صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

عالمی وبا ءکے خلاف جنگ میں عالمی برادری کی طرف سے ملنے والی امداد کی ہندوستانی حکومت کے ذریعہ موثر تقسیم

اکتیس(31) ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں38 اداروں کے طبی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیاگیا

Posted On: 04 MAY 2021 2:51PM by PIB Delhi

 

ہندوستانی حکومت ایک مکمل حکومت کے طریقہ کار کو اپناتے ہوئے کووڈ-19 وبا کے  خلاف جنگ کی ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام کے علاقوں کے تعاون کے ساتھ قیادت کررہی ہیں۔ملک بھر میں کووڈ-19 کے معاملات کی تعداد میں بے مثال اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ روزانہ سامنے آنے والے معاملوں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے نے ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے طبی نظام کو متاثر کیا ہے۔

 عالمی کووڈ-19 وبا کے خلاف متحدہ جنگ میں ہندوستانی حکومت کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کو عالمی برادری کی طرف سے حمایت  اور مددحاصل ہورہی ہے۔ بہت سے ممالک کی طرف سے طبی سازو سامان، ادویات، آکسیجن کنسنٹریٹرس، وینٹری لیٹرس وغیرہ فراہم کئے جارہے ہیں۔

ہندوستان کی طرف سے وصول کئے جانے والے امدادی سامان کی تقسیم کاری کے لئے  ایک ضابطہ بند اور بہتر نظام پر عمل کیاجارہا ہے۔ جس کا مقصد طبی اور دیگر بچاؤ سے متعلق اور امدادی سامان کی موثر تقسیم ہے۔

ہندوستانی کسٹمز حکام کی کووڈ سے متعلق درآمد ہونے والے سامان بشمول آکسیجن اور آکسیجن سے وابستہ آلات وغیرہ کی ضرورت سے آگاہ ہیں۔یہ لوگ تیز رفتاری کے ساتھ درآمد کئے جانے والے سامان کو کلیئرنس جاری کرنے کے کام میں 24 گھنٹے مصروف ہیں۔ تیز رفتاری کے ساتھ اس سامان کو کلیئرنس دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات حسب ذیل ہیں:

  • حکام کے ذریعہ ان سامانوں کو  کلیئرنس دیئے جانے کو دیگر سامانوں کے مقابلے پر ترجیح دی جارہی ہے۔
  • نگرانی اور کلیئرنس کے اجرا ء کے لئے نوڈل افسران کو ای – میل پر الرٹ جاری کیاجاتا ہے۔
  • کووڈ سے متعلق درآمدات میں سے باقی رہ جانے والے سامان کی نگرانی سینئر افسران کے ذریعہ کی جارہی ہے۔
  • سردست ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرنے کے لئے تجارتی برادری پر دباؤ رکھا جارہا ہے۔
  • ہیلپ ڈیکس وغیرہ کے ذریعہ آمد کے وقت سامانوں کو کلیئرنس دینے میں تجارتی نظام کی مدد کی جارہی ہے۔

تیز رفتار کلیئرنس کے علاوہ،

  • ایسے سامان کو جو کووڈ کے خلاف جنگ میں استعمال کرنے کے لئے درآمد کیاگیا ہے، ہندوستانی کسٹم حکام نے بنیادی کسٹمز ڈیوٹی اور طبی محصول سے مستثنیٰ کردیا ہے۔
  • ریاستی حکومت کی تصدیق نامے کی بنیاد پر بلا قیمت درآمد اور مفت تقسیم کئے جانے والے سامان پر سے آئی جی ایس ٹی بھی ہٹا لی گئی ہے۔
  • اس کے علاوہ ذاتی استعمال کے لئے آکسیجن کنسنٹریٹرس کی درآمد پر آئی جی  ایس ٹی 28 فیصد سے ہٹا کر 12 فیصد کردی گئی ہے۔

