نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

قلیل مدتی منافع سے با لاتر ہوں اور طویل مدتی پائیداری کے لئے کام کریں۔ نائب صدرجمہوریہ کا کاروباری لیڈروں کومشورہ

"ماحولیات کی قیمت پر ترقی نہیں آنی چاہئے"۔ نائب صدرجمہوریہ

جناب نائیڈو نےانتظامیہ کے طلباء کو قریبی دیہاتوں کا دورہ کرنے اور دیہی ہندوستان کے کاروبار اور معاشرتی مسائل کا مطالعہ کرنے پر زور دیا ہے

ایم بی اے فارغ التحصیل افراد کی ملازمت کے مواقع کو بڑھانے کے لئے، بہتر صنعتی - تعلیمی روابط کے لئے زور دیا

نائب صدرجمہوریہ نے ہندوستانی بی-اسکولوں کے لیڈرشپ کانکلیو- 2021 کا افتتاح کیا

کہتے ہیں کہ بی-اسکول ہماری معیشت اور معاشرے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

بنیادی کرداراور امتیازی حقدار کی منیجروں میں ترجیح ہونی چاہئے۔ نائب صدر جمہوریہ کا بزنس اسکولوں کو مشورہ



Posted On: 27 APR 2021 5:20PM by PIB Delhi

نئی دہلی 27 اپریل2021: آج صدر نائب صدر جمہوریہ جناب ایم وینکیا نائیڈو نے پائیدار ترقی کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ دنیا کو ایسے کاروباری رہنماؤں کی ضرورت ہے جو قلیل مدتی منافع سے بالاتر ہوسکیں اور طویل مدتی پائیداری کے لئے کام کرسکیں۔ نئی دہلی میں یوپی اے ۔ راشٹرپتی نواس سے ورچوئلی ’ہندوستانی بی ۔ اسکولوں کی قیادت کے کانکلیو‘ کا افتتاح کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے متنبہ کیا کہ ہماری ترقی کا حصول ماحولیات کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے ۔گلوبل وارمنگ  اور قدرتی آفات میں اضافہ کے نتیجے میں بڑھوتری کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سے کاروباروں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔

’ہندوستانی بی۔اسکولوں:مقامی اور عالمی بہترین عوامل کے انضمام کے ذریعہ پائیدار مستقبل کی تلاش کرتے ہوئے ‘ کے موضوع پر دو روزہ ورچوئل کانکلیو کا انعقاد مشترکہ طور پر امریکہ کے ایڈوانس کالیجیٹ اسکولس آف بزنس (اے اے سی ایس بی ) اور ہندوستان کے لئے تعلیم کی فروغ کی سوسائٹی (ای پی ایس آئی )کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ ہندوستان اور دنیا میں بی۔اسکولوں میں تعلیم دینے والوں کے ذریعہ درپیش مختلف مسائل پر20 سےزیادہ  منجمنٹ ایجوکیشن کے مفکرین رہنما،ڈینس، ڈائرکٹر اور پالیسی ساز تبادلہ خیال کریں گے۔

کووڈ-19 وبائی امراض کے ذریعہ درپیش چیلنجوں کے باوجود اس کانکلیو کے انعقاد کے لئے اے اے سی ایس بی  اور ای پی ایس آئی  کی تعریف کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے ہندوستانی بی۔ اسکولوں کو اس ہنگامہ خیز دور میں انتظامی تعلیم کے مقامی اور عالمی بہترین طریقوں سے سبق سیکھنے کا ایک بہترین موقع قرار دیا۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہمارے بی۔ اسکول ،ہماری معیشت اور معاشرے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ مستقبل کے منیجر ، قائدین اور اختراع کرنے والے ان اسکولوں میں تیار کئے جاتے ہیں اور انھیں تربیت دی جاتی ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تعلیم کو معاشرتی طور پر متعلقہ ہونا چاہئے ، انھوں نے نوجوان انتظامیہ کے طلباء پر زور دیا کہ وہ دیہی ہندوستان کے کاروبار اور معاشرتی مسائل کی تعلیم حاصل کرنے اور ان کی نشاندہی کرنے کے لئے، قریبی دیہاتوں کا دورہ کریں اور ان کے لئے قابل عمل حل تلاش کریں۔

