صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

قومی خاندانی صحت جائزہ-5


پہلے مرحلے کی ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں کے 342 اضلاع سے متعلق ضلع سطحی حقائق کے اعداد وشمار جاری کئے

قومی خاندانی صحت جائزہ-5 میں جن نئے شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ان میں بچوں کی ٹیکہ کاری،  بچوں کے لئے مائیکرو تغذیہ، حیض سے متعلق صفائی ستھرائی الکوحل اور تمباکو کے استعمال کا تواتر، غیر متعدی  امراض( این سی ڈی) 15 سال اور اس سے زیادہ عمر والوں میں ہائپر ٹینشن اور ذیا بیطس کا پتہ لگانے کو شامل ہے

Posted On: 15 DEC 2020 12:00PM by PIB Delhi

 حکومت ہند کے صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر  ڈاکٹر ہرش وردھن نے12 دسمبر 2020 کو یونیورسل  ہیلتھ کوریج  ڈےکے موقع پر   2020-2019 قومی خاندانی صحت جائزہ( این ایف ایچ ایس-5) کے پہلے مرحلے میں 22 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں کے لئے آبادی، تولیدی صورتحال اور بچوں کی صحت، خاندانی بہبود تغذیہ اور دیگر معاملات کے کلیدی اشاریوں سے متعلق حقائق نامہ جاری کیا ہے۔

یہ نتائج وزارت کی ویب سائٹ  www.mohfw.gov.in   پر دستیاب ہیں۔پہلے مرحلے کی ان 22 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں آندھرا پردیش، آسام، بہار، گوا، گجرات، ہماچل پردیش، کرناٹک، کیرل ، مہاراشٹر،منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگا لینڈ، سکم، تلنگانہ، تریپورہ، مغربی بنگال، انڈومان ونکوبار جزائر، دادرہ اور نگر حویلی اور دمن و دیو، جموں وکشمیر،لداخ اور لکشدیپ  شامل ہیں۔بقیہ 14 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں( مرحلہ دو) میں جائزے کا کام جاری  ہے۔

این ایف ایچ ایس کا اہم مقصد صحت خاندانی بہبود اور دیگر ابھرتے ہوئے مسائل کے بارے میں قابل اعتماد اور قابل تقابل اعداد وشمار فراہم کرانا ہے۔ بھارت میں این ایف ایچ ایس کے 4 ادوار(1992-1993,1999 1998 کے علاوہ 2005,2006  اور2016-2015)  کا کام کامیابی کے ساتھ مکمل کیاگیا ہے۔این ایف ایچ ایس کے تمام ادوار کا کام قومی نوڈل ایجنسی کے طور پر انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پاپولیشن سائنسز(آئی آئی پی ایس) ممبئی نے انجام دیا ہے۔اس سے قبل صحت کی وزارت  اپنے آپ ہی ضلع سطح کے صحت جائزے( ڈی ایل ایچ ایس) اور سالانہ صحت جائزے(اے ایچ ایس)  انجام دیا کرتی تھی۔صحت اور خاندانی کی وزارت نے قومی ریاستی اور ضلعی سطحوں پر بار بار وقت پر اور مناسب اعداد وشمار کی ابھرتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے 2016-2015 سے مختلف جائزوں کی جگہ تین سال کی مدت والا جامع این ایف ایچ ایس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ این ایف ایچ ایس-5 ضلعی سطح پر علیحدہ علیحدہ اعداد وشمار فراہم کرانے کے لئے 6.1 لاکھ نمونہ گھروں میں کیا جارہا ہے۔ تیار ہونے کے بعد یہ اعداد وشمار کسی طرح کی معلومات کے نقصان کے بغیر این ایف ایچ ایس -4 کے مساوی ہوں گے۔