صحت  اور کنبے کی بہبود کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری کے تحت وزارت میں ایک سیل قائم کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد بیرون ملک سے کووڈ سے بچاؤ کے سلسلے میں گرانٹس،امداد اور عطیات کی حیثیت سے آنے والے سامان کی وصولی اور تقسیم کو مربوط بنانا ہے۔ اس سیل نے 26 اپریل 2021 کو کام کرنا شروع کردیا  اور اس میں وزارت تعلیم کی طرف سے تعینات کردہ ایک جوائنٹ سکریٹری، امور خارجہ کی طرف سے ایڈیشنل سکریٹری  سطح کے افسران، چیف کمشنر کسٹمز، شہری ہوا بازی کی وزارت سے اقتصادی مشیر،تکنیکی مشیر، ڈی ٹی ای، جی ایچ ایس، ایچ ایل ایل کے نمائندگان صحت اور کنبے کی بہبود کی وزارت سے دو جوائنٹ سکریٹری اور آئی آر سی  ایس سے جنرل سکریٹری مع دیگر نمائندگان شامل ہیں۔

اپریل کے آخری ہفتے میں ملک کے مختلف حصوں میں کووڈ کے معاملات میں اچانک اضافے کے بعد وزارت خارجہ کے ذریعہ مختلف ملکوں سے میڈیکل آئٹمز کی درآمد شروع ہوگئی۔ یہ سامان ان ملکوں کی طرف سے ہندوستان کے بہت سے حصوں میں ہنگامی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے فراہم کیاجارہا ہے۔یہ مدد اس امداد کے علاوہ ہے جو ہندوستانی حکومت ریاستوں او رمرکز کے زیرانتظام علاقوں کو  پہلے ہی فراہم کرتی رہی ہے۔اس کے بعد پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے بھی نیتی آیوگ کے ذریعہ امدادی سامان آنے لگا جس کی دیکھ بھال مذکورہ سیل کرتا ہے۔

 اس گروپ کی روزانہ صبح ساڑھے 9 بجے زیر التوا معاملات کو نمٹانے کے لئے ورچوئل میٹنگ ہوتی ہے۔ دن بھر میں وزارت خارجہ کی  طرف سے دی گئی معلومات اور صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے بعد  جی ایچ  ایس، ایچ ایل ایل اور آئی آر سی ایس کے تکنیکی مشیر کے ذریعہ بعد کے کام واٹس اپ گروپ پر کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سی ای او، نیتی آیوگ کے تحت اور وزارت خارجہ کے اخراجات کے سکریٹری اور نیتی آیوگ اور صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کے افسران کو شامل کرتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ جس کا کام پوری کارروائی کی نگرانی کررہا ہے۔امور خارجہ کی وزارت باہر سے آنے والی امداد کے لئے ذرائع مقرر کرتی ہے اور غیرممالک میں اپنے مشن کے ساتھ رابطہ رکھتی ہیں۔ وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں اپنے معیاری ضابطہ عمل بھی جاری کئے ہیں۔

انڈین ریڈ کراس سوسائٹی

وزارت خارجہ کے ذریعہ غیرممالک سے آنے والی امداد کو وصول کرنے والا ادارہ انڈین ریڈ کراس سوسائٹی ہے۔ اس سلسلے میں ضروری کاغذات مل جانے کے بعد آئی آر سی ایس، ایچ ایل ایل کو کسٹمز کے ذریعہ ایئر پورٹ پر منظوریا ں جاری کرانے کی غرض سے فوری طور پر ضروری تصدیق نامے جاری کرتی ہیں۔آئی آر سی ایس صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت اور ایچ ایل ایل کے ساتھ تعاون کرکے  اس کام میں تاخیر کے امکانات کو کم کرتی ہیں۔

ایچ ایل ایل/ ڈی ایم اے

ایچ ایل ایل( لائف کیئر لمٹیڈ) آئی آر سی ایس کا کسٹمز ایجنٹ اور وزارت صحت و خاندانی بہبود کے لئے تقسیم کاری منیجر کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ آنے و الے سامان کو ہوائی اڈے پر پروسیس کرنے کے بعد ایچ ایل ایل کے ذریعہ تقسیم کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔اگر سامان کی کھیپ فوجی ہوائی اڈے پر پہنچتی ہے تو فوجی امور کا محکمہ( ڈی ایم اے) ایچ ایل ایل کی مدد کرتا ہے۔

