نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

نائب صدرجمہوریہ نے زرعی شعبے میں ذہین اور باکمال افراد کی گھٹتی تعداد پر روک لگانے کے لئے اقدامات کرنے اور نوجوانوں کو کاشتکاری کی جانب راغب کرنے کی اپیل کی

زراعت بھارت کے ماحولیات، ثقافت اور تہذیب کا ستون ہے : نائب صدر جمہوریہ

نائب صدر جمہوریہ کا کہنا ہے کہ کاشتکاروں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے

’خوراک سلامتی‘ کے بجائے ’تغذیائی سلامتی‘ پر توجہ دینے کی ضرورت

کاشتکاروں کو ’زرعی ۔ صنعت کاروں‘ میں تبدیل کرنے کے لئے لیب ۔فارم لنکس اور فارمر ۔ انڈسٹری انٹریکشن کی ضرورت پر زور دیا

قدرتی آفات سے محفوظ خوراک اور زرعی نظام کی ہنگامی طور پر ضرورت: نائب صدر جمہوریہ

جناب نائیڈو نے زرعی ۔ اِن پٹ لاگت میں تخفیف کی ضرورت پر زور دیا

بڑے پیمانے پر نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینے کی اپیل

’ 2030 کی جانب بھارتی زراعت ‘ کے موضوع پر قومی ڈائیلاگ کا آغاز کیا

Posted On: 19 JAN 2021 5:41PM by PIB Delhi

صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج زرعی شعبے کے ذہین اور باکمال افراد کی گھٹتی تعداد پر روک لگانے کے لئے اقدامات کرنےاور کاشتکاری کو پیشے کے طور پر اپنانے کے لئے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں رغبت پیدا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی زراعت کا مستقبل تکنالوجی سے آراستہ زرعی طورطریقوں اور باخبر   اور نئی سوچ کے حامل کاشتکاروں کے ہاتھوں میں ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے اپنے ان خیالات کا اظہار نیتی آیوگ ، وزارت زراعت اور  خوراک وزرعی تنظیم (ایف اے او)  کے زیر اہتمام ’’ 2030 کی جانب بھارتی زراعت: کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ، تغذیائی سلامتی اور پائیدار خوراک نظام کے لئے راستے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ قومی ڈائیلاگ کا ورچووَل انداز میں آغاز کرنے کے موقع پر کیا۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں میں کاشتکاری کے تئیں بڑھتی بیزاری کے تعلق سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہاکہ بدلتے سماجی اقتصادی ماحول، بڑھتی زرعی ۔ اِن پٹ لاگت اور گھٹتی آمدنی  نے نوجوانوں کے درمیان زراعت کو کم ترجیح والے پیشہ میں تبدیل کر دیا ہے۔انہوں نے کاشتکاروں کو ’زرعی ۔ صنعت کار‘ بنانے کے لئے مضبوط لیب ۔ فارم لنکس اور فارمر ۔ انڈسٹری انٹریکشن قائم کرنے کی اپیل کی۔ نائب صدر جمہوریہ نے مزید کہا کہ اس شعبے میں’بزنس انکیوبیشن سینٹر‘ قائم کرنا آرزومند کاشتکاروں کے لئے صحیح سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم ثابت ہوگا۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ زرعی اِن پٹ لاگت میں غیر معمولی اضافہ رونما ہوا ہے، جناب نائیڈو نے پالیسی سازوں اور دیگر متعلقین سے اِن پٹ لاگت میں تخفیف کے لئے کوشش کرنے کی اپیل کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے بڑے پیمانے پر نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینے کی بھی صلاح دی۔ کیمیاوی کھیتی سے دور رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’نامیاتی کاشتکاری کاشتکاروں، صارفین اور ماحولیات ، سبھی کے لئے فائدہ مند ہے۔انہوں نے نامیاتی کاشتکاری کو عوامی تحریک کی شکل دینے پر زور دیا جو نہ صرف ’خوشحال ملک ‘بلکہ ’صحت مند ملک‘ کے لئے بھی ضروری ہے۔

زراعت کو بھارت کی روح بتاتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ نہ صرف خوراک سلامتی بلکہ معیشت اور روزگار کے لئے بھی اہم ہے۔انہوں نے کہا، ’’زراعت بھارت کے ماحولیات، ثقافت اور تہذیب کا ستون ہے۔‘‘

انہوں نے 2019۔20 کے دوران ، کووِڈ۔19 وبائی مرض کے نتیجے میں رونما ہوئی مشکل صورتحال کے باوجود، خوردنی اناج کی ریکارڈ پیداوار کے لئے کاشتکاروں کی جم کر ستائش کی۔

بھارتی زراعت کو درپیش چار چنوتیوں کا ذکر کرتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ان میں سے سب سے پہلی چنوتی ہماری بڑھتی آبادی کے لئے خوراک سلامتی اور بہتر تغذیہ کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’درحقیقت، اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی توجہ خوراک سلامتی سے ہٹاکر تغذیائی سلامتی پر مرکوز کریں۔‘‘

جناب نائیڈو نے کہا کہ دوسری چنوتی قدرتی وسائل زمین، پانی، جنگلات وغیرہ، کی پائیداری سے متعلق ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان تکنالوجیوں پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی جائے جو پانی کے استعمال سے متعلق مؤثریت میں اضافہ کرتی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کو تیسری سب سے بڑی چنوتی بتاتے ہوئے، نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی شعبے کو لچکدار ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو فوری طور پر اور بیداری پیدا کرتے ہوئے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

