سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

ڈاکٹر ہرش وردھن نے ڈی بی ٹی- ٹی ایچ ایس ٹی آئی فریدہ آباد میں ورچوئل پلیٹ فارم کے ذریعہ سی ای پی آئی سنٹرلائزڈ نیٹ ورک کا افتتاح کیا

سی ای پی آئی سنٹرلائزڈ لیباریٹری فرید آباد کے ڈی بی ٹی-ٹی ایچ ایس ٹی آئی میں اپنی نوعیت  کی پہلی اور دنیا میں 7 میں سے ایک لیباریٹری ہے

ڈاکٹر ہر ش وردھن نے کووڈ-19 کے لئے سائنسی اور ٹیکنالوجیائی حل سے متعلق ڈی بی ٹی کی ایک ای-بُک کا بھی اجرا کیا اور وشاکھاپٹنم کے، اے ایم ٹی زیڈ کی طرف سے ڈی بی ٹی کے اشتراک سے ایک کروڑ تشخیصی کٹ کی کامیاب تیاری کا اعلان کیا

عالمی وبا کووڈ-19 سے نمٹنے کی مؤثرمداخلتوں کی راہ ہموار کرنے کے لئے  ڈی بی ٹی اور بی آئی آر اے سی گزشتہ 10 مہینوں سے انتھک طور پر سرگرم ہیں:ڈاکٹر ہرش وردھن

سی ای پی آئی لیباریٹری  عالمی سطح پر ویکسین بنانے اور اُسےعالمی طور پر تسلیم کرانے کے لئےٹی ایچ ایس ٹی آئی کی  خدمات کے معیار کو بلند کرنے والی لیباریٹریوں میں ایک بڑا اضافہ ہوگی: ڈاکٹر ہرش وردھن






Posted On: 05 JAN 2021 5:27PM by PIB Delhi

سائنس اور ٹیکنالوجی، صحت اور خاندانی بہبود اور ارضیاتی سائنس کے وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج نئی دہلی میں ورچوئل پلیٹ فارم کےذریعے فرید آباد میں واقع ٹرانسلیشنل ہیلتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (ڈی ایچ ایس ٹی آئی) میں قائم وباؤں سے نمٹنے کی تیاری سے متعلق اخترعات سامنے لانےوالی سنٹرلائزڈنیٹ ورک  لیباریٹری کے نام سے موسوم 7 لیباریٹریوں میں سے ایک کا افتتاح کیا۔فریدآباد میں ٹی ایچ ایس ٹی آئی بایو ٹیکنالوجی محکمے ( ڈ ی بی ٹی) کا ادارہ ہے۔ ہندوستان میں اپنی نوعیت کی یہ واحد لیباریٹری ہے، جو نیشنل ایکریڈیشن بورڈ فار ٹیسٹنگ اینڈ کیلیبریشن لیباریٹریوں (این اے بی ایل) سے بھی تسلیم شدہ ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003FDCL.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00422OI.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005GNJ2.jpg

ڈی بی ٹی کی سکریٹری ڈاکٹر  رینو سوروپ ، ڈی بی ٹی کے جوائنٹ سکریٹری اور بی آئی بی سی او ایل کے منیجنگ ڈائرکٹر جناب چندر پرکاش گوئل، ایڈیشنل سکریٹری اور مالی مشیر مسٹر وشوا جیت سہائے، ڈی بی ٹی کی مشیر ڈاکٹر الکا شرما، ٹی ایچ ایس ٹی آئی کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹر (آفیسر انچارج)، این آئی اے بی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سبیر ایس مجومداروشاکھا پٹنم کے آندھرا میڈٹیک زون (اے ایم ٹی زید ) کے منیجنگ ڈائرکٹر ڈاکٹر جتیندر شرما، ڈی بی ٹی، ‘ای’ کے سائنس داں ڈاکٹر جیوتی ایم لوگانی بھی اس موقع پر موجود تھے اور ڈی بی ٹی اور ٹی ایچ ایس ٹی آئی کے کئی سائنس داں اور افسران نے تقریب میں آن لائن شرکت کی۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈاکٹر ہرش وردھن نے ڈی بی ٹی اور بی آئی آر اے سی کی عالمی وبا کووڈ سے مقابلہ کرنے کےلئے مؤثر مداخلتیں سامنے لانے کی 10 ماہی انتھک کوششوں کےلئے ستائش کی۔ انہوں نے کہاکہ عالمی سطح پر ویکسین بنانے اور اسے عالمی سطح پر تسلیم کرانے کےلئے مطلوب معیار بلند کرنے کی خاطر ٹی ایچ ایس ٹی آئی کی صلاحیت میں سی ای پی آئی لیباریٹری ایک زبردست اضافہ ہوگی۔

