پارلیمانی امور کی وزارت

سال 2020 کے آخر کاجائزہ: پارلیمانی امور کی وزارت

پارلیمنٹ نے سال 2020 کے دوران 39 بل پاس کئے

 مانسون اجلاس: لوک سبھا کی  کام کاج نمٹانے کی شرح167 فیصد اور راجیہ سبھا کی تقریبا 100.47 فیصد رہی

 پارلیمنٹ کی نئی عمارت: ‘آتم نر بھربھارت’ نظریہ کا اندرونی حصہ

 نیشنل ای –ودھان ایپلی کیشن ( این ای وی اے)- تمام 39 ایوانوں کو شامل کرنے کے لئے ایک  ای پلیٹ فارم ( پارلیمنٹ کے دونوں ایوان،31 ریاستی اسمبلیاں اور 6 کونسلس

Posted On: 31 DEC 2020 4:01PM by PIB Delhi

 قانون سازی سے متعلق  کام کاج

70 ویں لوک سبھا کے دوسرے اجلاس اور راجیہ سبھا کے 250 ویں اجلاس کے اختتام پر لوک سبھا میں کل 41 بل  (لوک سبھا میں 9 اور راجیہ سبھا میں 32 بل) زیر التوا تھے۔ اس دوران 41 بل (لوک سبھا میں 34 اور راجیہ سبھا میں 7) بل پیش کئے گئے ، جس سے کل بلوں کی تعداد82 ہوگئی۔ ان میں سے 39 بل دونوں ایوانوں کے ذریعہ پاس کئے گئے ۔  7 بل (4 لوک سبھا میں اور 3 راجیہ سبھا میں ) واپس لے لئے گئے۔  70 ویں لوک سبھا کے چوتھے اجلاس اور راجیہ سبھا کے 252 ویں اجلاس کے اختتام پر  کل 36 بل  (لوک سبھا میں 6 بل اور راجیہ سبھا میں 30 بل) زیرالتوا تھے۔

 پارلیمنٹ کا  مانسون اجلاس 2020

پارلیمانی امور کے  مرکزی وزیر   جناب پرہلاد جوشی نے مانسون اجلاس 2020 کے آخری دن  ایک  بیان میں بتایاکہ مانسون اجلاس ، 2020 کے دوران  لوک سبھا میں  کام کاج نمٹانے کی شرح  167 فیصد تھی اور راجیہ سبھا کی  تقریبا 100.47 فیصد تھی۔  انہوں نے کہاکہ  پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ،  14 ستمبر، 2020 کو شروع  ہوا تھا،  وہ یکم اکتوبر 2020 کو ختم ہونے وا لا تھا،  لیکن  کووڈ 19 وبا کے خطرات کے سبب دونوں ایوانوں میں  ضروری کام کاج نمٹانے کے بعد لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی میٹنگ بدھ ، 23 ستمبر 2020 کو  غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی ،  23 ستمبر 2020 تک  10 روز میں  10 میٹنگ  منعقد کی گئیں۔

انہوں نے بتایاکہ اجلاس کے دوران 22 بل  (لوک سبھا میں 16 اور راجیہ سبھا میں 6 بل) پیش کئے گئے تھے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں علیحدہ علیحدہ 25-25 بلوں کو منظوری دی۔ 27 بلوں کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ذریعہ  پاس کیا گیا  جو ہر روز  بلوں کے  پاس ہونے کی  سب سے اچھی شرح ہے یعنی 2.7 بل۔  11 آرڈیننسوں کا  ذکر کرتے ہوئے،  انہوں نے کہاکہ مانسون اجلاس سے پہلے لائے گئے 11 آرڈیننسوں کا مقام مانسون اجلاس ، 2020 کے دوران  پارلیمنٹ کے  ایکٹس نے لے لیا۔ انہوں نے بتایاکہ لوک سبھا میں 4 پرانے زیر التوا بلوں اورراجیہ سبھا میں ایک پرانا بل واپس لے لیا گیا۔