جاری کردہ ریاستی حقائق نامے میں 131 کلیدی اشاریوں سے متعلق معلومات کو شامل کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے کی ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں کے 342 اضلاع پر مشتمل ضلع سطحی حقائق نامے 14 دسمبر 2020 کو وزارت کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کئے گئے ہیں اور ان میں 104 کلیدی اشاریوں سے متعلق معلومات دی گئی ہیں۔ یہ  اہم اشاریے آبادی، صحت وخاندانی بہبود، تغذیہ اور دیگر معاملات سے متعلق ہیں۔ جن سے ملک میں پائیدار ترقی کے مقاصد کے سلسلے میں ہونے والے کام کاج کا پتہ لگانے میں مدد ملے گی۔این ایف ایچ ایس -5 کے کئی  اشاریے این ایف ایچ ایس۔4 کے مساوی  ہیں جو کہ وقت گزرنے پر تقابل کو ممکن بنانے کے لئے 2016-2015 میں انجام دیا گیا تھا ۔ لیکن این ایف ایچ ایس-5 میں نئے شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ان میں بچوں کی ٹیکہ کاری،  بچوں کے لئے مائیکرو تغذیہ کی مشمولات، حیض سے متعلق صفائی ستھرائی،  الکوحل اور تمباکو کے استعمال کا تواتر، غیر متعدی  امراض(این سی ڈی) کی اضافی مشمولات،  15 سال اور اس سے زیادہ عمر والوں میں ہائپر ٹینشن اور ذیا بیطس کا پتہ لگانے کو شامل  کیا گیا ہے۔اس سے موجودہ پروگراموں کو مستحکم   کرنے اور پالیسی سازی کے لئے نئی حکمت عملی وضع کرنے کے مقصد سے مطلوبہ مادخل حاصل ہوگا۔

ریاست/ مرکز کے زیرانتظام خطوں کے حقائق نامے کے کلیدی نتائج درج ذیل ہیں:

  • پہلے مرحلے کی تقریباً تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام خطوں میں این ایف ایچ ایس-4 کے بعد سے مجموعی تولیدی شرحوں(ٹی ایف آر) میں مزید گراوٹ آئی ہے۔22 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں سے 19 میں تولید کی تبدیل شدہ سطح (2.1) حاصل کی گئی اور محض 3 ریاستوں یعنی منی پور(2.2)، میگھالیہ(2.9) اور بہار(3.0) میں  ٹی ایف آر تبدیل شدہ سطحوں سے اوپر ہے۔
  • بیشتر ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں مانع حمل اشیاء کے رواج کی شرح(سی پی آر) میں کافی اضافہ ہوا ہے اور ہماچل پردیش  اور مغربی بنگال میں یہ سب سے زیادہ( 74 فیصد) ہے۔تقریباً تمام ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں جدید مانع حمل طریقوں کے  استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔
  • خاندانی منصوبہ بندی کی نا تکمیل شدہ ضرورتوں میں پہلے مرحلے کی بیشتر ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطے میں کمی دیکھی گئی ہے۔ مقام کی نا تکمیل شدہ  ضرورت  بھارت میں  ایک بڑا مسئلہ رہ گیا ہے۔اب میگھالیہ اور میزورم کو چھوڑ کر تمام ریاستوں میں یہ 10 فیصد سے کم ہوئی ہے۔
  • ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں/ اضلاع میں 12 سے 23 ماہ کے بچوں میں مکمل ٹیکہ کاری کی مہم میں کافی بہتری درج کی گئی ہے۔ ناگا لینڈ ، میگھالیہ اور آسام کو چھوڑ کر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام خطوں میں دو تہائی سے زیادہ بچوں کی مکمل ٹیکہ کاری  کی گئی ہے۔تقریباً تین چوتھائی اضلاع میں 12 سے 23 ماہ کے 70 فیصد  یا اس سے زیادہ بچوں  کی  بچوں کے امراض کی ٹیکہ کاری کی گئی ہے۔

این ایف ایچ ایس-4  اور این ایف ایچ ایس-5 کے اعداد وشمار کاموازنہ کرنے پر کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں مکمل ٹیکہ کاری کے کوریج میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔گزشتہ 4 سال کی قلیل المدت میں  22 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں سے 11 میں یہ  اضافہ 10 فیصد تک رہا،4 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں یہ  اضافہ 9-5 فیصد تک دیکھا گیا۔اس کی وجہ  حکومت کے ذریعہ  2015 سے شروع کیا گیا مشن اندر دھنش رہا ہے۔

