کامرس اور صنعت کی وزارتہ

اسٹارٹ اپ انڈیا بین الاقوامی کانفرنس میں عالمی فنڈز کے ساتھ گول میز کانفرنس میں دنیا کے تقریباً 70 فنڈز نے حصہ لیا

کئی فنڈز نے مانا، بھارت میں سب سے اختراعی ملک بننے کی صلاحیت ہے

Posted On: 16 JAN 2021 11:01AM by PIB Delhi

نئی دہلی16،جنوری2021

15جنوری 2021 کو اسارٹ اپ انڈیا کے انٹرنیشنل سربراہ کانفرنس پرارمبھ کے پہلے دن صنعت اندرونی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کامرس وصنعت کی وزارت نے بھارتی وقت کے مطابق رات 10 بجے، صبح ساڑھے 8 بجے (پی ایس ٹی)، 16 جنوری 12.30 اے ایم ایس جی ٹی، 16 جنوری اور 1.30 اے ایم جے ایس ٹی پر عالمی فنڈس کے ساتھ ایک گول میز میٹنگ کا اہتمام کیا۔ اس گول میز کانفرنس میں امریکہ ، جاپان، کوریا، سنگاپور کے لگ بھگ 70 وینچر کیپٹل (وی سی)  فنڈ سرمایہ کاروں اور بھارت کے کچھ عالمی فنڈز نے حصہ لیا۔ ان فنڈز کی بھارت کے خطے میں اے یو ایم لگ بھگ 41ارب ڈالر اور عالمی اے یو ایم 143 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

اس میٹنگ کی صدارت کامرس وصنعت کے وزیر جناب پیوش گوئل نے کی اور اس میں عالمی وی سی فنڈز کے ساتھ ساتھ ڈی پی آئی آئی ٹی کے سکریٹری جناب ڈاکٹر گورو پرساد مہاپاترا(ڈی پی آئی آئی ٹی) کے جوائنٹ سکریٹری جناب انل اگروال اور بڑے بھارتی ریگولیٹرس نے حصہ لیا۔ اس گول میز کانفرنس کا مقصد عالمی فنڈز کی تشویش کو سننا موجودہ بھارتیہ اسٹارٹ وی سی ایکو سسٹم کی پیش رفت رپورٹ ساجھا کرنا اور بھارتی اختراعات میں عالمی پونجی (سرمایہ) جٹانے کے مقصد سے بھارت میں سرمایہ کاری کے لئے آگے آنے پر تبادلہ خیال کرنا اور عالمی وینچر فنڈز کے لئے کاروبار کرنے کو آسان بنانے کو فروغ دینا ہے۔

گول میز کانفرنس (تبادلہ خیال) کے دوران بہت سے موضوعات کا احاطہ کیاگیا، جن میں انڈین اسٹارٹ اپس کی بڑھتی صلاحیت، جی آئی ایف ٹی شہر میں مواقع اور وی سی اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کا وسیع تر جائزہ شامل ہیں۔ اس سیشن میں ٹاپ انضباطی امور کا بھی احاطہ کیاگیا تاکہ بھارت سرکار سے مسئلے کا حل نکالا جاسکے۔ میٹنگ میں اس بات کو اجاگر کیاگیا کہ ہندوستان دنیا میں تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم ہے اور پچھلی ایک دہائی میں اس ایکو سسٹم میں ایک ڈرامائی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ 2020 کی دوسری چھ ماہی میں کے-شکل کا سدھار درج کیاگیا ہے۔  تعلیم، صحت، کامرس اور خوراک کی یقینی فراہمی جیسے شعبوں میں مثبت اثر رہا ہے، جبکہ وہیں سفر اور مہمان نوازی جیسے سیکٹرس کا منفی اثر دیکھنے کو ملا ہے۔ کچھ فنڈز نے یہ واضح کیا ہے کہ بھارت میں اگلے 15-10 سال میں دنیا کے سب سے اختراعی ملک بننے کی صلاحیت ہے۔ کچھ شراکت داروں نے بھارت سرکار کے ارادے، رفتار، قیادت وہدایت اور ملک میں اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دینے کے لئے کئے گئے اقدامات اور موافق ماحول فراہم کرنے پر سراہنا کی۔ ان کے ذریعہ کئی تجاویز بھی دی گئیں، جن سے سیکٹر، سرمایہ کاری کے جذبے کو مضبوطی مل سکتی ہے۔ جناب گوئل نے کہا کہ سرکار نے اسٹارٹ اپ کو تعاون دینے کے لئے کئی قدم اٹھائیں گے اور مستقبل میں بھی اس سمت میں کام کرتی رہے گی۔ انہوں نے اسٹارٹ اپ کے ابتدائی مرحلے میں تعاون فراہم کرانےکے لئے وی سی کو مدعو کیا، جن سے انہیں بڑا دائرہ حاصل کرنے اور تنوع لانے میں مدد ملے گی۔

...............................................................

ش ح، ح ا، ع ر

U-459



(Release ID: 1689305) Visitor Counter : 2