مالی کام کاج

سال 2020-21 کا مرکزی بجٹ یکم فروری، 2020 کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا۔ دونوں ایوانوں میں مرکزی بجٹ پر  عا م بحث ہوئی۔  لوک سبھا میں 2020-21 کے لئے   گرانٹ کی مانگوں پر بھی بحث کی اور ووٹنگ کی اور سال 2019-20 کے لئے برانڈ کی  سپلیمنٹری ڈیمانڈ کو ، سال 2020-21 کے لئے  مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر کے لئے  گرانٹ مطالبہ سال 2019-20 کے لئے مرکز کے زیرانتظام علاقہ لداخ کے لئے  گرانٹ بحث کی۔ راجیہ سبھا نے تمام  غیرمناسب بلوں کو واپس لوٹادیئے اور 31 مارچ 2020 سے پہلے  تمام مالی کام کاج پورے ہوگئے۔

بجٹ اجلاس 2020

 پارلیمنٹ کا بجٹ  اجلاس ، 2020 جو جمعہ کے روز ، 31 جنوری 2020 کو شروع ہوا، وہ  بروز پیر، 23 مارچ 2020 کو غیر معینہ مدت کے لئے  ملتوی کردیا گیا۔  اس دوران  دونوں ایوانوں کی میٹنگ بروز منگل ، 11 فروری 2020 کو  بیچ  کے وقفہ کے لئے  ملتوی کردی گئی تاکہ  مختلف وزارتوں/ محکموں سے متعلق    اسٹینڈنگ کمیٹیاں گرانٹ مانگوں کا مطالعہ کرسکیں  اور  معلومات فراہم کرسکیں۔  وقفہ کے بعد  پیر کے روز 2 مارچ 2020 کو  پارلیمنٹ کی میٹنگ دوبارہ شروع ہوئی۔

 بجٹ اجلاس پر ایک بیان میں،  مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر  جناب پرہلاد جوشی نے  بتایاکہ بجٹ اجلاس کے پہلے حصہ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کل  9 میٹنگیں ہوئیں۔ انہوں نے کہاکہ  اجلاس کے دوسرے حصہ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی 14 میٹنگیں ہوئیں۔ جناب جوشی نے بتایا ‘‘پورے بجٹ  اجلاس  2020 کے دوران  لوک سبھا اورراجیہ سبھا کی کل  23 میٹنگیں ہوئیں ۔’’ اجلاس کے دوران  کل 19 بل (لوک سبھا میں 18  اور راجیہ سبھا میں ایک) پیش کئے گئے۔ لوک سبھا نے 15 بل اور راجیہ سبھا نے13 بل پاس کئے۔  پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ذریعہ  پاس کئے گئے بلوں کی  کل تعداد 12 ہے۔  اس کے علاوہ ، راجیہ سبھا نے  2 بلوں کو  وا پس لے لیا۔

 وزیراعظم نے  پارلیمنٹ کی نئی  عمارت کا سنگ بنیاد رکھا

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے پارلیمنٹ ہاؤس کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔  نئی عمارت ‘ آتم نربھر بھارت’ کے  تصور کا ایک اندرونی حصہ ہے  اورآزادی کے بعد پہلی مرتبہ لوگوں کی  پارلیمنٹ بنانے کا ایک شاندارموقع ہوگا، جو 2022 میں آزادی کی 75 ویں سالگرہ میں  ‘نئے ہندوستان’ کی ضرورتوں اور امیدوں کوپورا کرے گا۔