اس سامان کی فوری تقسیم،  زندگیوں کو بچانے کے مقصد کے پیش نظر بہت ضروری ہے۔ باہر سے آنے والے سامان کی تعداد تفصیلات اور اوقات مختلف ہوتے ہیں۔اس  لئے ریاستوں تک اس کو جلد از جلد پہنچانے کے لئے  ان تمام چیزوں میں ہم آہنگی اور درستی کرنا ضروری ہوتا ہے۔سامان بھیجنے والے ممالک کی اشیاء کی  تفصیلات کی تصدیق اسی ملک میں اس کھیپ کے بک کئے جانے کے بعد ہوتی ہے۔کبھی کبھی موصولہ اشیاء فہرست کے مطابق نہیں ہوتی  یا ان کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔جس کی بنا پر ایئر پورٹ پر ان سب کو درست کرنا پڑتا ہے۔ اس درستگی کے بعد ہی حتمی فہرست کی تصدیق کی جاتی ہے۔ اس طرح ایک چوتھائی  روز کے اندر مختص کیاجانا، منظوری اور روانگی کے عمل کو پورا کیاجاتا ہے۔اس صورت حال میں ان کی فوری طور پر تقسیم اور  ان کے اچھے  سے اچھے استعمال کو یقینی بنانے کے لئے پوری کوششیں کی جاتی ہے۔

مختص کرنے کا کام ، منصفانہ تقسیم اور طبی سہولیات پر ہونے والے دباؤ پیش نظر کیاجاتا ہے۔شروعات کے دنوں میں ریاستوں میں یہ کام ایمس اور دیگر مرکزی اداروں کے ذریعہ کیا گیا جہاں مریضوں کی تعداد زیادہ اور دباؤ کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے۔اس کے علاوہ اس آنے والی امداد کے ذریعہ مرکزی حکومت کے اسپتالوں جس میں ڈی آر ڈی او کے ادارے بھی شامل ہیں ،کے کام کو استحکام بخْشا جاتا ہے۔یہ دیکھا گیا ہے کہ اعلی درجہ کے طبی مراکز پر کووڈ کی شدید علامات والے  مریضوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور یہ ہی لوگوں کے بہترین علاج کا واحد ذریعہ ہوتا ہے۔

ایلو کیشن کے لئے 2 مئی 2021 کو وزارت صحت کی طرف سے جاری کئے گئے معیاری ضابطہ عمل کے مطابق:

  • کیونکہ اس طرح کے امدادی سامان کی مقدار بہت کم ہوگی  اس لئے ضروری ہے کہ اس کا بالکل درست استعمال کیاجائےاور زبردست دباؤ والی ریاستوں (جن میں مثبت معاملات کی تعداد بہت زیادہ ہے) ہی کے لئے مختص کیا جائے،جہاں اس طرح کے سازو سامان اور ادویات کی  ضرورت نسبتاً زیادہ ہے۔
  • اگر ہر بار اس طرح کی امداد بہت معمولی رہے تو بہت سی ریاستوں میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جاسکیں گے۔ اس کی بنا پر چھوٹے سامانوں کو طویل فاصلے طے کرنے پڑیں  گے اس کے علاوہ وسائل کے ضائع ہونے کا بھی امکان رہے گا۔
  • اسپتالوں میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد اور حکومت ہند کے ذرائع سے پہلے کی جانے والی تقسیم کو سامنے رکھتے ہوئے زیادہ دباؤ والی ریاستوں کی ضرورتوں کو زیر غور لایا جائے گا۔ان ریاستوں پر بھی خصوصی توجہ دی جاسکتی ہیں۔ جنہیں خطے کے طبی مراکز مانا جاتا ہے اور جہاں پڑوسی ریاستوں / شہروں سے مریض آتے رہتے ہیں۔ کچھ معاملات میں کم وسائل والی ریاستوں، جیسے شمال مشرقی اور پہاڑی ریاستیں کہ جہاں ٹینکر وغیرہ نہیں پہنچ پاتے ہیں،کی ضروریات کو پورا کرنے پر بھی غور کیاجاسکتا ہے۔