  • کئی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام خطوں میں اے این سی کے4 یا اس سے زیادہ دورے جن خواتین کے پاس ہوئے ہیں۔ان کی فیصد میں اضافہ ہوا ہے۔2016-2015 سے لے کر 2020-2019 تک کے درمیان 13 ریاستوں/ مرکز کے زیرانتظام خطوں میں اس فیصد میں اضافہ ہوا ہے۔
  •  اسپتال میں زچگی کی شرح میں  کافی اضافہ ہوا ہے اور 19 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں80 فیصد سے زیادہ  خواتین کی زچگی اسپتالوں میں ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں سے 14 میں اسپتال میں زچگی 90 فیصد سے زیادہ رہی ہے۔اس جائزے کے قبل سے 5 برسوں میں تقریباً 91 فیصد اضلاع میں اسپتالوں میں زچگی کی شرح 70 فیصد سے زیادہ درج کی گئی ہے۔
  • اسپتال میں زچگی کے معاملات میں اضافے کے ساتھ ساتھ کئی ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں خصوصی طور پر پرائیویٹ صحت سہولیات  میں سی – سیکشن زچگی کی شرح میں کافی اضافہ ہوا ہے۔
  •  بیشتر ریاستوں/ مرکز کے زیرانتظام خطوں میں پیدائش کے صنفی تناسب میں یا تو کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے یا اضافہ ہوا ہے۔ بیشتر ریاستوں میں 952 یا ا س سے زیادہ کا عام صنفی تناسب برقرار رہا ہے۔ 900 سے کم صنفی تناسب تلنگانہ، ہماچل پردیش، گوا، دادرہ نگر حویلی اور دمن ودیو میں رہا ہے۔

•   بچوں کی تغذیہ سے متعلق اشاریے ریاستوں میں ایک ملی جلی نوعیت ظاہر کرتے ہیں۔حالانکہ کئی ریاستوں ؍مرکز کے زیر انتظام خطوں میں حالات بہتر ہوئے ہیں، تاہم کچھ دیگر ریاستوں میں حالات معمولی خراب ہوئے ہیں۔اسٹنٹنگ اور ویسٹنگ کے حوالے سے زبردست تبدیلیوں کی قلیل مدت میں توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔

•   خواتین اور بچوں میں خون کی کمی مسلسل باعث تشویش بنی ہوئی ہے۔22 ریاستوں ؍مرکز کے زیر انتظام خطوں کے 13 میں نصف سے زائد بچے اور خواتین خون کی کمی میں مبتلا ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ حاملہ خواتین میں خون کی کمی میں اضافہ  این ایف ایچ ایس-4کے مقابلے نصف ریاستوں؍ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں ہوا ہے، جبکہ 180 دنوں یا اُس سے زیادہ دنوں تک حاملہ خواتین کے ذریعہ آئی ایف اے  کی گولیوں کی کھپت میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

•   خواتین اور مرد دونوں کے لئے ریاستوں؍ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں ہائی یا بہت ہائی رینڈم خون میں گلوکوز  کی سطحوں میں کافی فرق ہے۔مرد وں میں خواتین کے مقابلے میں خون میں گلوکوز کی سطح تھوڑی زیادہ پائی جاتی ہے۔ہائی یا بہت ہائی خون میں گلوکوز والے مردوں کی فیصد کیرالہ (27) میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد 24 فیصد کے ساتھ گوا کا نمبر آتا ہے۔مردوں میں الیویٹیڈ بلڈ پریشر(ہائیپرٹینشن)خواتین کے مقابلے میں کسی قدر زیادہ ہے۔