وزیراعظم نے تبصرہ کیا کہ  دوسرے مقامات پر  جمہوریت انتخابی عمل،  حکمرانی اور  انتظامیہ کے بارے میں ہے۔  لیکن ہندوستان میں جمہوریت  زندگی کے  اقدار کے بارے میں ہے،  یہ زندگی اور  قوم کی روح ہے۔ انہوں نے کہاکہ  ہندوستان کی جمہوریت صدیوں کے تجربات سے  فروغ پا نے والا  ایک نظام ہے۔ ہندوستان کی جمہوریت میں  ایک جیون منتر، زندگی کاایک عنصر اور  ساتھ ہی نظام بھی ہے۔  انہوں نے کہاکہ  یہ ہندستان کی  جمہوری طاقت  ہے  جو ملک کی ترقی کو نئی بلندیاں دے رہی ہے اوراپنے اہل وطن کو نیا اعتماد  دے رہی ہے۔  انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی جمہوریت میں ہر سال لگاتار  نیاپن آرہاہے اور یہ دیکھا جارہا ہے کہ  ہر انتخاب میں رائے دہندگان کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ 

پارلیمانی امور کی وزارت نے  یوم آئین  منایا

پارلیمانی امور کی مرکزی وزارت نے  آئین کو اپنانے کی  یاد میں  یوم آئین منایا۔  عزت مآب صدرجمہوریہ نے گجرات کے  کیوڑیا سے  آئین کی روح یعنی  آئین کے پیش لفظ کو پڑھا جس میں  پارلیمانی امور کے وزیر جناب پرہلاد جوشی اور پارلیمانی امور کے وزیرمملکت جناب ارجن رام میگھوال شامل ہوئے۔  ا ٓئین کے پیش لفظ کو پڑھنے کے بعد بنیادی فرائض اور صفائی پر ایک  عہد بھی لیا گیا۔ ‘‘ بنیادی اصولوں اور آئین کے اقدار – لیجسلیچر، عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان رابطہ’’ موضوع پر نئی دہلی میں ایک ویبنار بھی منعقد کیا گیا۔

 کیوڑیامیں یوم آئین پر منعقدہ  خصوصی ملٹی میڈیا نمائش کی ممبران پارلیمان اور ممبران اسمبلی نے ستائش کی : یہاں تک کہ ہندوستان میں  صدرجمہورہ جناب  رام ناتھ کووند کی قیادت میں   آئین کے  پیش لفظ پر ملک بھر میں پڑھے جانے کے ساتھ 71 واں  یوم آئین  جوش و خروش کے ساتھ منایا۔ یوم آئین پر گجرات کے کیوڑیامیں منعقدہ  ایک خصوصی نمائش کی   ارکان پارلیمان اور  اسمبلی نے  ستائش کی ۔اس نمائش کا انعقادپارلیمنٹری  میوزیم    اینڈ آرکائیوز کے تعاون سے  اطلاعات و نشریات  کی وزارت کے بیورو آف آؤٹ ریچ میوزیم اینڈ آرکائیوز کمیونی کیشن  کے ذریعہ گجرات میں  اسٹیچو آف یونیٹی کے مقام پر  آل انڈیا کانفرنس آف پریزائڈنگ افسران کے 80 ویں حصہ کے طور پر  کیا گیا تھا۔ نمائش کا افتتاح لوک سبھا اسپیکر جناب اوم برلا نے کیا۔  نمائش میں لچھوی ریپبلک کے توسط سے  ویدک دور سے لے کر  جدید ہندوستان کی تعمیر تک  ملک میں   جمہوری روایات کے سفر کو  دکھایا گیا تھا۔

80 ویں آل انڈیا پریزائڈنگ افسران کی دوروزہ کانفرنس

آل  انڈیا پریزائڈنگ افسران کی 80 ویں دوروزہ اجلاس کو  گجرات کے  کیوڑیا میں26 نومبر2020 کو وزیراعظم جناب نریندر مودی نے  خطاب کیا۔ اس کا افتتاح  صدرجمہوریہ ہند  کے ذریعہ کیا گیا۔ یوم آئین کے  فیسٹول کے  موقع پر وزیراعظم کاخطاب اہم ہے کیوں کہ  پروگرام کا مرکزی خیال  ریاست کے تینوں  حصوں- قانون ساز، عدلیہ اورانتظامیہ کے درمیان تال میل  اور رابطہ رکھا گیا تھا۔

