بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت

’’آتم نربھر بھارت ‘‘اور’’کچرے سے  دولت ‘‘  کو  زبردست فروغ ، جناب نتن گڈکری نے آسام میں اگربتی  بنانے کے یونٹ کا افتتاح کیا

Posted On: 18 FEB 2021 5:43PM by PIB Delhi

نئی دہلی،18؍فروری:  بھارتی اگر بتی صنعت  کو  مضبوط بنانے کی  کھادی  اور دیہی  صنعتوں کے کمیشن  (کے وی آئی سی)  کے  مستقل کوششیں آسام  میں ثمر آور ہونے لگی ہیں ۔ جمعرات کو  چھوٹی، بہت چھوٹی اور  درمیانی صنعتوں کے وزیر  جناب نتن  گڈکری نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے  آسام  کے  بجالی  ضلع میں  ’’کیشاری بائیو  پروڈکٹ  ایل ایل پی‘‘  نامی  بانس  کی اگر بتی بنانے کے  بڑے  یونٹ کا  افتتاح کیا۔  اس موقع پر آسام کے وزیراعلیٰ  جناب سربانند سونووال  اور کے وی آئی سی کے چیئر مین جناب ونے کمار سکسینہ  بھی   موجود تھے۔

 یہ  اکائی ’’آتم نربھر بھارت‘‘  کی سمت میں ایک اہم قدم اور کچرے سے دولت  پیدا کرنے  کی  عمدہ مثال ہے۔ اگر بتی بنانے کے علاوہ  اس یونٹ میں  فاضل بانس کو  بائیو فیول بنانے اور دیگر  مصنوعات بنانے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ 10  کروڑ  روپے کی لاگت سے بنائے گئے اگر بتی کی  اس اکائی میں  350 لوگوں کو  براہ راست  روز گار مہیا کیا جائے گا، جب کہ 300  سے زیادہ  بالواسطہ روز گار  بھی پیدا ہوگا۔

 اس طرح کی اکائیوں کا آسام میں قائم کیا جانا مودی حکومت کے  چین اور ویت نام  سے  خام اگربتی کی در آمد  کے فیصلے پر روک  کے تناظر میں  بہت اہمیت کا حامل ہے۔  علاوہ ازیں  اگر بتی  کے لئے  گول بانس کی   گھپچیوں پر  در آمد  کے ٹیکس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ دونوں فیصلے ، اُن دو ممالک سے اگربتی اور بانس  در آمد کرنے  پر  روک لگانے  میں  معاون ہے، جس کی وجہ سے بھارتی  اگر بتی کی صنعت کو خاصا نقصان پہنچ  رہا تھا۔

 جناب گڈکری  اور  کے وی آئی سی کے چیئرمین ونے سکسینہ نے  ان دو اشیاء  کی در آمد پر  روک لگانے میں بہت اہم کردار  ادا کیا ہے، اس کے نتیجے میں پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران  اگر بتی  سازی کے  سینکڑوں  یونٹ  پھر سے  شروع ہو گئے ہیں، جن سے 3  لاکھ کے قریب  نئی نوکریاں پیدا ہوئی ہیں۔ ان پالیسی  فیصلوں کے بعد  کیشاری بائیو پروڈکٹس ایل ایل پی ، وہ پہلا  بڑا منصوبہ ہے، جسے  شروع کیا گیا ہے۔

 جناب  گڈکری نے  آسام میں  اس اکائی کے  افتتاح پرمسرت کا اظہار کیا  اور کہا کہ  اس سے  مقامی اگربتی کی صنعت کو  تقویت ملے گی، جو  مقامی  ملازمت سازی  کا  زبردست امکان  اپنے اندر رکھتا ہے۔ جناب گڈکری  نے کہا  کہ ’’ یہ آتم نربھر بھارت کی  سب سے  معقول مثال ہے، جس کا  مقصد  مقامی  ملازمتیں پیدا کرنا اور  پائیدار  گزر بسر کے مواقع  فراہم کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ نے بھی  اس موقع پر  اس پہل کو  سراہا  اور کہا کہ  اس یونٹ سے  پوری ریاست میں ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

کے وی آئی سی کے چیئر مین نے کہا کہ  خام اگربتی کی در آمد پر روک اور بانس کی اگر بتی  کی در آمد پر محصولات کے اضافے  کی وجہ سے   بھارت میں  زبردست  ملازمت کے مواقع پیدا ہوئے اور  ان نئے یونٹوں نے اس موقع سے  فائدہ   اٹھایا ہے۔ ’’اگربتی  کی صنعت  بھارت کی دیہی  صنعت کا ایک کلیدی  حصہ ہے، جس  میں  10  لاکھ  سے زیادہ کاریگروں کو  روز گار فراہم ہوتا ہے۔ جناب سکسینہ نے کہا کہ ’’اگر بتی  اور بانس کی گھپچیاں بنانے کی  نئی فیکٹریوں کے قیام کے  اس شعبے میں پچھلے ڈیڑھ سال  میں  تقریبا  تین لاکھ  نئی ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔ اس موقع سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کے لئے  کے وی آئی سی  نے  کھادی اگر بتی  آتم نربھر مشن  کا آغاز  کیا ہے، وزیراعظم  کے ملازمت  کے مواقع پیدا کرنے کی اسکیم کے تحت  ،جس کا مقصد  مقامی  اگربتی  کی پیداوار کو بڑھانا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید  کہا کہ  نئے اگر بتی  یونٹوں کے قیام سے  آسام میں بانس پر مبنی  صنعتوں کو استحکام ملے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ  صرف  16  فیصد  بانس ہی  اگر بتی بنانے میں  کام آتا ہے، جب کہ  84  فیصد بانس  ضائع ہو جاتا ہے۔ تاہم  کیشاری بائیو  پروڈکٹس ایل ایل پی  کے ذریعے مختلف  ٹیکنالوجیوں کے استعمال کے ذریعے  بانس کا ہر حصہ  استعمال کیا جاتا ہے۔ فاضل  بانس کو  جلاکر  میتھین میں تبدیل کیا جاتا ہے  اور  ڈیزل سے آمیز کرکے  اسے  ایک متبادل  ایندھن  بنایا جاتا ہے۔ جلے ہوئے بانس کو  اگر بتی  اور  ایندھن  کے کوئلے  کے طور پر  استعمال کرنے کے لئے  چار کول   پاؤڈر  بنایا جاتا ہے۔ فاضل بانس کو  آئس کریم کی اسٹکس،  چاپ اسٹکس، چمچے اور دیگر  سامان بنا نے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سردست  اگر بتیوں کے استعمال کا  تخمینہ  یومیہ  1490  ٹن  لگایا گیا ہے، جب کہ  مقا می طور پر  صرف  760  ٹن یومیہ  ہی  پیدا وار  ہو پاتی ہے۔ لہذا  مانگ  اور سپلائی  میں  ایک زبردست خلاء ہے، جس کی وجہ سے خام اگر بتی  کی بڑی مقدار کو  در آمد کرنا پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں  2009  میں  خام اگر بتی  کی در آمد پر   دو فیصد محصول سے  2019  میں 80  فیصد محصول  کا اضافہ  کر دیا گیا ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح-ع ا- ق ر)

U-1734



(Release ID: 1699320) Visitor Counter : 168