نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

نائب صدر نے دیہی علاقوں میں صحت کی جدید سہولیات متعارف کرانے کے لیے پبلک پرائویٹ پارٹنرشپ کا مطالبہ کیا


صحت نگہداشت کا ایک اچھا نظام اقتصادی ترقی کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے

شری نائیڈو نے کہا، ’آئیے ہم ذہنی صحت کے بارے میں بات کریں‘؛ اس مسئلے پر بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہےش

شری نائیڈو نے صحت کی دیکھ بھال کے لیے ایک جامع اور انسانیت مرکوز نقطہ نظر اپنانے کا مطالبہ کیا

ڈانڈی مارچ اور باردولی ستیہ گرہ کے پُر امن طریقے آج بھی موزوں ہیں: نائب صدر

نائب صدر نے گجرات کے نوساری میں نرالی ملٹی اسپیشلٹی ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا

Posted On: 05 MAR 2021 5:26PM by PIB Delhi

نائب صدر، شری ایم وینکیا نائیڈو نے آج مشن موڈ پر صحت کے بنیادی ڈھانچے میں شہری - دیہی تفاوت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور نجی شعبے سے اپیل کی کہ وہ اپنے نیم شہری اور دیہی علاقوں میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کریں، اور سستی صحت کی سہولیات فراہم کریں۔ انھوں نے جدید طبی سہولیات کو دیہی علاقوں، خاص طور پر دور دراز علاقوں تک لے جانے کے لیے حکومتوں کو نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کرنے کی تجویز پیش کی۔

نرالی ملٹی اسپیشلٹی ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے، نائب صدر نے کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض نے اچھی صحت کی اہمیت کے بارے میں ایک قیمتی سبق سکھایا اور اس دوران یہ مشاہدہ کیا گیا کہ صحت کا ایک اچھا نظام حقیقت میں کسی خطے میں معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایک مؤثر اور سستی صحت کی نگہداشت کا نظام ”غریبوں پر مالی بوجھ کو کم کر سکتا ہے، کارکنوں کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے، اسکولوں میں غیر حاضری کو کم کر سکتا ہے اور بالآخر ترقی کے ساتھ مضبوط مثبت ارتباط حاصل کر سکتا ہے“۔ شری نائیڈو نے زور دے کر کہا کہ اس طرح اچھی صحت ’فرد، کمیونٹی، اور بڑے پیمانے پر معاشرے کے لیے ایک اثاثہ ہے‘۔

آزادی کے بعد سے ہندوستان نے صحت کے اشارہ کار میں جو زبردست پیش رفت کی ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے، نائب صدر نے کہا کہ ابھی بھی قابل ذکر چیلنجز موجود ہیں جو عملی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے، نجی شعبہ، سول سوسائٹی اور دیگر تنظیموں کو حکومت کے ساتھ سرگرم ی کے ساتھ شراکت کرنی چاہیے۔

شری نائیڈو نے ذہنی صحت کے معاملات پر زیادہ سے زیادہ شعور بیدار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس تناظر میں، انھوں نے ڈبلیو ایچ او کے 2019 کے تخمینے کا حوالہ دیا کہ 7.5 فیصد ہندوستانی ذہنی صحت سے متعلق عارضے سے متاثر تھے اور یہ کہ ذہنی صحت پر وبائی مرض کے اثرات کا ابھی مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے ذہنی صحت سے وابستہ داغ کو ہٹانے اور ذہنی صحت سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر اپنانے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا، کسی بھی چیز سے زیادہ، ہمیں ذہنی صحت کے بارے میں بات کرنے پر آمادگی ظاہر کرنی ہوگی۔

نائب صدر نے غیر متعدی امراض کے بڑھتے بوجھ پر بھی توجہ دلانے کی کوشش کی۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ کینسر، ذیابیطس اور دل کی بیماری جیسی طرز زندگی سے جڑی بیماریاں اب ملک میں ہونے والی اموات کے 60 فیصد سے بھی زیادہ ہیں، انھوں نے لوگوں میں زیادہ سے زیادہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انھوں نے سرکاری اور نجی شعبے کے ماہرین صحت سے پُر زور اپیل کی کہ وہ سست طرز زندگی اور غیر صحت بخش غذا سے ہونے والے صحت کے خطرات سے متعلق مہم شروع کرنے میں آگے بڑھیں۔ نائب صدر نے صحت کی دیکھ بھال سے متعلق ایک جامع نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت کا مطالبہ کیا۔ اس تناظر میں، صحت سے متعلق WHO کی تعریف کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ”صحت صرف بیماریوں کی عدم موجودگی نہیں ہے؛ یہ لوگوں کی اپنی پوری زندگی کے دوران اپنی صلاحیتوں کو ترقی دینے کی صلاحیت بھی ہے“۔

انھوں نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال جسمانی، ذہنی اور روحانی طور پر ”خوش“ رہنے کی کوشش کا نام ہے، اور اس سلسلے میں انھوں نے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں سے طبی دیکھ بھال کے لیے زیادہ سے زیادہ انسانیت مرکوز طریقہ کار اپنانے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا، ”اس طرح، ہمیں ایک ساتھ مل کر انسانیت کے دکھوں کو کم کرنے اور خوشی پھیلانے کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی“۔

اپنی بات ختم کرنے سے پہلے، نائب صدر نے اس خطے میں رونما ہونے والی ڈانڈی نمک مارچ اور باردولی ستیہ گرہ کی تاریخی تحریکوں کو یاد کیا۔ 1930 کے ڈانڈی مارچ کی عالمی شناخت کا ذکر کرتے ہوئے، شری نائیڈو نے کہا کہ اس سے ہمیں آتم شکتی اور آتم نربھرتا کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے مانا کہ یہ تحریکیں آج بھی پُر امن طریقے سے اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی تحریکوں کے لیے ایک مثال ہیں۔

شری نائیڈو نے علاقے کے لوگوں کی خدمت کے لیے ہیلتھ کیئر کیمپس کے قیام میں ایل اینڈ ٹی گروپ چیئرمین، شری اے ایم نائک کی فیاضانہ کوششوں کی تعریف کی۔

شری ایشور پرمار، معزز وزیر، سماجی انصاف و اختیار، حکومت گجرات، شری سی آر پاٹل، ممبر پارلیمنٹ نوساری، شری انل منی بھائی نائک، بانی، نرالی میڈیکل میموریل ٹرسٹ، شری ایس این سبرامنیم، مینجنگ ڈائرکٹر، لارسن اینڈ ٹبرو، شری وائی ایس ترویدی، بورڈ ممبر نرالی میڈیکل میموریل ٹرسٹ اور دیگر نے اس تقریب میں حصہ لیا۔

                                       **************

ش ح۔ ف ش ع-م ف   

05-03-2021

U: 2199



(Release ID: 1702875) Visitor Counter : 156