اوپر دیئے گئے شرائط و قواعد کی بنیاد پر24 زمروں کی تقریباً 40 لاکھ  اشیاء  مختلف ریاستوں میں 38 اداروں کو تقسیم کی گئی ہیں۔

اس سامان کے اہم زمروں میں بی آئی پی اے پی مشینیں، آکسیجن( آکسیجن کنسنٹریٹرس، آکسیجن سلنڈرس، پی  ایس اے آکسیجن پلانٹس، پلس آگزی میٹرس)، ددائیں( فیلوی پریویر اور ریمڈیسویر)، پی پی ای(کور آلس، این-95 ماسک اور  گاؤن) شامل ہیں۔

 

یہ ریاستیں / مرکز کے زیرانتظام علاقے جن کو یا تو سامان موصول ہوا ہے یا جہاں سامان بھیج دیا گیا ہے:

آندھرا پردیش

آسام

بہار

چندی گڑھ

چھتیس گڑھ

دادر اور نگر حویلی

دہلی

گوا

گجرات

ہریانہ

ہماچل پردیش

جموں و کشمیر

جھارکھنڈ

کرناٹک

کیرالہ

لداخ

لکشدیپ

مدھیہ پردیش

مہاراشٹر

منی پور

میگھالیہ

میزورم

اوڈیشہ

پڈوچیری

پنجاب

راجستھان

تمل ناڈو

تلنگانہ

اتر پردیش

اتراکھنڈ

مغربی بنگال

 

 چونکہ سامان کی  مختلف قسطیں آرہی ہیں ، آنے والے وقتوں میں بقیہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کا بھی احاطہ کیا جائے گا۔

مندرجہ ذیل اداروں (علاقہ وار) کو یہ سامان ملا ہے:

دہلی این سی آر

1. ایل ایچ ایم سی دہلی

2. صفدرجنگ ہسپتال دہلی

3. آر ایم ایل ہسپتال

4. ایمس دہلی

5. ڈی آر ڈی او دہلی

6. دہلی میں 2 ہسپتال (موتی نگر اور پوتھ کلاں)

7. این آئی ٹی آر ڈی دہلی

8. آئی ٹی بی پی نوئیڈا

شمال مشرق

9. این ای آئی جی آر آئی ایچ ایم ایس شیلانگ

10.  آر آئی ایم  ایس امپھال

شمال

11. ایمس بٹھنڈا

12. پی جی آئی چنڈی گڑھ

13. ڈی آر ڈی او  دہرادون

14. ایمس جھجر

مشرق

15. ایمس رشی کیش

16. ایمس رائے بریلی

17. ایمس دیوگھر

18. ایمس رائے پور

19. ایمس بھوبنیشور

20. ایمس پٹنہ

21. ڈی آر ڈی او پٹنہ

22. ایمس کلیانی

23. ڈی آر ڈی او وارانسی

24. ڈی آر ڈی او لکھنؤ

25. ڈسٹرکٹ ہسپتال پیلی بھیٹ

مغرب

26. ایمس جودھ پور

27. ڈی آر ڈی او  دہرادون

28. ڈی آر ڈی او احمد آباد

29. گورنمنٹ سیٹیلائٹ ہسپتال جے پور

سینٹرل

30. ایمس بھوپال

جنوب

31. ایمس منگلاگیری

32. ایمس بی بی نگر

33. جے آئی پی ایم ای آر پڈوچیری

مرکزی حکومت اور پی ایس یو

34. سی جی ایچ ایس

35. سی آر پی ایف

36. سیل

37. ریلویز

38. آئی سی ایم آر

****

( ش ح ۔س ب ۔رض)

 

U- 4198



(Release ID: 1716121) Visitor Counter : 12