وزیر موصوف نے بڑی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ہندوستانی سائنس دانوں نے مشکل دنوں سے گزرنے والے  پچھلے سال کے دوران عالمی سطح کے کووڈ کٹس اوراس سے متعلق مصنوعات کے درآمدکار سے ملک کو برآمدکار بنایا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سائنس دانوں ، کووڈ سے محاذی سطح پر لوہا لینے والوں اور عام لوگوں نے سامنے آ کر پوری تندہی کے ساتھ اس وبا کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کووڈ-19 کے خلاف ویکسین تیار کرنے میں پیش پیش ہے اور 30 مین سے 2 ویکسینوں کوڈرگ کنٹرولر نے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔ باقی  ویکسین ایڈوانس مرحلے میں ہے۔

سی ای پی آئی کو 2017 میں داؤس میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد مستقبل کی عالمی وباؤں کو روکنے کاویکسین تیار کرنا تھا۔ یہ عوامی، نجی، رفاعی  اور سول تنظیموں کی اختراعی ساجھیداری کا نتیجہ ہے۔ حکومت ہند کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کے بایو ٹیکنالوجی کا محکمہ تیزی سے ویکسین کی تیاری کے مشن کو عمل میں لا رہا ہے۔ ہند سی ای پی آئی مشن کا مقصد ہندوستان کو عالمی وبا جیسی بیماریوں کے لئے ویکسین کی تیاری کوتقویت دیناہے۔ اسی کے ساتھ ہندوستان میں موجود اور ابھرنے والے متعدی خطرات سے نمٹنے کے لئے ہندوستان کے پبلک ہیلتھ سسٹم اور ویکسین انڈسٹری کے درمیان ارتباط کو فروغ دینا ہے۔

باہمی ویکسین نیٹ ورک کےلئے جن نمونے کی جانچ کرنے والی لیباریٹریوں کا انتخاب کیا گیا ہے وہ حسب ذیل ہیں:نیکسلس (کناڈا) اور پبلک ہیلتھ انگلینڈ (پی ایچ ای، یوکے)، وِس میڈیریسل(اٹلی)، وائرفوکلنکس، بایوسائنسز بی وی( ہالینڈ)، کیو2 سالیوشن (یو ایس اے)، انٹر نیشنل سنٹر فار ڈائرویل ڈیسیز ریسرچ بنگلہ دیش (آئی سی ڈی ڈی آر-بی، بنگلہ دیش)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بایولوجیکل اسٹینڈرڈس اینڈ کنٹرول (این آئی بی ایس سی-یو کے) اور ٹرانسلیشنل ہیلتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجیکل انسٹی ٹیوٹ (ٹی ایچ ایس ٹی آئی، انڈیا)۔ سی ای پی آئی نے اس نیٹ ورک کے لئے ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک کی منظوری دے دی ہے۔ کووڈ-19 ویکسین تیار کرنے والے سبھی ادارے اس نیٹ ورک  کو کسی ادائیگی کے بغیر استعمال کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے اس موقع پر کووڈ-19 کے لئے سائنسی اور ٹیکنالوجیائی حل پر ایک ای-بُک کا بھی اجرا کیا، جس میں اس عالمی وبا کو ختم کرنےکے لئے بایو ٹیکنالوجی کے محکمے کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو پیش کیا گیا ہے۔ ای-بک میں کووڈ-19 کوختم کرنے کی ڈی بی ٹی کی تائید یافتہ دیسی کوششوں کو بھی دکھایا گیاہے۔

:Please click here for Background note

*************

( م ن ۔ع س۔  ک ا)

U. No. 140



(Release ID: 1686503) Visitor Counter : 5