امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
64.79 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی سرکاری خرید کی گئی ہے، جبکہ گزشتہ برس اسی مدت کے دوران 60 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی سرکاری خرید کی گئی تھی
پنجاب میں سرکاری خرید پورے عروج پر ہے۔ 14 اپریل 2021 کو 5.57 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں منڈیوں میں پہنچا ہے آنے والے دنوں میں اس میں تیزی آنے کاامکان ہے
پنجاب میں ابھی تک 10.6 لاکھ میٹرک ٹن سرکاری خرید ہوچکی ہے۔ جبکہ 2021-2020 کے دوران صفر لاکھ میٹرک ٹن اور 2020-2019 کی اسی مدت کے دوران 0.15 لاکھ ٹن گیہوں کی سرکاری خرید ہوئی تھی
حکومت کم از کم امدادی قیمت ایم ایس پی پر گیہوں کی خریداری اور ادائیگیوں کو براہ راست کسانوں کے کھاتوں میں کئے جانے کو یقینی بنا نے کے تئیں عہد بند ہے: خوراک اور سرکاری نظام تقسیم محکمے کے سکریٹری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 APR 2021 7:59PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 15 /اپریل- 1202 ۔
خوراک اور سرکاری نظام تقسیم محکمے کے سکریٹری جناب سدھانشو پانڈے نے 2022-2021 کے ربیع کی مارکیٹنگ کے سیزن میں گیہوں کی سرکاری خرید سے متعلق صورتحال کے بارے میں آج ورچوئل طریقے سے میڈیا کے افراد سے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں سکریٹری نے کہا کہ حکومت ہند، کم از کم امدادی قیمت ایم ایس پی پر گیہوں کی خریداری کے تئیں عہد بند ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ادائیگیاں براہ راست کسانوں کے کھاتوں میں کی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب تک 11 ریاستوں کے 6,60,593 کسان مستفیدہوچکے ہیں۔
جناب پانڈے نے مطلع کیا کہ2022-2021 ربیع کا سیزن ، مدھیہ پردیش، راجستھان میں پہلے ہی 15 مارچ 2021 سے شروع ہوچکا ہے۔ ہریانہ اور دہلی میں یہ یکم اپریل2021 سے اور پنجاب میں 10 اپریل سے شروع ہوچکا ہے جب کہ بہار میں یہ 20 اپریل 2021سے شروع ہوگا۔ جناب پانڈے نے بتایا کہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا ایف سی آئی اور ریاستی ایجنسیاں، 2022-2021 کے جاری ربیع مارکیٹنگ کے سیزن کےد وران پورے ملک بھر کے 19000 سے زیادہ مراکز پر کام کریں گی۔
انہوں نے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ رواں ربیع مارکیٹنگ سیزن آر ایم ایس (2022-2021) کے دوران حکومت نے اس سال کے 427 لاکھ میٹرک ٹن کے ہدف کے تخمینہ کے مقابلے، 1975 روپے فی کوئنٹل کی کم از کم امدادی قیمت پر 12800 کروڑ روپے مالیت کے 64.7 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی سرکاری خرید کی ہے۔ اس کے مقابلے گزشتہ برس(2020) کو ریکارڈ سرکاری خرید 389 لاکھ میٹرک ٹن کی تھی ۔ لیکن اسی تاریخ تک یعنی 14 اپریل تک یہ خریداری محض 60 ٹن ہی تھی۔ جب کہ 2020-2019 کے ربیع مارکیٹنگ سیزن آر ایم ایس میں اسی مدت کے دوران 12.81 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی سرکاری خرید ہوئی تھی۔
سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2022-2021 کے رواں آر ایم ایس سے پورے بھارت میں کم از کم امدادی قیمت، ڈی بی ٹی موڈ کے ذریعہ ٹرانسفر کی جائے گی ۔ پنجاب میں گیہوں کی سرکاری خرید کے بارے میں انہوں نے مطلع کیا کہ 14 اپریل 2021 تک 10.6 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی سرکاری خرید کی جاچکی ہے۔ جب کہ 2021-2020 کے دوران صفر لاکھ میٹرک ٹن اور اس سے پہلے 2020-2019 کی اسی مدت کے دوران 0.15 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی سرکاری خرید ہوئی تھی۔ پنجاب میں سرکاری خرید اپنے عروج پر ہے اور 14 اپریل 2021 تک منڈیوں میں 5.57 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں پہنچ چکا تھا اور آنے والے دنوں میں اسی میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں متعلقہ فریقوں کے مفاد کاکوئی تنازعہ نہیں ہے۔ آڑھتی حضرات اپنا کمیشن ، علیحدہ سے ادائیگی کے ای موڈ طریقے سے وصول کررہے ہیں۔
اس سے پہلے ایم ایس پی ، آڑھتیوں کے ہاتھوں کسانوں تک پہنچ رہی تھی لیکن اب اسے براہ راست کسانوں کے کھاتوں میں آن لائن ٹرانسفر کیاجارہا ہے۔
دہلی سرکار کے گھر کے دروازے پر راشن فراہم کرنے پر مرکز کی رضا مندی کے سوال پر انہو ں نے کہا کہ یہ بات واضح طور پر بتا دی گئی ہے کہ حکومت ہند کی سوچ اس سلسلے میں بالکل واضح ہے۔ وہ قانون پر عمل کرتی ہے اور قانون کے مطابق راشن کو کسی بھی بڑھے ہوئے دام پر سپلائی نہیں کیاجاناچاہئے۔
گوداموں کی قلت سے متعلق صورتحال کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک غلط تصور ہے کہ گوداموں کی خراب حالت کی وجہ سے اناج کاذخیرہ برباد ہوجاتا ہے۔ 2019 اور 2020 میں اناج کی بربادی 0.006 فیصد تھی اور کل ذخیرہ کئے گئے اناج کی بربادی 0.004 فیصد تھی۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میں ذخیرہ کاری سے متعلق بنیادی ڈھانچہ کو بہتر بنانے اور گوداموں میں مال بھرائی سے متعلق صلاحیت کو بڑھا کر 100 لاکھ میٹرک ٹن تک کرنے کی غرض سے ہم ذخیرہ کاری کو جدید طرز پر ڈھالنے سے متعلق ایک منصوبہ شروع کررہے ہیں۔
بہار میں مکئی کی سرکاری خریدکے لئے تجاویز کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سکریٹر ی نے کہا کہ حکومت ہند کی موجودہ پالیسی۔ ریاستوں سے قیمتیں طلب کرنا ہے اور اسی کے مطابق کم از کم امدادی قیمت ایم ایس پی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس لئے ریاستی حکومت اپنی ضرورت کے مطابق مطلوبہ مقدار میں مکئی کی سرکاری خرید کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت ہند کی جانب سے ایتھانول تیار کرنے کی اجازت دئے جانے کے نتیجے میں ، بہار نے اس پر ایک پالیسی کااعلان کیا ہے جس سے ریاست میں مکئی کی فصل کے لئے مانگ میں اضافہ ہوگا۔
روغنی بیجوں کی قیمت میں اضافےسے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بہت سے بین الاقوامی عناصر کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان میں بین الاقوامی سطح پر روغنی بیجوں کی بربادی شامل ہے جس کی وجہ سے لاطینی امریکہ کے ملکوں میں سویا بین وغیرہ کی پیداوار کم ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ال نینو نے روغنی بیجوں کی گھریلو پیداوار پر دباؤ میں اضافہ کردیا ہے۔ البتہ سویا بین ، ارنڈی کے بیج کاتیل وغیرہ کی قیمتیں ایم ایس پی سے زیادہ ہونے کی وجہ سے اس سے کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ طویل مدت میں ، ملکی پیداوار میں اضافہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا بہترین طریقہ ہے اور حکومت ہند اس سمت میں کام کررہی ہے۔
************
ش ح ۔ع م۔ ر ض
U-NO.3754
(ریلیز آئی ڈی: 1712229)
وزیٹر کاؤنٹر : 267