 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جناب وزیراعظم نے، دیگربلوں کے علاوہ ملک بھر کے قانون ساز اداروں کے تمام پریزائڈنگ افسران سے  ریاستی اسمبلیوں کے مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی سمت میں  آگے بڑھنے کی اپیل کی تاکہ  اسمبلیوں کے کام کاج کو کاغذ کے بغیرقانون سے متعلق بنایا جاسکے اور  کونسل میں اختراع اور ٹکنالوجی کو اپنا یاجاسکے۔ وزیراعظم پریزائڈنگ افسران سے اس نظام کو اپنانے کی بھی  اپیل کی جس میں نہ صرف  بلوں ، بلکہ ملک کے تمام شہریوں کی  مرکزی ڈیٹابیس تک رسائی  ہو اورانہیں فوری طور پر تمام اہم  معلومات حاصل ہوسکیں۔  اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے،  تمام اسمبلیوں میں کاغذات کے بغیر  کام کاج کے مقصد سے ڈیجیٹل  انڈیا پروگرام کے تحت  ایک ایم ایم پی کے طور پر  پارلیمانی امور کی وزارت،  حکومت ہند کے تحت نیشنل ای- ودھان اپلیکیشن ( این ای وی ا ے) تیار کیا جاچکا ہے۔

ون نیشن ون اپلیکیشن: نیشنل ای- ودھان اپلیکیشن ( این ای وی ا ے)

‘ ای- ودھان ’ ملک کو ڈجیٹل طریقہ سے مستحکم سماج اور  علمی معیشت میں بدلنے کے تصور سے  حکومت ہند کے ذریعہ ڈجیٹل انڈیا پروگرام کے تحت  شروع کیا گیا  44 مشن موڈ پروجیکٹس (ایم ایم پی) میں سے ایک ہے ۔  پارلیمانی امور کی وزارت کو ای- ودھان ایم ایم پی  کے نفاذ  کے لئے ‘ مرکزی وزارت’ بنایا گیا ہے، اسے ہماچل پردیش، ریاستی اسمبلی کی  طرز پر تمام 31 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں  نیشنل  ای- ودھان اپلیکیشن (این ای وی  اے)  کے طور پر   نیا نام دیا جارہا ہے تاکہ ریاستی اسمبلیوں کے کام کاج کو کاغذ کے بغیر ممکن بنایا جاسکے۔

 ہماچل پردیش  ریاستی اسمبلی کے ای- ودھان سافٹ ویئر کو ملک کی  قانون بنانے والی تمام اسمبلیوں کو  ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لئے ملک کے تمام 39 ایوانوں (لوک سبھا+راجیہ سبھا+31 ریاستی اسمبلیوں+ 6قانون ساز کونسلوں) کوشامل کرتے ہوئے   اس ایک اپلیکیشن کو نیشنل ای ودھان اپلیشن کیشن (این ای وی اے) کے طور پر  اپ گریڈ کیا گیا تھا، جس سے  متعدد اپلیکیشنز کی پیچیدگی کے بغیر ایک عظیم ڈیٹا اسٹوریج بنایاجاسکے۔

پارلیمانی  امور کی وزارت نے حال ہی میں بلوں،  کمیٹی کے موڈیول اور رپورٹر کے موڈیول کے ساتھ ساتھ تمام  لیجسلیچر اسمبلیوں کے لئے ‘ڈجیٹل ہاؤس’  اپلیکیشن سوٹ کا نیاموڈیول فروغ دینے کا کام  پورا کیا ہے۔ دیگرموڈیول جو پہلے فروغ دیئے گئے تھے،انہیں بھی اپ گریڈ کردیا گیا ہے جیسے  سوال پروسیسنگ، یوزرمینجمنٹ، ڈپارٹمنٹ موڈیول، ارکان کاموڈیول ، وزیر کا موڈیول، ماسٹرڈیٹا وغیرہ۔ اینڈرائڈ  اور آئی او  ایس پروسیسنگ دونوں میں  موبائل اپلیکیشن کو بھی  نئی خصوصیات کے ساتھ  اپ گریڈ  اور ترمیم کیا گیا ہے۔

