے بستر تھے۔ کووِڈ کے شبہ والے بلاک، جس میں صرف کووِڈ کی علامات کی بنیاد پر مریضوں کو بھرتی کیا گیا تھا، میں 44 بستر اور تھے۔ان میں 30 آکسیجن والے بستر اور 14 آئی سی یو والے بستر تھے۔ کورونا کے حالیہ اضافے کے دوران، کووِڈ کے 33 نئے آکسیجن والے بستروں اور کووِڈ کے بغیر تصدیق شدہ مریضوں کے علاج کے لئے رکھے گئے کووِڈ کے شبہ والے 10 آئی سی یو بستروں کو جوڑ کر کووِڈ کے بستروں کی تعداد کو بڑھاکر 215 کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مرکزی وزیر صحت کے سجھاؤوں کے مطابق غیر کووِڈ مریضوں کو نئی جگہ منتقل کرنے، حفاظتی وردی اور دستانے وغیرہ پہننے اور اتارنے کی جگہ کی ترقی اور افرادی قوت کی ازسرنو انتظام کاری کی تکمیل کے فوراً بعد کووِڈ کے مزید 200 بستروں کو مربوط کرنے کے منصوبے کے بارے میں بتایا۔ یہ تمام بستر کووِڈ سپورٹ والے ہوں گے، جن میں کچھ بستروں کو کووِڈ آئی سی یو بستروں میں تبدیل کیا جائے گا۔

 

ڈاکٹر ہرش وردھن نے ڈی آر ڈی او کے ذریعہ قائم کیے گئے آکسیجن پیداواری پلانٹس کے معائنے کے ساتھ اپنے دورے  کو مکمل کیا۔ ہسپتال میں دو رقیق آکسیجن چیمبرس ہیں، جن میں سے ایک کی صلاحیت 12 میٹرک ٹن جبکہ دوسرے کی صلاحیت 10 میٹرک ٹن کے بقدر ہے۔ ہسپتال کے ملازمین اور مریضوں کے رشتہ داروں نے 1000 لیٹر / فی منٹ کے اعلیٰ بہاؤ والے پلانٹ کے فوری طور پر قیام پر اطمینان کا اظہار کیا، جو کہ آکسیجن کی موجودہ فراہمی میں کافی حد تک اضافہ کرے گا۔

دہلی میں آکسیجن کے بڑھتے مطالبے پر بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا، ’’5 مئی تک 3566398 سرگرم کیسوں کے لئے مرکزی حکومت نے دہلی سمیت ازحد متاثرہ 25 ریاستوں / مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو  9542 میٹرک ٹن آکسیجن مختص کیا ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں پی ایس اے آکسیجن پلانٹ (جیسا آر ایم ایل ہسپتال میں موجود ہے) قائم کرنے کے منصوبے کے بارے میں بھی بات کی: ’’پی ایم کیئرس فنڈ کے تحت قائم کیے جانے والے 162 پی ایس اے پلانٹس میں سے 94 پلانٹس مہیا کرائے جا چکے ہیں، جن میں سے 71 کی تنصیب کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ مجموعی طور پر 109 پی ایس اے پلانٹس کی تنصیب کا کام مئی کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔ حکومت نے اضافی 1051 پی ایس اے پلانٹس کی منظوری دے دی ہے جنہیں ڈی آر ڈ او/ سی ایس آئی آر اور ایچ ایل ایل انفرا ٹیک سروسز لمیٹڈ (ایچ آئی ٹی ای ایس) جیسی مختلف ایجنسیوں کے ذریعہ دستیاب کرایا جائے گا۔ ان پلانٹوں کی سائٹ کی تیاری میں این ایچ اے آئی اور سی بی ڈبلیو ڈی جیسی ایجنسیوں کے ذریعہ مرکزی طور پر تعاون پیش کیا جائےگا۔ یہ تمام پلانٹس تین  مہینوں کی مدت میں مکمل ہو جائیں گے۔‘‘

آکسیجن سلنڈروں کی قلت کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ’’گذشتہ برس 102400 آکسیجن سلینڈرس خریدے گئے  تھے اور انہیں ریاستوں کو تقسیم کیا گیا تھا۔ اس سال، 127000 آکسیجن سلنڈرس(ڈ ی ٹائپ بڑے اور بی ٹائپ چھوٹے) کے آرڈر دیے جا چکے ہیں اور ریاستوں کو ان کی فراہمی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ان میں سے 31800 کو ماہ مئی میں تقسیم کیا جائے گا۔‘‘

وزیر موصوف کے اس دورے میں ان کے ساتھ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ  ڈاکٹر اے کے سنگھ رانا، ادویہ کے صدر شعبہ ڈاکٹر ایم پی ایس چاولہ، تنفس کی ادویہ کے سی ایم او ڈاکٹر امیت سوری اور آر ایم ایل ہسپتال اور ڈی آر ڈی او کے دیگر سرکردہ افسران موجود تھے۔

 

*******

 

ش ح ۔اب ن

U-4283



(Release ID: 1716954) Visitor Counter : 174