آخر میں، جناب نے نائیڈو نے کہا کہ کاشتکار اور زرعی مزدور زرعی منظرنامے میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ مکمل اور انفرادی طور پر توجہ کے حقدار ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم کاشتکار کو ایک ایسا روشن مستقبل فراہم کریں جو بھارتی زراعت کو تشکیل دینے والے ہمارے ان داتا کے خون اور پسینے کو پہچانتا ہو۔‘‘

نائب صدر جمہوریہ نے پائیداری اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی، کے تمام پہلوؤں کو زرعی پالیسی سازی  اور منصوبہ بندی میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے زراعت کے لئے وسیع اور جامع نظریے کی وکالت کی جس کے تحت عوام کی بھلائی کے ساتھ پیڑ پودوں، مچھلیوں، جنگلات اور مویشیوں کی پائیداری اور ان کے فطری باہمی انحصار پر توجہ دی جاتی ہے۔

بھارت میں زرعی شعبے میں خواتین کی بڑھتی شراکت داری کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے، جناب نائیڈو نے پالیسی سازوں سے خواتین کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی جانب خصوصی توجہ دینے کی اپیل کی۔

حالیہ ٹڈی حملے، جاری کووِڈ۔19 وبائی مرض اور برڈ فلو کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ قدرتی آفات سے محفوظ خوراک اور زرعی نظام، دیہی معیشت کو ازسر نو زندہ کرنے، صحت اور تغذیہ کی اہمیت پر زور دینے، خصوصاً سماج کے کمزور طبقات پر توجہ دینے کی فوری طور پر ضرورت ہے۔

انہوں نے اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فصل خراب ہونے کی صورت میں آمدنی کے دوسرے ذرائع کے طور پر پولٹری، ڈیری، ماہی گیری اور باغبانی جیسے کاشتکاری سے وابستہ سرگرمیاں اپنانے کے لئے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے بھارتی خوراک ڈبہ بندی صنعت کی قوت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کی بھی اپیل کی۔

نائب صدر جمہوریہ نے زرعی یونیورسٹیوں اور کرشی وگیان کیندروں کو کاشتکاروں کے لئے نئی تحقیق اور اختراع میں فعال طریقہ کار اپنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’تجربہ گاہ سے زمین تک ‘ کے تصور کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جانا چاہئے۔

جناب نائیڈو نے کہا کہ کاشتکاروں نے سیلاب، خشک سالی یا وبائی مرض کے دوران بھی ملک کو مایوس نہیں کیا۔ انہوں نے زراعت کے شعبے کو منافع بخش بنانے کے لئے ٹیم انڈیا جذبے کے ساتھ مرکز اور ریاستوں دونوں سے تعاون پر مبنی کوششیں کرنے کی اپیل کی۔ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ کاشتکار غیر منظم اور بے آواز ہیں، انہوں نے کہا کہ چار P یعنی پارلیمنٹ، پالیٹکل لیڈرس، پالیسی میکرس اور پریس کو فعال طور پر زراعت سے متعلق مثبت سوچ اپنانی ہوگی۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ قرض معافی اور سبسڈی کاشتکاروں کو عارضی طور پر راحت فراہم کرتی ہیں اور یہ پائیدار حل نہیں ہیں، جناب نائیڈو نے کہا کہ کاشتکاروں کے معاوضے کو یقینی بنانے کے لئے طویل المدت اور چھوٹی مدت دونوں طرح کے اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے زراعت کو منافع بخش اور قابل عمل بنانے والے متعدد اہم اقدامات جیسے ای ۔ مارکیٹنگ، کولڈ اسٹوریج سہولیات، بلارکاوٹ بجلی کی فراہمی اور بروقت قرض فراہمی، کا ذکر کیا۔

2030 کی جانب بھارتی زراعت کے لئے روڈ میپ تیار کرنے کے مقصد سے منعقدہو رہے  تین روزہ ڈائیلاگ میں زرعی ماہرین، کاشتکار، سائنسداں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائیٹی کے اراکین شرکت کریں گے۔

اس پہل قدمی کی ستائش کرتے ہوئے، جناب نائیڈو نے امید ظاہر کی کہ وفود بھارتی زراعت کو درپیش مشکلات اور چنوتیوں کا جائزہ لیں گے اور ان سے نمٹنے اور آگے بڑھنے کے سلسلے میں مناسب مشوروں سے نوازیں گے۔ انہوں نے کہا کہ، ’’مجھے اعتماد ہے کہ ہمارے کاشتکاروں کی ذہانت اور سخت محنت ، اور ہمارے سائنسداں حضرات اور پالیسی ساز اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ ہم اپنی تہذیب کی روح اور جسم کی نشو و نما کر سکیں۔‘‘

زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر مملکت جناب پرشوتم بھائی روپالا، نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین ڈاکٹر راجیو کمار، نیتی آیوگ کے رکن پروفیسر رمیش چند، زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے سکریٹری جناب سنجے اگروال، ایف اے او کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر جنرل جناب جونگ ۔ جن کم اور ایشیا۔ پیسفک خطے کے علاقائی نمائندے، نیتی آیوگ کی سینئر ایڈوائزر (زراعت)  ڈاکٹر نیلم پٹیل، زرعی ماہرین، محققین اور کاشتکاروں نے ورچووَل طریقے سے اس تقریب میں حصہ لیا۔

****

 

ش ح ۔اب ن

U-570



(Release ID: 1690225) Visitor Counter : 7