این ای وی اے کے نفاذ کے لئے  مفاہمت نامہ  ( ایم او یو)  پر  ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقے کے ساتھ  دستخط کئے گئے ہیں  جیسے  بہار  (اسمبلی)، بہار(  کونسل )، پنجاب، اڈیشہ، میگھالیہ، منی پور ، گجرات، اروناچل پردیش،  ناگالینڈ، پوڈوچیری،  تریپورہ ۔  این وی ای کے پروجیکٹ کی منظوری کے لئے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ  ( ڈی پی آر)  بہار  ( ا سمبلی اور کونسل) ، پنجاب، اڈیشہ، میگھالیہ، منی پور کے ذریعہ دے دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ  پنجاب، اڈیشہ، بہار (دونوں ایوانوں) ، ناگالینڈ کے لئے  این ای وی اے پروجیکٹ کو منظوری دے دی گئی ہے اور  مرکزی مالی گرانٹ کی پہلی قسط جاری کردی گئی ہے۔

قومی نوجوانوں سے متعلق اسکیم کا ویب  پورٹل : راشٹریہ یووا سنسد یوجنا(این وائی پی ایس) https://nyps.mpa.gov.in/ پر مبنی ایک نیا پورٹل پروسیس میں سدھار کے ساتھ 26 نومبر  2019 کو نوجوانوں کے  پارلیمانی پروگرام کے  بہتر نفاذ کے لئے  فروغ دیا گیا تھا۔ یہ پورٹل ویب سائٹ پر دستیاب مٹیریل کی بنیاد پر  تربیت کے لئے  تعلیمی اداروں کے رجسٹریشن کے ساتھ  ڈجیٹل طور سے آغاز کرنے کے لئے  پورے پروگرام کو شروع سے آخر تک  فراہم کرتا ہے اور منعقدہ  یوواسنسد کی رپورٹ دیتا ہے اور آخر میں  حصہ داری سرٹیفکیٹ کو ڈجیٹلی نکالتا ہے۔  آئی سی ٹی  کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے ہر کونے اور تمام  طلباء کے لئے  یووا سنسد کاایک نیا پروگرام شروع کرنے کی فروری ضرورت محسوس کی گئی تاکہ  جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کرنے،  ڈسپلن کی  صحتمند عادتوں کو دل میں بٹھانے، دوسرے کے خیالات کو برداشت کرنے کی صلاحیت  فروغ دینے اور  طلباء میں پارلیمانی اور  جمہوری اداروں کے کام کاج کی سمجھ پیدا کرنے کے مقاصد کو  حاصل کیا جاسکے ۔ پارلیمانی امور کی وزارت ملک کے تقریبا ً 8000 اسکولوں/یونیورسٹیوں اورکالجوں میں  یووا سنسد مقابلوں کا انعقادکررہی ہے تاکہ نوجوانوں کے دل میں جمہوری اقدار اور اخلاقی اقدار کو بٹھایا جاسکے۔

کووڈ 19 کے سبب  رکن پارلیمان کی  30 فیصد تنخواہ  میں کٹوتی

باقی تمام دنیا کی طرح، ہندوستان بھی  کورونا وائرس (کووڈ19) وبا سے جوجھ رہا ہے، جس کا ملک کے  عوام کی صحت پر  سنگین اثر پڑا ہے اور  مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس وبا کی روک تھام اور اسے پھیلنے سے روکنے کے لئے  فوری راحت اور  ایمرجنسی امداد ی  تدبیر سے تیزی سے کی جارہی ہیں۔ اس طرح کے حالات کے انتظام اوران پر قابو پانے  کے لئے ، ارکان پارلیمان کی تنخواہ میں کٹوتی سمیت  مختلف ذرائع سے وسائل جمع کرنا ضروری ہوگیا۔