•   پچھلے چار سالوں(16-2015 سے20-2019 تک)میں تقریباً تمام  22 ریاستوں ؍مرکز کے زیر انتظام خطوں میں صفائی کی سہولت اور کھانا پکانے کےلئے صاف ستھری ایندھن میں بہتری والے گھرانوں کی فیصد میں اضافہ ہوا ہے۔حکومت ہند نے سووچھ بھارت مشن کے تحت زیادہ سے زیادہ گھرانوں کو بیت الخلاء کی سہولیات فراہم کرانے کے لئے مرکوز کوششیں کی ہیں اور ملک میں پردھان منتری اجولا یوجنا کےذریعے گھروں کے  ماحول  کو بہتر بنایا ہے۔مثال کے طورپر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں پچھلے پانچ برسوں کے دوران کھانا پکانے کے ایندھن کے استعمال میں 10 فیصد پوائنٹ سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ کرناٹک اور  تلنگانہ میں 25 فیصد پوائنٹ کا اضافہ ہوا ہے۔

•   خواتین کو با اختیار بنانے کے اشاریے مرحلہ1 میں شامل تمام ریاستوں؍ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں قابل لحاظ بہتری کو ظاہر کرتے ہیں۔بینک کھاتوں والی خواتین کے سلسلے میں این ایف ایچ ایس -4اور این ایف ایچ ایس -5 کے درمیان قابل لحاظ پیش رفت  درج کی گئی ہے۔مثال کے طورپر بہار کو لے لیجئے۔ یہاں 26 فیصد سے لے کر 77 فیصد تک 51 فیصد پوائنٹ کا اضافہ ہوا ہے۔پہلے مرحلے میں ہر ایک ریاست اور مرکز کے زیر انتظام خطے میں 60 فیصد سے زیادہ خواتین کے پاس چالو بینک کھاتے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال کے ساتھ ساتھ سروے کے وقت کے دوران کیرالہ میں آئے سیلاب سے زچہ بچہ نگہداشت خدمات کے استعمال پر اثر پڑا ہے۔ تریپورہ میں چار اضلاع سے جو اس سے پہلے این ایف ایچ ایس -4کے وقت میں موجود تھے، 8 نئے اضلاع کی تشکیل کی گئی، جنہیں این ایف ایچ ایس-5 میں شامل کیا گیا تھا۔اس کی وجہ سے آبادی میں کمپوزیشنل تبدیلیاں ہوسکتی ہیں، جو ریاست کے کچھ اشاریے کی کچھ سطحوں پر منفی اثرڈالنے والے عوامل میں سے ہیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چھوٹی ریاستوں؍مرکز کے زیر انتظام خطوں  کے رجحانات کا موازنہ کرتے ہوئے جہاں نمونے کے سائز چھوٹے ہیں، وہاں مناسب احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

جنوری 2020ء میں دوسرے مرحلے میں 14 ریاستوں ؍مرکز کے زیر انتظام خطوں میں فیلڈ ورک کا آغاز کیا گیا تھا۔قومی لاک ڈاؤن (مارچ 2020ء کے آخر میں)کے وقت تقریباً 38 فیصد فیلڈ ورک ان ریاستوں؍ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں پورے ہوگئے تھے۔لاک ڈاؤن میں تخفیف کے ساتھ ان ریاستوں؍ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں وسط نومبر 2020ء سے فیلڈ ورک  دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔موجودہ کووڈ-19کی صورتحال کے پیش نظر مرحلہ -2 کی ریاستوں ؍ مرکز کے زیر انتظام خطوں میں فیلڈ ورک دوبارہ شروع کرنے کے لئے سروے پروٹوکول اور احتیاطی اقدامات میں ضروری نظر ثانی کرنے کے لحاظ سے بہت ساری منصوبہ بندی اور تیاریاں کی گئی ہیں۔فروری ؍مارچ 2021ء تک فیلڈ ورک ختم ہونے کی توقع ہے اور دوسرے مرحلے کی ریاستوں ؍مرکز کے زیر انتظام خطوں کے لئے کلیدی اشاریے مئی 2021ء  کے قریب دستیاب ہوں گے۔زیادہ تر ایس ڈی جی صحت اشاریوں سمیت قومی سطح کے اشاریوں کے جون ؍جولائی 2021ء تک دستیاب ہونے کی توقع  ہے۔

 

******

 

 

م ن۔  ا گ ۔ن ا۔ن ع۔ ر ض

U-NO.8097



(Release ID: 1680757) Visitor Counter : 225