جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت

وزیر اعظم 26 نومبر 2020 کو ری انویسٹ – 2020 کا افتتاح کریں گے

گزشتہ 6 برسوں میں بھارت میں 4.7 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، بھارت قابل تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لئے پسندیدہ مقام بن گیا ہے: جناب آر کے سنگھ

Posted On: 19 NOV 2020 4:07PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  19 /نومبر 2020 ۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی 26 نومبر 2020 کو ورچول تیسرے گلوبل رینیوایبل انرجی انویسٹمنٹ میٹنگ اینڈ ایکسپو (ری- انویسٹ 2020) کا افتتاح کریں گے۔ برطانیہ کے تجارت، توانائی اور صنعتی حکمت عملی کے وزیر اور سی او پی- 26 کے صدر، اور ڈنمارک کے توانائی، افادیت (یوٹیلٹیز) اور آب و ہوا کے وزیر افتتاحی اجلاس میں موجود رہیں گے اور اس سے خطاب بھی کریں گے۔

جدید اور قابل تجدید توانائی کے وزیر جناب آر کے سنگھ نے بتایا ہے کہ تیسری ری-انویسٹمنٹ میٹنگ 2015 اور 2018 میں ہوئے پہلے دو ایڈیشنوں کی کامیابی کو آگے بڑھائے گی اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے بین الاقوامی فورم دستیاب کرائے گی۔ یہ اپنی توانائی کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے پائیدار طریقے سے قابل تجدید توانائی کے فروغ اور اس کو بڑھاوا دینے کی بھارت کی عہد بستگی سے بھی بین الاقوامی قابل تجدید توانائی برادری کو واقف کرائے گی۔

ری- انویسٹ 2020 میں قابل تجدید توانائی اور مستقبل کے توانائی متبادل پر دوروزہ ورچول کانفرنس اور صاف ستھری توانائی کے شعبے سے وابستہ مینوفیکچررس، ڈیولپرس، سرمایہ کاروں اور اختراعات کاروں کی نمائش بھی منعقد کی جائے گی۔ یہ انعقاد مختلف ممالک، ریاستوں، کاروباری گھرانوں اور تنظیموں کے لئے اپنی حکمت عملی، حصول یابیوں اور توقعات کی نمائش کرنے کا بہت اچھا موقع فراہم کرے گا۔ یہ بھارت، جو کہ آج دنیا میں سب سے بڑے قابل تجدید توانائی کے بازاروں میں سے ایک ہے، کے اہم حصص داروں کے ساتھ تعاون اور شراکت داری کی بھی سہولت فراہم کرے گا۔ دنیا بھر سے وزارتی وفود، عالمی صنعتی رہنما اور بڑی تعداد میں دیگر وفود کے اس انعقاد میں شرکت کی توقع ہے۔ اس پروگرام کے دوران ملک پر مرکوز اجلاس کے ساتھ بھی 20 مکمل اور تکنیکی اجلاس، ایک وزیر اعلیٰ کی سطح کا مخصوص مکمل اجلاس بھی ہوگا۔ تقریباً 80 بین الاقوامی مقررین سمیت تقریباً 200 مقررین مختلف اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ری- انویسٹ میں ایک نمائش بھی لگائی جائے گی، جس میں 100 سے زیادہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کی نمائش کریں گی۔

وزیر موصوف نے بتایا کہ گزشتہ 6 برسوں میں بھارت کی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں ڈھائی گنا اضافہ ہوا ہے اور شمسی توانائی کی صلاحیت 13 گنا بڑھ گئی ہے۔ ہماری بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع یعنی غیرحیاتیاتی ایندھن کے ذرائع کی حصے داری بھی بڑھ کر 136 گیگاواٹ یا ہماری کل صلاحیت کا 36 فیصد ہوگئی ہے۔ 2022 تک یہ حصے داری اور بڑھ کر تقریباً 220 گیگاواٹ ہوجائے گی، ایسی امید ہے۔ انھوں نے کووڈ-19 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے سبب کافی خلل واقع ہوا ہے، لیکن قابل تجدید توانائی کے شعبے میں قابل ذکر طریقے سے اپنی پیداوار میں اضافہ کیا ہے۔ قابل تجدید توانائی سے متعلق پروجیکٹوں کے لئے بولی کے عمل کی رفتار لاک ڈاؤن کے بعد گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے اور تیز ہوگئی ہے۔ بھارت میں گزشتہ 6 برسوں کے دوران تقریباً 4.7 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور بھارت قابل تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے معاملے میں ایک پسندیدہ مقام بن گیا ہے۔ بھارت میں 2030 کے لئے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ہر سال ایک لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کا بہترین موقع ہے۔ بھارت میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کی پالیسی بھی بہت نرم ہے، اس کے تحت غیرملکی سرمایہ کار اکیلے ہی خود یا بھارتی شراکت دار کے ساتھ جوائنٹ وینچر میں قابل تجدید توانائی پر مبنی بجلی پیدا کرنے والی اکائی بھارت میں لگاسکتے ہیں۔

زراعت کے شعبے میں قابل تجدید توانائی کے رول کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے بتایا کہ پی ایم- کے یو ایس یو ایم اسکیم کے تحت 20 لاکھ ڈیزل پمپوں کو سنگل سولر پمپ سے تبدیل کرنے کا ہدف ہے۔ اس کے علاوہ گرڈ سے جڑے 15 لاکھ پمپوں کو شمسی توانائی سے جوڑنے اور آئندہ 4 برسوں کے اندر کسانوں کی غیر زرعی زمین میں 10 گیگاواٹ غیرمرکوز شمسی توانائی پلانٹوں کی تنصیب کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اسکیم کے تحت زرعی فیڈروں کی شمس کاری کی پہل بھی کی جارہی ہے۔ اس سے ریاستوں پر سبسڈی کے بوجھ میں کافی کمی آئے گی۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ملک میں قابل تجدید توانائی کے شعبے کے لئے ’’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘‘ کے فائدے کو یقینی بنانے اور آنے والے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے مقصد سے حکومت نے سہولت دینے کے لئے متعدد پالیسی جاتی اقدامات کئے ہیں۔ ری- انویسٹ اس عمل میں بھی ایک قدم ہے، جو حکومت کی اسکیموں اور پروگراموں کے سلسلے میں اطلاعات دے گا اور صنعتوں، سرمایہ کاروں اور دیگر کے مل کر کام کرنے کے عمل میں تیزی لائے گی، جس سے بھارت میں قابل تجدید توانائی کے شعبے کے فروغ کی کہانی کو آگے بڑھایا جاسکے گا۔

تفصیلی معلومات کے لئے:

ویب سائٹ: https://re-invest.in/

 

******

م ن۔ م م۔ م ر

U-NO. 7366



(Release ID: 1674256) Visitor Counter : 2