نوجوان منیجروں سے اپیل کرتے ہوئے کہ وہ کاروبار اداروں کے ذریعہ ملک سازی کا ایک وسیع نظریہ حاصل کریں ،جناب نائیڈو نے کہا ’بہتر کردار اور خوشحال دنیا کے لئے ہمارے بزنس اسکولوں کی ترجیح ہونی چاہئے ‘۔ملازمت کے معاملہ پر ،نائب صدر جمہوریہ نے، انڈیا اسکلز رپورٹ 2020 کا حوالہ دیا ،جس میں ایم بی اے فارغ التحصیل افراد کی ملازمت کی شرح  ملک میں 54 فیصد ہے۔اسکولوں کو اندراج اور ملازمت کے درمیان اس فاصلے کو ختم کرنے کے طور طریقوں کے بارے میں سوچنے کی تائید کرتے ہوئے ،جناب نائیڈو نے اکیڈمیا اور صنعت کےمابین بڑھتے ہوئے باہمی رابطے پر زور دیا تاکہ طلباء کو حقیقی کی زندگی کے حالات اور برموقع آموزش کا موقع ملے۔ انھوں نے طلباء کی نرم صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا جو ایک کامیاب منیجر کے مجموعی طور پر تیاری کا لازمی جز ہیں۔

یہ ذکر کرتے ہوئے کہ آزادی کے بعد کے دور میں ،ہارورڈ اور ایم آئی ٹی جیسے امریکی اداروں نے ہندوستانی بی۔ اسکولوں کی مدد کی ہے ، جناب نائیڈو نے اس حقیقت پر خصوصی کا اظہار کیا کہ موجودہ دور میں امریکہ کے بی۔ اسکولوں میں اعلیٰ انتظامیہ کے بہت سے ممبران ہندوستان میں پیدا ہوئے اور انھوں نے ہندوستان میں ہی تعلیم حاصل کی تھی ۔ انھوں نے کہا ’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتوں کے درمیان باہمی انحصار کی ایک بہترین مثال ہے‘‘۔یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ کووڈ 19، اساتذۂ کرام اور طلباء کو ورچوئل موڈ کے مطابق ڈھلنے پر مجبور کررہا ہے، جناب نائیڈو نے کہا کہ آن لائن بات چیت کی اس اچانک تبدیلی نے بھی بہت سے سارے چیلنج کھڑے کردیئے ہیں۔ انھوں نے بی۔ اسکولوں کی فیکلٹی کو مشورہ دیا کہ وہ لیکچر اور تعلیم دینے کے بجائے سرپرستی اور رہنمائی پر زیادہ توجہ دیں۔ انھوں نے مزید کہا ’’یہاں تک کہ ورچوئل سیاق وسباق میں بھی ، آموزش کاروں کو نئے معمول پر اپنی رہنمائی کرنے ، تنقیدی سوچ اور آزاد فیصلہ سازی کی مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔پی پی ایس آئی کے صدر ڈاکٹر جی وشواناتھن ، اے آئی سی ٹی ای کے صدر نشین ڈاکٹر انل ڈی ساہاسرابدھے،اے اے سی ایس بی  ایشیا پیسفک کےچیف آفیسر ڈاکٹر جیوف پیری ، برلا انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایچ چترویدی ،مانورچنابین الاقوامی یونیورسٹی کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر پرشانت بھلا ،مختلف اداروں کے وائس چانسلر ، ڈینس ، پرنسپل اور طلباء ان افراد میں شامل ہیں جنھوں نے اس ورچوئل کانکلیو میں شرکت کی۔

****

 

U.No. 4016

م ن۔ ا ع ۔س ا

 



(Release ID: 1714494) Visitor Counter : 8