صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

مرکزی وزارت صحت نے قومی پالیسی برائے کم یاب امراض 2021 کو منظوری دی

Posted On: 03 APR 2021 6:40PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 3 اپریل: صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیرڈاکٹر ہرش وردھن نے 30 مارچ کو " قومی پالیسی برائے کم یاب 2021" کو منظوری دی ہے۔ پالیسی دستاویز وزارت صحت و خاندانی بہبود کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی ہے۔ کچھ عرصے سے مختلف اسٹیک ہولڈر کم یاب امراض کی روک تھام اور انتظام کے لیے ایک جامع پالیسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کم یاب امراض کا میدان کافی پیچیدہ اور وسیع ہے اور کم یاب امراض کی روک تھام، علاج اور انتظام میں بہت سے چیلنج ہیں۔ مختلف عوامل کی وجہ سے کم یاب امراض کا جلد پتہ لگانا ایک بڑا چیلنج ہے، جن میں پرائمری کیئر پریکٹیشنر، مناسب چیک اپ اور علاج کی سہولیات کا فقدان وغیرہ شامل ہیں۔

تحقیق و ترقی بھی انتہائی کم یاب امراض کے لیے بنیادی چیلنج ہیں جیسا کہ بھارتی تناظر میں بیماری سے متعلق عوارض سے وابستہ پیتھوفیزیولوجی اور قدرتی تاریخ کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ کم یاب امراض پر تحقیق بھی بہت مشکل امر ہے، کیوں کہ مریضوں کا گروپ چھوٹا ہوتا ہے اور اکثر ناکافی طبی تجربات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کم یاب امراض سے وابستہ بیماریوں اور اموات کو کم کرنے کے لیے ادویات کی فراہمی اور رسائی بھی اہم ہے۔ حالیہ برسوں میں پیش رفت کے باوجودکم یاب امراض کے موثر اور محفوظ علاج کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ کم یاب امراض کے علاج کی لاگت بہت زیادہ ہے۔ مختلف ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ نے بھی کم یاب امراض کی قومی پالیسی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ان تمام چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے وزارت صحت نے اس شعبے کے مختلف اسٹیک ہولڈروں اور ماہرین کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد کم یاب امراض پر جامع قومی پالیسی 2021 کم یاب کو حتمی شکل دی ہے۔ 13 جنوری2020 کو کم یاب امراض کی قومی پالیسی کو عام کیا گیا جس پر تمام اسٹیک ہولڈوں، عام لوگوں، تنظیموں اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تبصرے/خیالات طلب کیے گئے۔ وزارت کی تشکیل کردہ ایک ماہر کمیٹی نے اس پر موصول ہونے والے تمام تبصروں کا سنجیدگی سے معائنہ کیا۔

کم یاب امراض کی پالیسی کا مقصد کنونیر کی حیثیت سے وزارت صحت تحقیق و ترقی ، نیز وزارت کی تشکیل کردہ نیشنل ایسوسی ایشن کی مدد سے دیسی تحقیق پر زیادہ زور دے کر کم یاب امراض کے علاج کے زیادہ اخراجات کو کم کرنا ہے۔ تحقیق و ترقی اور ادویات کی مقامی پیداوار پر زیادہ زور دینے سے کم یاب امراض کے علاج کی لاگت میں کمی آئے گی۔ اس پالیسی میں کم یاب امراض کی قومی سطح کے اسپتال کی رجسٹری کی تیاری کا بھی تصور ہے، جو کم یاب امراض کی تعریف اور ملک کے اندر کم یاب امراض سے متعلق تحقیق ترقی کے لیے مناسب اعداد و شمار فراہم کرے گی۔

اس پالیسی میں صحت اور بہبود مراکز اور ضلعی بنیادی طبی مراکز (ڈی ای آئی سی) جیسے بنیادی اور ثانوی صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے اور جلد اسکریننگ اور بچاؤ اور اعلی خطرے کے حامل مریضوں کی کونسلنگ  پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ محکمہ بائیو ٹیکنالوجی کے قائم کردہ اسکریننگ مراکز بھی تحقیقات کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ اس پالیسی کا مقصد متعینہ سینٹر آف ایکسی لینس (سی ای او) والے 8 صحت اداروں کے ذریعے کم یاب امراض کی روک تھام اور علاج کے لیے تیسرے درجے کی صحت اداروں کو مضبوط بنانا اور سی او ای تشخیصی سہولیات کی بہتری کے لیے 5 کروڑ روپے تک کی ایک بار مالی مدد بھی فراہم کرنا ہے۔

ان کم یاب امراض کے علاج کے لیے جن میں ایک بار علاج کی ضرورت پڑتی ہے (قومی پالیسی کے گروپ اے کے تحت درج فہرست بیماریاں)نیشنل آروگیہ فنڈ کی امبریلا اسکیم کے تحت 20 لاکھ روپے تک مالی اعانت کی تجویز رکھی گئی ہے۔ اس مالی اعانت سے فائدہ اٹھانے والے بی پی ایل خاندانوں تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ اس کو  40 فیصد آبادی تک توسیع دی جائے گی جو وزیراعظم جن آروگیہ منصوبے کے تحت اہل ہوں گے۔

اس کےعلاوہ اس پالیسی میں کراوڈ فنڈنگ کا انتظام بھی کیا گیا ہے جس سے کمپنیوں اور لوگوں کو کم یاب امراض کے علاج کے لیے ایک مضبوط آئی ٹی پلیٹ فارم کے ذریعے مالی مدد فراہم کرنے کی ترغیب ملے گی۔ اس کے ذریعے جمع ہونے والے فنڈ کو سینٹر آف ایکسی لنس کم یاب امراض کے تینوں زمروں کے علاج کی پہلی فیس کے طور پر استعمال کریں گے اور پھر باقی مالی وسائل کو بھی تحقیق کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

****

ش ح - ع ا۔ م ف

3343U. No.

 



(Release ID: 1709441) Visitor Counter : 108