 کابینہ نے  6 اپریل، 2020 کو ہوئی میٹنگ میں  پالیمانی امور کی وزارت کی  اس تجویز کو منظوری دے دی جس میں  کورونا وائرس(کووڈ19) وبا سے پیدا شدہ  فوری ضروریات کو  پورا کرنے کے لئے   یکم اپریل 2020 سے ایک سال کے لئے  ارکان پارلیمان کی تنخواہ میں  30 فیصد کٹوتی کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ نتیجتاً، ارکان پارلیمان کی تنخواہ، بھتے اور  پنشن ( ترمیم شدہ) آرڈینینس 2020 ( 2020 کا نمبر3) کو  7 اپریل ، 2020 کو  جاری کردیا گیا تاکہ  کورونا وائرس  (کووڈ19) وبا سے پیدا شدہ  فوری ضروریات کو  پورا کرنے کے لئے  ارکان پارلیمان کی تنخواہ میں یکم اپریل، 2020 سے ایک سال تک 30 فیصد کی کٹوتی کی جاسکے۔

اس  آرڈینینس کے مقام پر ارکان پارلیمان  (ترمیم شدہ ) کی تنخواہ، بھتے اور پنشن ایکٹ 2020 کو 14 ستمبر 2020 کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا  اور 15 ستمبر 2020 کو اسے پاس کردیا گیا۔  راجیہ سبھا نے 18 ستمبر کو اس بل کو پاس کردیا۔  بل کو  عزت مآب صدرجمہوریہ ہند نے 24 ستمبر 2020 کے ایکٹ نمبر 19 کے طور پر اپنی منظوری دی۔

 مذکورہ بالا کے علاوہ  ارکان پارلیمان کی تنخواہ اوربھتوں کو  مشترکہ کمیٹی نے  5 اور 6 ا پریل 2020 کو اپنی میٹنگ میں (i) یکم اپریل 2020 سے نافذ العمل ایک سا ل کی مدت کے لئے  انتخابی  حلقے بھتے سے  فی ماہ 30 فیصد کی کٹوتی اور  (ii) ایک سا ل کی مدت کے لئے  دفتری اخراجات  بھتے (صرف اسٹیشنری اخراجات سے، مستقل کارکنان کی  تنخواہ سے نہیں) سے فی ماہ 30 فیصد کی کٹوتی۔ وزارت نے اسے  اپنی منظوری دی اوراس کے بعد 7 اپریل 2020 کو پارلیمنٹ کے  لوک سبھا/راجیہ سبھا سکریٹریٹ کے ذریعہ اس سے متعلق اعلانیہ جاری کیا گیا۔

مشاورتی کمیٹیاں

وزارت، ا رکان پارلیمان کی  مشاورتی کمیٹیوں کا قیام کرتی ہے اور  اجلاس اور  وقفہ اجلاس کی مدت کے دوران  ان کی میٹنگیں منعقد کرنے کا انتظام  کرتی ہے۔  17 ویں لوک سبھا  کے قیام کے بعد مختلف وزارتوں/ محکموں کے لئے 37 مشاورتی کمیٹیوں کا قیام کیا گیا تھا۔ سال کے دوران  مندرجہ ذیل کام کئے گئے:

  • محنت اور روزگار کی وزارت کے لئے ایک مشاورتی کمیٹی کا قیام 28 جولائی، 2020 کو کیا گیا تھا۔
  •  مختلف مشاورتی کمیٹیوں کی 16 میٹنگیں منعقد ہوئیں  اور کووڈ 19 کے سبب   7 مقررہ میٹنگوں کو  ملتوی کرنا پڑا۔
  • 13 ارکان پارلیمان ( لوک سبھا و راجیہ سبھا)  حکومت ہند کے ذریعہ  قائم مختلف کمیٹیوں/ کونسلوں/ بورڈوں وغیرہ کے لئے نامزد کئے گئے تھے۔
  •  مختلف مشاورتی کمیٹیوں کی  فہرست سے 63 ارکان کی  رکنیت ہٹانے کاکام ان کے استعفے/ سبکدوشی/ وفات وغیرہ کے سبب کیا گیا۔

 

 

***************

)م ن ۔ ش ت۔ف ر)

U-8586



(Release ID: 1686748) Visitor Counter : 7